🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري
کیا امام بخاری بچپن میں نابینا ہو گئے تھے؟
کیا امام بخاری بچپن میں نابینا ہو گئے تھے؟:
❀ محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
◈ سوال: مولانا ارشاد الحق اثری صاحب لکھتے ہیں:
حضرت امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ کی صغر سنی میں آنکھیں خراب ہو گئیں۔ جس کے نتیجہ میں ان کی بصارت جاتی رہی، امام بخاری کی والدہ محترمہ جو بڑی عابدہ اور صاحبِ کرامات خاتون تھیں، دعا کیا کرتیں کہ اے اللہ! میرے بیٹے کی بینائی درست کر دو۔ ایک رات خواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زیارت ہوتی ہے۔ آپ فرما رہے تھے کہ تمہاری کثرتِ دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے تمہارے بیٹے کی بینائی واپس لوٹا دی ہے۔ چنانچہ اس شب کو جب وہ بیدار ہوئیں تو دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے فرزند کی بینائی درست کر دی۔ [تاریخ بغداد: ص 10، ج 2] [ہدی الساری: ص 478]
کیا یہ واقعہ بلحاظِ سند صحیح ہے؟ اس کی تحقیق فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
الجواب:
اس روایت کی سند و متن تاریخ بغداد میں درج ذیل ہے:
«حدثني أبو القاسم عبد اللہ بن أحمد بن علي السوذرجاني بأصبھان من لفظہ قال: نبأنا علي بن محمد بن الحسین الفقیہ قال: نبأنا خلف بن محمد الخیام قال: سمعت أبا محمد عبد اللہ بن محمد بن إسحاق السمسار یقول: سمعت شیخي یقول: ذھبت عینا محمد بن إسماعیل في صغرہ فرأت والدتہ في المنام إبراھیم الخلیل علیہ السلام، فقال لھا: یاھذہ قدرداللہ علي ابنک بصرہ لکثرۃ بکائک أو لکثرۃ دعائک، قال: فأصبح وقد رداللہ علیہ بصرہ»
[10/2، ت: 424]
اب اس سند کے راویوں کی تحقیق درج ذیل ہے:
➊ شیخ، یہ مجہول ہے۔
➋ ابو محمد المؤذن عبد اللہ بن محمد بن اسحاق السمسار کے حالات نہیں ملے۔
➌ خلف بن محمد الخیام سخت ضعیف راوی ہے۔ اس کے بارے میں امام خلیلی نے فرمایا:
وھو ضعیف جدًا (اور وہ سخت ضعیف ہے)۔ [الارشاد للخلیلی: ج 3، ص 972] [لسان المیزان: 4/ 404]
اس پر امام حاکم نیشاپوری اور ابن ابی زرعہ نے جرح کی ہے۔ ابو سعد الادریسی نے بھی اس کی تلیین (تضعیف) کی ہے۔
➍ علی بن محمد بن الحسین الفقیہ کے حالات نہیں ملے۔
➎ ابو القاسم عبد اللہ بن احمد بن علی السوذر جانی کے حالات نہیں ملے۔
نتیجہ: یہ سند سخت ضعیف ہے۔
◈ حافظ ابن حجر العسقلانی نے ہدی الساری مقدمہ فتح الباری میں لکھا ہے:
فروي غنجار في تاریخ بخاری واللالکائي في شرح السنۃ في باب کرامات الأولیاء منہ أن محمد بن إسماعیل ذھبت عیناہ في صغرہ [ص 478]
غنجار والی روایت کی سند درج ذیل ہے:
«أنا خلف بن محمد قال: سمعت أحمد بن محمد بن الفضل البلخي یقول: سمعت أبي یقول: ذھبت عینا محمد بن إسماعیل في صغرہ»
[تغلیق التعلیق: 5/388]
◈ ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن محمد بن سلیمان بن کامل البخاری (غنجار) کے حالات سیر اعلام النبلاء [17/304] وغیرہ میں ہیں۔
◈ خلف بن محمد الخیام سخت ضعیف ہے جیسا کہ ابھی گزرا ہے۔
◈ احمد بن محمد بن الفضل البلخی کے حالات بھی مطلوب ہیں۔
تنبیہ: محمد بن احمد بن سلیمان (غنجار) والی روایت امام لالکائی نے کرامات اولیاء اللہ میں: أخبرنا أحمد بن محمد بن حفص عن غنجار کی سند سے بیان کر رکھی ہے [ص 290، ح: 229] لیکن نسخہ مطبوعہ میں کمپوزر یا ناسخ کی غلطی کی وجہ سے سند میں تصحیف و تحریف واقع ہو چکی ہے۔
نتیجہ: غنجار اور لالکائی والی روایت خلف بن محمد الخیام کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔ لہٰذا یہ سارا قصہ ثابت نہیں ہے۔
اصل مضمون کے لیے دیکھئے:
[فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام: جلد 2، ص 443 تا 445]