صحيح البخاري
کیا امام بخاری رحمہ اللہ کا بیٹا بھی تھا؟
کیا امام بخاری رحمہ اللہ کا بیٹا بھی تھا؟:
❀ حافظ معاذ بن زبیر علی زئی حفظہ اللہ لکھتے ہیں:
”امام نجم الدین عمر النسفی (متوفی 537ھ) کی کتاب القند فی ذکر علماء سمرقند کے حوالے سے والد محترم رحمہ اللہ نے ایک ویڈیو بیان میں فرمایا کہ امام بخاری رحمہ اللہ کا بیٹا بھی تھا۔“ مثلاً دیکھئے: [القند فی ذکر علماء سمرقند: ص 348، 443]
◈ فائدہ:
مجھے ابو ماہر عدنان الطاف بھائی حفظہ اللہ نے بتایا کہ:
”شیخ رحمہ اللہ نے اس سے رجوع کر لیا تھا۔“
وہ مزید فرماتے ہیں:
”میں شیخ رحمہ اللہ کے ساتھ پشاور گیا، جہاں ہم کتب کی خریداری کے لیے دار الکتاب کے وسیع گودام میں بھی گئے، وہاں شیخ رحمہ اللہ نے مجھے بتایا کہ مجھے القند فی ذکر علماء سمرقند کی ایک عبارت سے اشتباہ ہوا کہ امام بخاری کے بیٹے کا ذکر ہے، جبکہ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ کوئی اور ہیں، امام بخاری کے بیٹے نہیں۔“ (انتھی کلامہ)
میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ وہ میرے والد محترم رحمہ اللہ کو جنت الفردوس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت نصیب فرمائے، آمین۔ آپ ایک عظیم محقق اور علمِ اسماء الرجال کے ماہر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی حافظہ عطا فرمایا تھا۔ آپ نے قلیل عرصے میں ایسے عظیم الشان علمی کارنامے انجام دیئے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔
کتاب القند فی ذکر علماء سمرقند میں موجود تفصیلات:
➊ صفحہ (348) پر موجود روایت:
«في شہر ربيع الآخر سنة سبع وخمسين وأربعمائة قال: حدثنا إسماعيل بن موسی البیکندي، قال: حدثنا الإمام أبو بكر أحمد بن محمد بن إسماعيل البخاري، قال: حدثنا أبو مطيع مكحول بن الفضل النسفي۔۔۔» [القند فی ذکر علماء سمرقند: ص 348]
➋ صفحہ (443) پر موجود روایت:
«أخبرنا طاہر بن الحسين المطوعي، قال: أخبرنا الإمام أبو بكر أحمد بن محمد بن إسماعيل البخاري، قال: أخبرنا مكحول بن الفضل النسفي۔۔۔» [القند فی ذکر علماء سمرقند: ص 443]
نتیجہ:
ان حوالہ جات سے واضح ہوتا ہے کہ امام ابو بکر احمد بن محمد بن اسماعیل البخاری کے شیخ کا نام ”أبو مطیع مکحول بن الفضل النسفی“ تھا اور ان کے شاگردوں کے نام ”إسماعیل بن موسی البیکندی“ اور ”طاہر بن الحسین المطوعی“ ہیں۔
دیگر کتب میں روایات:
◈ فضائل المستغفری (41):
«أخبرنا أبو بكر أحمد بن محمد بن إسماعيل، حدثنا أبو مطيع مكحول بن الفضل»
◈ فضائل المستغفری (481):
«أخبرنا أبو بكر أحمد بن محمد بن إسماعيل، حدثنا أبو مطيع مكحول بن الفضل»
◈ الزہد والرقائق للخطیب البغدادی (11):
«أخبرنا عبد الرحمن بن محمد بن فضالة بالري، أخبرنا أحمد بن محمد بن إسماعيل، ببخاری، قال: حدثنا أبو مطيع مكحول بن الفضل النسفي»
◈ دوسرے مقام (الزہد والرقائق: 45) میں:
«أخبرنا عبد الرحمن بن فضالة، بالري، أخبرنا أحمد بن محمد بن إسماعيل البخاري، حدثنا مكحول بن الفضل النسفي»
