آپ کے والد ماجد حضرت العلام مولانا اسماعیل صاحب رحمہ اللہ اکابر محدثین میں سے ہیں۔ کنیت ابوالحسن ہے۔ حضرت امام مالک رحمہ اللہ کے اخص تلامذہ میںسے ہیں۔ اور حضرت امام مالک رحمہ اللہ کے علاوہ حماد بن زید رحمہ اللہ اور ابو معاویہ ”عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ “ وغیرہ سے آپ نے احادیث روایت کی ہیں۔ احمد بن حفص رحمہ اللہ ، نصر بن حسین رحمہ اللہ وغیرہ آپ کے شاگرد ہیں۔
اس قدر پاکباز ، متدین ، محتاط تھے خاص طور پر اکل حلال میں کہ آپ کے مال میں ایک درم بھی ایسا نہ تھا جسے مشکوک یا حرام قرار دیا جا سکے۔ ان کے شاگرد احمد بن حفص کا بیان ہے کہ میں حضرت مولانا اسماعیل کی وفات کے وقت حاضر تھا۔ اس وقت آپ نے فرمایا کہ میں اپنے کمائے ہوئے مال میں ایک درم بھی مشتبہ چھوڑ کر نہیں چلا ہوں۔
امام بخاری قدس سرہ شہر بخارا میں بتاریخ 13شوال 194ھ نماز جمعہ کے بعد پیدا ہوئے۔ یہ فخر امت میں کم ہی لوگوں کو حاصل ہوا ہے کہ باپ بھی محدث ہو اور بیٹا بھی محدث بلکہ سیدالمحدثین۔ اللہ تعالیٰ نے یہ شرف حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کو نصیب فرمایا جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کو ”کریم ابن الکریم ابن کریم“ کہا گیا ہے اسی طرح حضرت امام بخاری رحمہ اللہ بھی محدث ابن المحدث قرار پائے۔ مگر صد افسوس کہ والد ماجد نے اپنے ہونہاز فرزند کا علمی زمانہ نہیں دیکھا اورآپ کو بچپن ہی میں داغ مفارقت دے گئے۔
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کی تربیت کی پوری ذمہ داری والدہ محترمہ پر آگئی جو نہایت ہی خدا رسیدہ عبادت گزار شب بیدار خاتون تھیں۔ والدین کی علمی شان و دینداری کے پیش نظر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت امام کی تعلیم وتربیت کس انداز کے ساتھہ ہوئی ہو گی۔