السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3185. -- باب: يحرم من الرضاع ما يحرم من الولادة وأن لبن الفحل يحرم
-- باب: رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب (پیدائش) سے حرام ہوتے ہیں، اور اس بات کا بیان کہ ”لبن الفحل“ (یعنی جس مرد کے نطفے کی وجہ سے عورت کو دودھ اترا ہو وہ) بھی حرمت کا باعث ہے۔
حدیث نمبر: 15615
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، نا الْحُمَيْدِيُّ، نا سُفْيَانُ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ لَكَ فِي دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ؟ قَالَ:" فَأَفْعَلُ مَاذَا؟" قَالَتْ: قُلْتُ: تَنْكِحُهَا قَالَ:" أَتُحِبِّينَ ذَلِكَ؟" قُلْتُ: لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ يَشْرَكُنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي قَالَ:" فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ" قُلْتُ: فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ فَقَالَ:" ابْنَةُ أُمِّ سَلَمَةَ؟" قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ:" فَوَاللهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي لَقَدْ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحُمَيْدِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ، وَقَالُوا فِيهِ عَنْ هِشَامٍ: دُرَّةُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ وَكَذَلِكَ قَالَهُ الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ وَقَالَ: أَنْكِحْ أُخْتِي عَزَّةَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کے لیے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی بیٹی درہ میں کوئی رغبت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیا کروں؟“ فرماتی ہیں: میں نے کہا: آپ اس سے نکاح کر لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو یہ پسند کرتی ہے؟“ میں نے کہا: میں آپ کے لیے علیحدہ ہونے والی نہیں ہوں اور میں پسند کرتی ہوں کہ جو مجھے ملے اس میں میری بہن بھی شریک ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔“ میں نے کہا: مجھے تو یہ بات پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہما کو نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام سلمہ کی بیٹی؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر وہ میری پرورش میں میری ربیبہ نہ بھی ہوتی تو بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی۔ مجھے اور اس کے باپ کو «ثُوَيْبَةَ» نے دودھ پلایا ہے۔ تم اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو مجھ پر پیش نہ کیا کرو۔“ اس کو امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں حمیدی سے روایت کیا ہے اور اس کو امام مسلم رحمہ اللہ نے ایک دوسری سند عن ہشام سے نکالا ہے، انہوں نے کہا کہ اس میں ہشام سے روایت ہے، درہ بنت ابی سلمہ کے الفاظ ہیں اور اسی طرح اس کو زہری رحمہ اللہ نے عروہ رحمہ اللہ سے بیان کیا ہے اور کہا: آپ میری بہن عزہ سے نکاح کر لیں اور بعض نے زہری رحمہ اللہ سے کہا (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): ”مجھے اور ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کو «ثُوَيْبَةَ» لونڈی نے دودھ پلایا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15615]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15616
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا ابْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ الْغَافِقِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي إِيَاسُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ:" قَالَ لَا تَنْكِحْ مَنْ أَرْضَعَتْهُ امْرَأَةُ أَبِيكَ، وَلَا امْرَأَةُ ابْنِكَ، وَلَا امْرَأَةُ أَخِيكَ".
ایاس بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تو اس سے نکاح نہ کر جس کو تیرے باپ کی بیوی نے دودھ پلایا ہو اور نہ جس کو تیرے بیٹے کی بیوی نے دودھ پلایا ہو اور نہ جس کو تیرے بھائی کی بیوی نے دودھ پلایا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15616]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15617
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا ابْنُ قَعْنَبٍ، وَابْنُ بُكَيْرٍ، وَأَبُو الْوَلِيدِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ فَأَرْضَعَتْ إِحْدَاهُمَا غُلَامًا وَأَرْضَعَتِ الْأُخْرَى جَارِيَةً فَقِيلَ يَتَزَوَّجُ الْغُلَامُ الْجَارِيَةَ، فَقَالَ:" لَا اللِّقَاحُ وَاحِدٌ".
عمرو بن شرید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس کی دو بیویاں ہیں، ان میں سے ایک نے لڑکے کو دودھ پلایا اور دوسری نے لڑکی کو دودھ پلایا، کیا لڑکا اس لڑکی سے شادی کر سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ کیونکہ ان کا نطفہ یا ان کو حاملہ کرنے والا ایک ہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15617]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15618
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا مُعَلَّى، نا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ:" يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ" وَرُوِّينَا هَذَا الْمَذْهَبُ مِنَ التَّابِعِينَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ أَبِي الشَّعْثَاءِ، وَعَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَالزُّهْرِيِّ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رضاعت سے وہ (رشتے) حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔“
اور ہم کو یہ مذہب تابعین میں سے قاسم بن محمد، جابر بن زید ابو شعثاء، عطاء، طاؤس، مجاہد اور زہری سے نقل کیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15618]
اور ہم کو یہ مذہب تابعین میں سے قاسم بن محمد، جابر بن زید ابو شعثاء، عطاء، طاؤس، مجاہد اور زہری سے نقل کیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15618]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح