امام بخاری رحمہ اللہ خود فرماتے ہیں کہ جب میری عمر 18 سال کی تھی تو میں نے کتاب قضایائے صحابہ و تابعین نامی تصنیف کی ، پھر میں نے مدینہ منورہ میں روضہ منورہ کے پاس بیٹھہ کر تاریخ تصنیف کی جسے میں چاندنی راتوں میں لکھا کرتا تھا۔ پھر میں نے شام اور مصر اور جزیرہ اور بغداد و بصرہ کا سفر کیا۔
حاشد بن اسماعیل آپ کے ہم عصر کہتے ہیں کہ آپ بصرہ میں ہمارے ساتھہ حاضر درس ہوا کرتے تھے۔ محض سماعت فرماتے اور کچھہ نہ لکھتے ۔ آخر سولہ دن اسی طرح گزر گئے ایک دن میں نے آپ کو نہ لکھنے پر ملامت کی تو آپ بولے کہ اس عرصہ میں جو کچھہ تم نے لکھا ہے اسے حاضر کرو اور مجھہ سے ان سب کو برزبان سن لو۔۔ چنانچہ پندرہ ہزار احادیث سے زیادہ تھیں جن کو امام بخاری نے صرف اپنی یادداشت سے اس اہتمام سے سنایا کہ بہت سے مقامات پر ہم کو اپنی کتابت میں تصحیح کرنے کا موقعہ ملا۔
ابوبکر بن ابی عتاب ایک بزرگ محدث فرماتے ہیں کہ ہم سے امام بخاری نے حدیث لکھی اوراس وقت تک ان کی داڑھی مونچھہ کے بال نہیں نکلے تھے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محمد بن یوسف فریابی نے 212ھ میں انتقال فرمایا اس وقت امام بخاری کا سن اٹھارہ برس یا کم تھا۔
محمد بن ازہر سختیانی نے کہا کہ میں سلمان بن حرب کی مجلس میں تھا اور امام بخاری ہمارے شریک درس تھے مگر احادیث کو قلمبند نہیں کرتے تھے ۔ لوگوں نے اس پر استعجاب کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ بخارا جا کر اپنی یاد سے ان سب احادیث کو ضبط کر لیں گے۔
یوسف بن موسیٰ مروزی کہتے ہیں کہ میں بصرہ کی جامع مسجد میں تھا کہ حضرت امام المحدثین کی تشریف آوری کا اعلان کیا گیا۔ لوگ جوق در جوق آپ کے لائق شان استقبال کو جانے لگے جن میں مَیں بھی شامل ہوا۔ اس وقت حضرت امام بخاری عالم شباب میں تھے۔ بے حد حسین ، سیاہ ریش۔ آپ نے پہلے مسجد میں نماز ادا فرمائی پھر لوگوں نے ان کو درس حدیث کے لئے گھیر لیا۔ آپ نے دوسرے روز کے لئے درخواست منظور فرمالی۔ چنانچہ دوسرے دن بصرہ کے محدثین و حفاظ جمع ہوئے۔ آپ نے فرمایا کہ بصرہ والو! آج کی مجلس میں تم کو اہل بصرہ ہی کی روایت پیش کروں گا جو تمہارے ہاں نہیں ہیں۔ پھر آپ نے اس حدیث کا املاء کرا دیا ۔ حدثنا عبداللہ بن عثمان بن جبلة بن ابی رواد العقلی ببلدکم قال حدثنی ابی عن شعبة عن منصور وغیرہ عن سالم بن ابی الجعد عن انس بن مالک ان اعرابیا جآءالی النبی صی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ الرجل یحب القوم ۔۔۔ الحدیث حدیث املاء کرا کر ارشاد فرمایا کہ اے اہل بصرہ یہ حدیث تمہارے پاس منصور کے واسطہ نہیں۔ اور اسی شان کے ساتھہ آپ نے گھنٹوں اس مجلس کو بہت سی احادیث املاء کرائیں ۔ آپ کی قوت حافظ سے متعلق بہت سے واقعات مورخین نے نقل کئے ہیں۔ جن کو جمع کیا جائے تو ایک مستقل کتاب تیار ہو سکتی ہے۔