فنجار نے تاریخ بخارا میں اور لاسکائی نے شرح السنہ باب کرامات الاولیاء میں نقل کیا ہے کہ بچپن میں حضرت امام بخاری رحمہ اللہ علیہ کی بصارت جاتی رہی تھی۔ والدہ ماجدہ کے لئے اپنی بیوگی ہی کا صدمہ کم نہ تھا کہ اچانک یہ سانحہ پیش آیا ۔ اطباء علاج سے عاجز آ گئے ۔ والدہ ماجدہ اپنے یتیم بچے کی اس حالت پر رات دن روتیں اور دعا کرتیں۔ آخر ایک رات بعد عشاء مصلی ہی پر روتے اور دعا کرتے ہوئے آپ کو نیند آگئی۔ خواب میں خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تشریف لائے اور بشارت دی کہ ”تمہارے رونے اور دعا کرنے سے اللہ پاک نے تمہارے بچے کی بینائی درست کر دی ہے“ صبح ہوئی تو فی الواقع آپ کی آنکھیں درست تھیں۔ بعد میں اللہ پاک نے آپ کو اس قدر روشنی عطا فرمائی کہ ”تاریخ کبیر“ کا پورا مسودہ آپ نے چاندنی راتوں میں تحریر فرمایا۔
تاج الدین سبکی نے طبقات کبریٰ میں لکھا ہے کہ دھوپ اور گرمی کی شدت میں حضرت امام نے طلب علم کے لئے سفر فرمایا تو دوبارہ آپ کی بینائی ختم ہو گئی ۔ خراساں پہنچنے پر آپ نے کسی حکیم حاذق کے مشورہ سے سر کے بال صاف کرائے اور گل خطمی کا ضماد کیا۔ اس سے اللہ پاک نے آپ کو شفائے کامل عطا فرمائی۔ دس سال کی عمر تھی کہ آپ مکتبی تعلیم سے فارغ ہوگئے۔ اور اسی ننھی عمر سے ہی آپ کو احادیث نبوی یاد کرنے کا شوق دامن گیر ہو گیا اور آپ مختلف حلقہ ہائے درس میں شرکت فرمانے لگے۔