نیوز لیٹر سیرت امیر المومنین فی الحدیث حضرت امام بخاری رحمہ اللہ سوئم دوئم اول : جلد
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجئے۔

Warning: mysql_fetch_array(): supplied argument is not a valid MySQL result resource in /home/pakvspco/public_html/dn/islamicurdubooks.com/sahihalbukhari/imambukhari/templates/topbarrandomrec.php on line 26
سیرت امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ
خانگی پاکیزہ زندگی ، اخلاص واتباع سنت

مزاج میں انتہا درجہ کی رحمدلی اور نرمی اللہ نے بخشی تھی۔ ایک دفعہ آپ کا ایک مضارب (شریک تجارت، پارٹنر) آپ کے 25 ہزار درہم دبا بیٹھا ۔ آپ کے بعض شاگردوں(محمد بن ابی حاتم وغیرہ) نے کہا کہ وہ قرضدار شہر آمل میں آگیا ہے اب اس سے روپیہ وصول کرنے میں آسانی ہو گی۔ آپ نے فرمایا کہ میں قرض دار کو پریشانی میں ڈالنا نہیں چاہتا ۔ قرض دار خوف سے خوارزم چلا گیا۔ آپ سے کہا گیا کہ گورنر کی طرف سے ایک خط حاکم خوارزم کو لکھوا کر اسے گرفتار کرا دیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ میں حکومت سے ایک خط کے لئے طمع کروں گا اس کے عوض حکومت کل میرے دین میں طمع کرے گی میں یہ بوجھہ برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ بالآخر امام نے مقروض سے اس بات پر مصالحت کر لی کہ وہ ہر ماہ ایک مخصوص رقم حضرت کو ادا کیا کرے گا۔ لیکن وہ تمام روپیہ ضائع ہو گیا اور وہ امام کا ایک پیسہ بھی نہ واپس کر سکا۔ مگر آپ نے حلم و عفو کا دامن ہاتھہ سے نہیں چھوڑا ۔

امام کرمانی کا بیان ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ علیہ کئی کئی دن مسلسل بغیر کھائے پئے گزار دیا کرتے تھے۔ اور کبھی صرف دو تین بادام کھا لینا ہی ان کے لئے کافی ہو جاتا تھا۔ لیکن اس کے ساتھہ وہ بہت ہی سخی اور غرباء نواز و مساکین دوست انسان تھے۔ اپنی تجارت سے حاصل شدہ نفع طلبہ و محدثین پر صرف فرما دیتے تھے۔ ہر ماہ فقراء و مساکین و طلبہ و محدثین کے لئے پانچ سو درہم تقسیم فرمایا کرتے تھے۔ بے نفسی کا یہ عالم کہ ایک دفعہ آپ کی ایک لونڈی گھر میں اس طرف سے گزری جہاں آپ کاغذ ، دوات ، قلم وغیرہ رکھا کرتے تھے۔ اس باندی کی ٹھوکر سے آپ کی دوات کی ساری روشنائی فرش پر پھیل گئی۔ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حرکت پر باندی کو ٹوکا تو اس نے جواب دیا کہ جب کسی جانب راستہ ہی نہ ہو تو کیا کیا جائے۔ حضرت امام بخاری اس نامعقول جواب سے برانگیختہ نہیں ہوئے بلکہ ہاتھہ دراز کر کے فرمایا کہہ جاﺅ میں نے تم کو آزاد کر دیا۔ اس پر آپ سے پوچھا گیا کہ اس نے تو ناراضگی کا کام کیا تھا آپ نے اسے آزاد کیوں فرما دیا آپ نے کہا اس کے اس کام سے میں نے اپنے نفس کی اصلاح کر لی اور اسی خوشی میں اسے پروانہ آزادی دے دیا۔

ایک مرتبہ آپ نے ابومعشر ایک نابینا بزرگ سے فرمایا کہ اے ابو معشر تم مجھے معاف کر دو۔ انہوں نے حیرت واستعجاب کے ساتھہ کہا کہ حضرت یہ معافی کس بات کی ہے؟ آپ نے بتلایا کہ آپ ایک مرتبہ حدیث بیان کرتے ہوئے فرط مسرت میں انوکھے انداز سے اپنے سر اور ہاتھوں کو حرکت دے رہے تھے۔ جس پر مجھہ کو ہنسی آگئی۔ میں آپ کی شان میں اسی گستاخی کے لئے آپ سے معافی کا طلبگار ہوں۔ ابومعشر نے جواب میں عرض کیا کہ اے حضرت امام آپ سے کسی قسم کی باز پرس نہیں ہے۔

خالد بن احمد ذہلی حاکم بخارا نے ایک مرتبہ آپ کی خدمت میں درخواست بھیجی کہ آپ دربار شاہی میں تشریف لا کر مجھے اور میرے شہزادوں کو صحیح بخاری اور تاریخ کا درس دیا کریں۔ آپ نے قاصد کی زبانی کہلا بھیجا کہ میں آپ کے دربار میں آکر شاہی خوشامدیوں کی فہرست میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا اور نہ مجھے علم کی بے قدری گوارا ہے۔ حاکم نے دوبارہ کہلوایا کہ پھرشاہزادوں کے لئے کوئی وقت مخصوص فرما دیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ میراث نبوت میں کسی امیر غریب کا امتیاز نہیں ہے۔ اس لئے میں اس سے بھی معذور ہوں۔ اگر حاکم بخارا کو میرا یہ جواب ناگوار خاطر ہو تو جبرا میرا درس حدیث روک سکتے ہیں تاکہ میں اللہ تعالیٰ کے دربار یں عذر خواہی کر سکوں۔ ان جوابات سے حاکم بخارا سخت برہم ہوئے اور اس نے حضرت امام کو بخارا سے نکالنے کی سازش کی۔

امام بخاری رحمہ اللہ
صحیح بخاری (جلد اول)
کتاب الوحی
کتاب الایمان
کتاب العلم
کتاب الوضو
کتاب الغسل
کتاب الحیض
کتاب التیمم
کتاب الصلوٰۃ
مواقیت الصلوات
کتاب الاذان
کتاب الاذان (صفۃ الصلوٰۃ)
محترم قارئین کرام:
السلام علیکم
صحیح بخاری انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے جیسے جیسے ویب سائٹ کے حوالے سے صفحات تیار ہو جاتے ہیں نیٹ پر پیش کر دئیے جاتے ہیں۔ سائٹ پر کیا نیا اضافہ ہوا ہے یہ جاننے کے لیے ہم وقتا فوقتا نیوز لیٹر بھیجتے ہیں۔ آپ بھی سائن اپ کیجئے تاکہ آپ بھی سائٹ پر پیش کی جانے والی نئی احادیث مبارکہ کے مطلق اگاہی حاصل کر سکیں۔
نیوز لیٹر
 
Copyright 2007