🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب في مناقب أبي بكر وعمر رضى الله عنهما كليهما
باب: ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے مناقب و فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3675
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَال: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَصَدَّقَ فَوَافَقَ ذَلِكَ عِنْدِي مَالًا، فَقُلْتُ: الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا، قَالَ: فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟ " , قُلْتُ: مِثْلَهُ، وَأَتَى أَبُو بَكْرٍ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: " يَا أَبَا بَكْرٍ مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟ " , قَالَ: أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَسْبِقُهُ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا. قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا اور اتفاق سے ان دنوں میرے پاس مال بھی تھا، میں نے (دل میں) کہا: اگر میں ابوبکر رضی الله عنہ سے کسی دن آگے بڑھ سکوں گا تو آج کے دن آگے بڑھ جاؤں گا، پھر میں اپنا آدھا مال آپ کے پاس لے آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟ میں نے عرض کیا: اتنا ہی (ان کے لیے بھی چھوڑا ہوں) اور ابوبکر رضی الله عنہ وہ سب مال لے آئے جو ان کے پاس تھا، تو آپ نے پوچھا: ابوبکر! اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟ تو انہوں نے عرض کیا: ان کے لیے تو اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں، میں نے (اپنے جی میں) کہا: اللہ کی قسم! میں ان سے کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکوں گا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3675]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الزکاة 40 (1678) (تحفة الأشراف: 10390)، وسنن الدارمی/الزکاة 26 (1701) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن، المشكاة (6021)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥أسلم العدوي، أبو خالد، أبو زيد
Newأسلم العدوي ← عمر بن الخطاب العدوي
ثقة مخضرم
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله
Newزيد بن أسلم القرشي ← أسلم العدوي
ثقة
👤←👥هشام بن سعد القرشي، أبو سعيد، أبو عباد، أبو سعد
Newهشام بن سعد القرشي ← زيد بن أسلم القرشي
صدوق له أوهام
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم
Newالفضل بن دكين الملائي ← هشام بن سعد القرشي
ثقة ثبت
👤←👥هارون بن عبد الله البزاز، أبو موسى
Newهارون بن عبد الله البزاز ← الفضل بن دكين الملائي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3675
ما أبقيت لأهلك قلت مثله وأتى أبو بكر بكل ما عنده فقال يا أبا بكر ما أبقيت لأهلك قال أبقيت لهم الله ورسوله قلت والله لا أسبقه إلى شيء أبدا
سنن أبي داود
1678
ما أبقيت لأهلك قلت مثله قال وأتى أبو بكر بكل ما عنده فقال له رسول الله ما أبقيت لأهلك قال أبقيت لهم الله ورسوله قلت لا أسابقك إلى شيء أبدا
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3675 کے فوائد و مسائل
الشيخ مبشر احمد رباني حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ترمذي 3675
فوائد و مسائل
شارحین حدیث نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس جملے «ابقيت لهم الله و رسوله» کی شرح «رضا هما» سے کی ہے۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول کی رضا مندی۔‏‏‏‏
جیسا کہ ملا علی قاری حنفی نے مشکوٰۃ کی شرح مرقاۃ [10/ 379] اور علامہ عبدالرحمن محدث مبارکپوری نے تحفتہ الاحوذی [10/ 154] میں ذکر کیا ہے۔
↰ لہٰذا اسے غلط رنگ دے کر بیان کرنا درست نہیں ہے۔ ہر مسلمان اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت رکھتا ہے اور وہی کام کرنا پسند کر تا ہے جسے اللہ نے پسند کیا یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ جو مقام صدیقیت پر فائز تھے، انہوں نے بھی صدقہ کرتے وقت جو سب کچھ دے دیا تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہی میں دیا۔ اسی طرح کہا کہ گھر میں اللہ اور اس کے رسول کی رضا ہی چھوڑی ہے۔ والله اعلم!
[احکام و مسائل، حدیث/صفحہ نمبر: 25]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1678
سارا مال صدقہ کرنے کی اجازت کا بیان۔
اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم صدقہ کریں، اتفاق سے اس وقت میرے پاس دولت تھی، میں نے کہا: اگر میں کسی دن ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سبقت لے جا سکوں گا تو آج کا دن ہو گا، چنانچہ میں اپنا آدھا مال لے کر آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے؟، میں نے کہا: اسی قدر یعنی آدھا مال، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا سارا مال لے کر حاضر ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے؟، انہوں نے کہا میں ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں ۱؎، تب میں نے (دل میں) کہا: میں آپ سے کبھی بھی کسی معاملے میں نہیں بڑھ سکوں گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1678]
1678. اردو حاشیہ: -1جو حضرات متوکل اور دل کے غنی ہوں۔ کہ کل مال صدقہ کرنے کی وجہ سے آنے والے فقر کو بخوشی قبول اور برداشت کرسکتے ہوں۔ ان کو ایسے عمل کی رخصت ہے۔ ورنہ عام لوگوں کے لئے وہی حکم ہے۔ جو حدیث 16 76 اور اس کے فائدے میں بیان ہوا ہے۔ نیز اسی حدیث میں صاحبین کی فضیلت اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی افضلیت کا بیان ہے۔
➋ یہ حدیث نیکی کے کاموں میں مسابقت اور مقابلہ کرنے پر دلالت کرتی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1678]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 3675 in Urdu