🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري
ارجحیت کی وجوہ
تحریر: حضرت مولانا مفتی محمد عبدۃ الفلاح حفظ اللہ
(الف) اسناد صحیح کا مدار اتصال سند اور رواۃ کے عدل ہو نے پر ہے اور اتصال کے سلسلہ میں امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط امام مسلم سے سخت ہے امام بخاری رحمہ اللہ معاصرہ کے علاوہ لقاء کی تصریح کو بھی ضروری قرار دیتے ہیں لیکن امام مسلم صرف معاصرۃ اور امکان لقاء کو کافی سمجھتے ہیں امام مسلم نے اپنی جگہ پر صحیح کہا ہے مگر امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط اتصال زیادہ واضح ہے۔
(ب) اور عدالت وضبط کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ چار سو پینتیس رواۃ میں امام مسلم سے منفرد ہیں جن میں سے صرف اسی (80) رواۃ پر جرح کی گئی ہے اس کے بالمقابل امام مسلم چھ سو روا ۃ میں منفرد ہیں اور ان میں ایک سو ساٹھ (160) رواۃ متکلم فیہ ہیں۔
(ج) صحیح بخاری میں جن رواۃ پر جرح کی گئی ہے ان سے امام بخاری رحمہ اللہ بہت کم احادیث لاتے ہیں اور کوئی بھی ایسا صاحب نسخہ نہیں ہے جس سے اکثر یا کل روایات درج کر دی ہوں ماسوائے «عكرمه عن ابن عباس رضي الله عنه» کے نسخہ کے کہ صحیح بخاری میں اس نسخہ سے روایات موجود ہیں جبکہ امام مسلم اس کی روایت مقروناً لاتے ہیں اور امام مالک نے اس نسخہ سے روایت درج ہی نہیں کی۔ مگر عکرمہ کے متعلق مرقوم ہے: آپ ثقہ حافظ اور تفسیر کے عالم تھے اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے آپ کی تکذیب ثابت نہیں اور نہ ہی کسی بدعت کا صدور آپ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہوا ہے لیکن امام مسلم ان نسخوں سے روایات اکثر اپنی صحیح میں لے آتے ہیں مثلاً:
«ابوالزبير عن جابر ـ رضي الله تعالى عنه ـوسهيل عن أبيه عن أبى هريرة ـ رضي الله تعالى عنه ـ وحماد بن سلمة عن ثابت عن أنس ـ رضي الله تعالى عنه ـ والعلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبى هريرة رضي الله تعالى عنه ونحوهم .»
(د) امام بخاری رحمہ اللہ جن روا ۃ سے منفرد ہیں ان میں اکثر وہ ہیں جو امام بخاری رحمہ اللہ کے شیوخ میں سے ہیں اور امام بخاری رحمہ اللہ ان کے احوال اور ان کی احادیث کو خوب سمجھتے ہیں اس کے بالمقابل امام مسلم جن متکلم فیہ روا ۃ سے احادیث لا تے ہیں وہ امام مسلم سے متقدم ہیں اور امام مسلم ان کے احوال سے بالشمافہ واقف نہیں ہیں بلکہ انہوں نے ان کے نسخوں سے روا یت اخذا کر کے اپنی صحیح میں درج کر دی ہیں۔
حافظ ابن حجر لکھتے ہیں:
«ولا شك أن المرء أشد معرفة بحديث شيوخه و بصحيح حديثهم من ضعيفه ممن تقدم عن عصرهم .»
اور اس میں شک و شبہ نہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ اپنے اساتذہ کی احادیث کی زیادہ معرفت رکھتے تھے اور آپ ان کی احادیث میں صحیح و ضعیف کی زیادہ پہچان رکھتے تھے ان لوگو ں سے جو کہ آپ سے پہلے ہو گزرے تھے۔
(ھ) امام بخاری رحمہ اللہ متکلم فیہ روا ۃ کی احادیث متابعات اور شوہد میں لاتے ہیں جو کہ اصل کتاب کے موضوع سے خارج ہیں اس کے بالمقابل امام مسلم وہ روایات اصول میں لے آتے ہیں اور ان سے احتجاج بھی کرتے ہیں۔
ان وجوہ خمسہ کی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ صحیح بخاری اصحیت کے اعتبار سے صحیح مسلم پر مقدم ہے۔
. . . اصل مضمون دیکھیں . . .
شمارہ محدث جنوری 1993، امام بخاری اور الجامع الصحیح