◈ ذیل تاریخ بغداد، تاریخ ابن نجار (20/ 99):
«أنبأ أبو طاہر محمد بن علي الإسماعيلي، أنبأ جدي الإمام أبو بكر أحمد بن محمد بن إسماعيل، حدثنا أبو مطيع مكحول بن الفضل النسفي»
◈ موسوعہ القبائل العربیہ (6/ 383):
«أخبرنا طاہر بن الحسين المطوعي، قال: أخبرنا الإمام أبو بكر أحمد بن محمد بن إسماعيل البخاري، قال: أخبرنا مكحول بن الفضل النسفي»
➌ یہ علیحدہ ”متاخر“ امام ہیں، یہ امام بخاری کی وفات کے (45) سال بعد پیدا ہوئے، انھیں ”اسماعیلی“ اور ”الافرخشی“ بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا نام ”أبو بکر أحمد بن محمد بن إسماعیل البخاری الإسماعیلی الأفرخشی النسفی“ ہے۔
❀ امام سمعانی رحمہ اللہ نے فرمایا:
«وكتاب اللؤلئيات لأبي مطيع مكحول بن الفضل النسفي، بروايتہ عن أبي القاسم ميمون بن علي، عن أبي بكر أحمد بن محمد بن إسماعيل البخاري الإسماعيلي، عن المصنف۔۔۔» [المنتخب من معجم شيوخ السمعانی: ص 490]
[الجواہر المضیۃ: 1/ 466]
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے مکحول مذکور کے ترجمہ میں فرمایا:
«روی عنہ: أبو بكر أحمد بن محمد بن إسماعيل، شيخ لجعفر المستغفري» [سیر أعلام النبلاء: 15/ 33]
کتبِ انساب سے تخریج:
❀ امام سمعانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«وأبو بكر أحمد بن محمد بن إسماعيل بن إسحاق بن إبراہيم بن إسرائيل الإسماعيلي، من أہل بخاری، كان فقيہًا عالمًا۔۔۔ ووفاتہ في رمضان سنة 384 ہـ» [الأنساب: 1/ 253]
نیز فرمایا:
«وكان يعرف بالإسماعيلي، وقد ذكرتُہ قبل ہذا۔۔۔ وسمع منہ جماعة، ومات في شہر رمضان سنة 384 ہـ، وكانت ولادتہ سنة 301 ہـ، عاش أربعاً وثمانين سنة» [الأنساب: تحت الأفرخشی]
❀ یاقوت الحموی رحمہ اللہ نے فرمایا:
«أبو بكر أحمد بن محمد بن إسماعيل بن إسحاق بن ابراہيم الأفرخشي البخاري، كان رئيس العلماء۔۔۔ توفي سنة 384 ہـ» [معجم البلدان: 1/ 227]
❀ ابن الاثیر الجزری رحمہ اللہ نے فرمایا:
«أبو بكر أحمد بن محمد بن إسماعيل بن إسحاق بن إبراہيم بن إسرائيل، الإسماعيلي البخاري، توفي في رمضان سنة 384 ہـ» [اللباب: 1/ 59]
خلاصہ:
➍ امام ابو بکر احمد بن محمد بن اسماعیل البخاری، جنھوں نے مکحول بن الفضل النسفی سے روایت کی، وہ الإسماعیلی البخاری الأفرخشی ہیں، جیسا کہ کتبِ انساب سے معلوم ہوتا ہے۔ یہ (301) ہجری کو پیدا ہوئے جبکہ امام بخاری رحمہ اللہ (256) ہجری کو فوت ہو چکے تھے۔ لہٰذا، ان کا امام بخاری رحمہ اللہ کا بیٹا ہونا محال ہے۔
◈ امام بخاری کا مکمل نام: محمد بن إسماعیل بن ابراہیم بن المغیرہ بن البردِذبہ البخاری الجعفی
◈ ان کا نام: ابو بکر احمد بن محمد بن اسماعیل بن اسحاق بن ابراہیم بن اسرائیل الاسماعیلی الافرخشی
◈ امام بخاری کی وفات: 256 ہـ
◈ ان کی پیدائش: 301 ہـ اور ان کی وفات: 384 ہـ
اس تمہید کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ ”ابو بکر احمد بن محمد بن اسماعیل البخاری“ کا امام بخاری رحمہ اللہ سے کوئی نسبی یا خاندانی تعلق نہیں ہے۔
