علم الاسناد میں امام بخاری رحمہ اللہ علیہ کی مہارت تامہ
مشہور مقولہ ہے الا سناد من الدین ولو لا الاسناد لقال من شآءماشآءیعنی اسناد کا علم بھی دینی علوم میں داخل ہے ۔ اگر اسناد نہ ہوتی تو جو شخص جو کچھہ چاہتا کہہ ڈالتا ۔ اسی لئے محدث کامل کے لئے ضروری ہے کہ وہ متون احادیث کے ساتھہ تمام رواة حدیث کے بارے میں ان کی پیدائش اور وفات کے اوقات کی خبر رکھتا ہو۔ ان کے باہمی ملاقات کے سنین یاد ہوں۔ ان کے القاب اور کنیتیں یاد ہوں۔ اور جملہ راویوں کے الفاظ حدیث بھی پوری طرح ضبط ہوں۔ امام بخاری رحمہ اللہ علیہ اس فن میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔
حافظ احمد بن حمدون کا بیان ہے کہ میں عثمان بن ابوسعید بن مروان کے جنازہ میں حاضر ہوا۔ امام بخاری بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔ اس موقع پر امام محمد بن یحیٰی ذہلی نے امام بخاری سے اسمائے رواة اور علل احادیث کے سلسلہ میں کچھ پوچھا۔ امام بخاری نے اس قدر برجستگی سے جوابات عنایت فرمائے جیسے کوئی قل ھو اللہ احد تلاوت کرتا ہو۔
اصطلاح حدیث میں علت قادحہ اس پوشیدہ سبب کا نام ہے جس سے حدیث کی صحت مشکوک اور مجروح ہو جاتی ہے۔ علم حدیث میں کمال حاصل کرنے کے لئے صرف یہی ایک چیز ایسی اہم ہے جس کے لئے بے پناہ قوت حافظہ، ذہن رسا اور نقد و انتقاد کی کامل مہارت درکار ہے۔ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ علیہ کو باری تعالیٰ نے ان جملہ علوم میں مہارت تامہ عطافرمائی تھی۔
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نیشاپور میں مقیم تھے۔ اس زمانہ کا واقعہ ابو احمد اعمش بیان کرتے ہیں کہ میں امام بخاری کی مجلس میں حاضر ہوا ۔ امام مسلم تشریف لائے۔ اور ایک معلق حدیث کا درمیانی حصہ سنا کر پوچھا کہ یہ حدیث آپ کے پاس ہو تو اسے متصل فرما دیجئے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسی وقت حدیث کو متصل السند پڑھ کر سنا دیا۔
اسی مجلس کا قصہ ہے کہ کسی نے یہ حدیث مع سند پڑھی ۔ حجاج بن محمد عن ۔ بن جریج عن موسی بن عقبة عن سھیل ابن ابی صالح عن ابیہ عن ابی ھریرة عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کفارة المجلس اذا قام العبد ان یقول سبحنک اللھم وبحمدک استغفرک واتوب الیک۔ سن کر امام مسلم بولے کہ اس حدیث کی اس سے اونچی سند ساری دنیا میں نہیں ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا ٹھیک ہے مگر اس کی سند معلول ہے۔ یہ سن کر امام مسلم رحمہ اللہ علیہ حیرت میں رہ گئے اور فرمانے لگے کہ علت سے آگاہی فرمائیے۔ حضرت امام نے فرمایا کہ رہنے دیجئے جس پر اللہ نے پردہ ڈال رکھا ہے۔ آپ کو بھی اس پر پردہ ڈالنا چاہیے۔ مگر امام مسلم نے اصرار فرمایا تو آپ نے فرمایا ۔ اچھا سنو غیر معلول سلسلہ سند یوں ہے۔ حدثنا موسٰی بن اسمٰعیل حدثنا وھیب حدثنا موسی بن عقبة عن عون بن عبداللہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کفارة المجلس ۔۔۔ اذا الحدیث ۔ حدیث کی علت کے سلسلہ میں حضرت امام نے بتلایا کہ موسیٰ بن عقبہ کی کوئی حدیث سہیل سے مرفوع نہیں ہے۔ پھر اس کے لئے حضرت امام نے ثبوت پیش فرمایا۔ جسے سب حاضرین مجلس علمائے حدیث نے تسلیم کیا۔ (فتح الباری)