❀ حافظ معاذ بن زبیر علی زئی
[19 جون 2025ء]
❀ حافظ معاذ بن زبیر علی زئی حفظہ اللہ لکھتے ہیں:
”امام نجم الدین عمر النسفی (متوفی 537ھ) کی کتاب القند فی ذکر علماء سمرقند کے حوالے سے والد محترم رحمہ اللہ نے ایک ویڈیو بیان میں فرمایا کہ امام بخاری رحمہ اللہ کا بیٹا بھی تھا۔“ مثلاً دیکھئے: [القند فی ذکر علماء سمرقند: ص 348، 443]
◈ فائدہ:
مجھے ابو ماہر عدنان الطاف بھائی حفظہ اللہ نے بتایا کہ:
”شیخ رحمہ اللہ نے اس سے رجوع کر لیا تھا۔“
وہ مزید فرماتے ہیں:
”میں شیخ رحمہ اللہ کے ساتھ پشاور گیا، جہاں ہم کتب کی خریداری کے لیے دار الکتاب کے وسیع گودام میں بھی گئے، وہاں شیخ رحمہ اللہ نے مجھے بتایا کہ مجھے القند فی ذکر علماء سمرقند کی ایک عبارت سے اشتباہ ہوا کہ امام بخاری کے بیٹے کا ذکر ہے، جبکہ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ کوئی اور ہیں، امام بخاری کے بیٹے نہیں۔“ (انتھی کلامہ)
میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ وہ میرے والد محترم رحمہ اللہ کو جنت الفردوس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت نصیب فرمائے، آمین۔ آپ ایک عظیم محقق اور علمِ اسماء الرجال کے ماہر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی حافظہ عطا فرمایا تھا۔ آپ نے قلیل عرصے میں ایسے عظیم الشان علمی کارنامے انجام دیئے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔
کتاب القند فی ذکر علماء سمرقند میں موجود تفصیلات:
➊ صفحہ (348) پر موجود روایت:
«في شہر ربيع الآخر سنة سبع وخمسين وأربعمائة قال: حدثنا إسماعيل بن موسی البیکندي، قال: حدثنا الإمام أبو بكر أحمد بن محمد بن إسماعيل البخاري، قال: حدثنا أبو مطيع مكحول بن الفضل النسفي۔۔۔» [القند فی ذکر علماء سمرقند: ص 348]
➋ صفحہ (443) پر موجود روایت:
«أخبرنا طاہر بن الحسين المطوعي، قال: أخبرنا الإمام أبو بكر أحمد بن محمد بن إسماعيل البخاري، قال: أخبرنا مكحول بن الفضل النسفي۔۔۔» [القند فی ذکر علماء سمرقند: ص 443]
نتیجہ:
ان حوالہ جات سے واضح ہوتا ہے کہ امام ابو بکر احمد بن محمد بن اسماعیل البخاری کے شیخ کا نام ”أبو مطیع مکحول بن الفضل النسفی“ تھا اور ان کے شاگردوں کے نام ”إسماعیل بن موسی البیکندی“ اور ”طاہر بن الحسین المطوعی“ ہیں۔
دیگر کتب میں روایات:
◈ فضائل المستغفری (41):
«أخبرنا أبو بكر أحمد بن محمد بن إسماعيل، حدثنا أبو مطيع مكحول بن الفضل»
◈ فضائل المستغفری (481):
«أخبرنا أبو بكر أحمد بن محمد بن إسماعيل، حدثنا أبو مطيع مكحول بن الفضل»
◈ الزہد والرقائق للخطیب البغدادی (11):
«أخبرنا عبد الرحمن بن محمد بن فضالة بالري، أخبرنا أحمد بن محمد بن إسماعيل، ببخاری، قال: حدثنا أبو مطيع مكحول بن الفضل النسفي»
◈ دوسرے مقام (الزہد والرقائق: 45) میں:
«أخبرنا عبد الرحمن بن فضالة، بالري، أخبرنا أحمد بن محمد بن إسماعيل البخاري، حدثنا مكحول بن الفضل النسفي»
◈ ذیل تاریخ بغداد، تاریخ ابن نجار (20/ 99):
«أنبأ أبو طاہر محمد بن علي الإسماعيلي، أنبأ جدي الإمام أبو بكر أحمد بن محمد بن إسماعيل، حدثنا أبو مطيع مكحول بن الفضل النسفي»
◈ موسوعہ القبائل العربیہ (6/ 383):
«أخبرنا طاہر بن الحسين المطوعي، قال: أخبرنا الإمام أبو بكر أحمد بن محمد بن إسماعيل البخاري، قال: أخبرنا مكحول بن الفضل النسفي»
➌ یہ علیحدہ ”متاخر“ امام ہیں، یہ امام بخاری کی وفات کے (45) سال بعد پیدا ہوئے، انھیں ”اسماعیلی“ اور ”الافرخشی“ بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا نام ”أبو بکر أحمد بن محمد بن إسماعیل البخاری الإسماعیلی الأفرخشی النسفی“ ہے۔
❀ امام سمعانی رحمہ اللہ نے فرمایا:
«وكتاب اللؤلئيات لأبي مطيع مكحول بن الفضل النسفي، بروايتہ عن أبي القاسم ميمون بن علي، عن أبي بكر أحمد بن محمد بن إسماعيل البخاري الإسماعيلي، عن المصنف۔۔۔» [المنتخب من معجم شيوخ السمعانی: ص 490]
[الجواہر المضیۃ: 1/ 466]
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے مکحول مذکور کے ترجمہ میں فرمایا:
«روی عنہ: أبو بكر أحمد بن محمد بن إسماعيل، شيخ لجعفر المستغفري» [سیر أعلام النبلاء: 15/ 33]
کتبِ انساب سے تخریج:
❀ امام سمعانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«وأبو بكر أحمد بن محمد بن إسماعيل بن إسحاق بن إبراہيم بن إسرائيل الإسماعيلي، من أہل بخاری، كان فقيہًا عالمًا۔۔۔ ووفاتہ في رمضان سنة 384 ہـ» [الأنساب: 1/ 253]
نیز فرمایا:
«وكان يعرف بالإسماعيلي، وقد ذكرتُہ قبل ہذا۔۔۔ وسمع منہ جماعة، ومات في شہر رمضان سنة 384 ہـ، وكانت ولادتہ سنة 301 ہـ، عاش أربعاً وثمانين سنة» [الأنساب: تحت الأفرخشی]
❀ یاقوت الحموی رحمہ اللہ نے فرمایا:
«أبو بكر أحمد بن محمد بن إسماعيل بن إسحاق بن ابراہيم الأفرخشي البخاري، كان رئيس العلماء۔۔۔ توفي سنة 384 ہـ» [معجم البلدان: 1/ 227]
❀ ابن الاثیر الجزری رحمہ اللہ نے فرمایا:
«أبو بكر أحمد بن محمد بن إسماعيل بن إسحاق بن إبراہيم بن إسرائيل، الإسماعيلي البخاري، توفي في رمضان سنة 384 ہـ» [اللباب: 1/ 59]
خلاصہ:
➍ امام ابو بکر احمد بن محمد بن اسماعیل البخاری، جنھوں نے مکحول بن الفضل النسفی سے روایت کی، وہ الإسماعیلی البخاری الأفرخشی ہیں، جیسا کہ کتبِ انساب سے معلوم ہوتا ہے۔ یہ (301) ہجری کو پیدا ہوئے جبکہ امام بخاری رحمہ اللہ (256) ہجری کو فوت ہو چکے تھے۔ لہٰذا، ان کا امام بخاری رحمہ اللہ کا بیٹا ہونا محال ہے۔
◈ امام بخاری کا مکمل نام: محمد بن إسماعیل بن ابراہیم بن المغیرہ بن البردِذبہ البخاری الجعفی
◈ ان کا نام: ابو بکر احمد بن محمد بن اسماعیل بن اسحاق بن ابراہیم بن اسرائیل الاسماعیلی الافرخشی
◈ امام بخاری کی وفات: 256 ہـ
◈ ان کی پیدائش: 301 ہـ اور ان کی وفات: 384 ہـ
اس تمہید کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ ”ابو بکر احمد بن محمد بن اسماعیل البخاری“ کا امام بخاری رحمہ اللہ سے کوئی نسبی یا خاندانی تعلق نہیں ہے۔
❀ حافظ معاذ بن زبیر علی زئی
[19 جون 2025ء]