🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3250. -- باب: من سقى رجلا سما
-- باب: جس شخص نے کسی آدمی کو زہر پلا دیا ہو اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16005
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ امْرَأَةً يَهُودِيَّةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا، فَجِيءَ بِهَا فَقَيلَ: أَلَا نَقْتُلُهَا؟ قَالَ: لَا قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بکری کا زہریلا گوشت لائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھا لیا۔ بعد میں اسے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: کیا ہم اسے قتل کر دیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس زہر کا اثر ہمیشہ دیکھتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16005]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16006
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ ابْنُ النَّضْرِ: أَنْبَأَ، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِ إِسْنَادِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَجِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ قَالَتْ: أَرَدْتُ لِأَقْتُلَكَ، فَقَالَ: مَا كَانَ اللهُ لِيُسَلِّطَكِ عَلَى ذَلِكَ، أَوْ قَالَ: عَلَيَّ قَالُوا: أَلَا نَقْتُلُهَا؟ قَالَ: لَا ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحَجَبِيِّ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ.
خالد بن حارث رحمہ اللہ نے اپنی سند سے گزشتہ مکمل روایت بیان کی لیکن اس میں یہ اضافہ ہے کہ اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اور اس سے اس بارے میں پوچھا گیا تو وہ کہنے لگی: ”میں نے آپ کو قتل کرنا چاہا تھا“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کبھی تجھ کو مجھ پر مسلط نہیں کرے گا“ تو لوگ کہنے لگے: ”یا رسول اللہ! آپ اسے قتل کر دیں“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16006]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16007
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ قَالَ، وَثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبَّادٌ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ، قَالَ هَارُونُ: عَنْ ⦗٨٣⦘ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْيَهُودِ أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً مَسْمُومَةً، قَالَ: فَمَا عَرَضَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بکری کا زہریلا گوشت کھلایا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف فرما دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16007]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16008
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: كَانَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ يُحَدِّثُ أَنَّ يَهُودِيَّةً، مِنْ أَهْلِ خَيْبَرَ سَمَّتْ شَاةً مَصْلِيَّةً، ثُمَّ أَهْدَتْهَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذِّرَاعَ فَأَكَلَ مِنْهَا، وَأَكَلَ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِهِ مَعَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ"، وَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ فَدَعَاهَا، فَقَالَ لَهَا:" أَسَمَمْتِ هَذِهِ الشَّاةَ؟" قَالَتِ الْيَهُودِيَّةُ: مَنْ أَخْبَرَكَ؟ قَالَ:" أَخْبَرَتْنِي هَذِهِ فِي يَدِي" لِلذِّرَاعِ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" فَمَا أَرَدْتِ إِلَى ذَلِكَ؟" قَالَتْ: قُلْتُ: إِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَنْ يَضُرَّهُ، وَإِنْ لَمْ يكُنْ نَبِيًّا اسْتَرَحْنَا مِنْهُ فَعَفَا عَنْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يُعَاقِبْهَا، وَتُوُفِّيَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ الَّذِينَ أَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ، وَاحْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كَاهِلِهِ مِنْ أَجْلِ الَّذِي أَكَلَ مِنَ الشَّاةِ، حَجَمَهُ أَبُو هِنْدٍ بِالْقَرْنِ وَالشَّفْرَةِ، وَهُوَ مَوْلًى لِبَنِي بَيَاضَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خیبر کی ایک یہودیہ نے زہر میں بجھا ہوا گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دستی والا گوشت لیا اور کھا لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جماعت نے بھی کھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً فرمایا: ”اپنے ہاتھ روک لو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودیہ کو بلا لیا اور پوچھا: ”کیا تم نے اس میں زہر ملایا ہے؟“ عورت کہنے لگی: آپ کو کس نے بتایا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس دستی نے بتایا ہے۔“ کہنے لگی: جی ملایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیوں؟“ کہنے لگی کہ اگر آپ واقعی نبی ہیں تو آپ کو کچھ نہیں ہوگا اور اگر نبی نہیں ہیں تو ہم آپ سے سکون میں آجائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا اور اس گوشت کی وجہ سے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم فوت بھی ہو گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس زہر کا اثر زائل کرنے کے لیے اپنے کندھوں کے درمیان میں سینگی لگوائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو ہند نے سینگ اور چھری سے سینگی لگائی، وہ انصار کے قبیلہ بنو بیاضہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16008]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16009
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَتْ لَهُ يَهُودِيَّةٌ بِخَيْبَرَ شَاةً مَصْلِيَّةً، نَحْوَ حَدِيثِ جَابِرٍ قَالَ: فَمَاتَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ:" مَا حَمَلَكِ عَلَى الَّذِي صَنَعْتِ؟ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ جَابِرٍ قَالَ: فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُتِلَتْ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَمْرَ الْحِجَامَةِ.
ابو سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک یہودیہ نے ایک زہر میں بجھی ہوئی بکری ہدیہ کی۔ پھر پچھلی مکمل حدیث بیان کی اور مزید فرمایا کہ بشر بن معرور رضی اللہ عنہ اس سے فوت ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودیہ کو بلا کر ایسا کرنے کا سبب پوچھا۔ پھر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی مکمل حدیث بیان کی اور فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا، پھر اس کو قصاصاً قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کی روایت میں سینگی کا ذکر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16009]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16010
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ امْرَأَةً يَهُودِيَّةً دَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْحَابًا لَهُ عَلَى شَاةٍ مَصْلِيَّةٍ، فَلَمَّا قَعَدُوا يَأْكُلُونَ أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُقْمَةً فَوَضَعَهَا ثُمَّ قَالَ لَهُمْ:" أَمْسِكُوا، إِنَّ هَذِهِ الشَّاةَ مَسْمُومَةٌ"، فَقَالَ لِلْيَهُودِيَّةِ:" وَيْلَكِ لِأِيِّ شَيْءٍ سَمَمْتِنِي؟" قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنْ أَعْلَمَ إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّكَ، وَإِنْ كَانَ غَيْرُ ذَلِكَ أَنْ أُرِيحَ النَّاسَ مِنْكَ فَأَكَلَ مِنْهَا بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ فَمَاتَ، فَقَتَلَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودیہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے کچھ صحابہ کی ایک بھنی ہوئی بکری سے دعوت کی۔ جب سب بیٹھ کر کھانے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لقمہ لیا اور (کھائے بغیر) رکھ دیا، پھر فرمایا: ”رک جاؤ، اس بکری میں زہر ملا ہوا ہے۔“ اس یہودیہ سے پوچھا گیا: تو برباد ہو! یہ تو نے کیوں کیا؟ کہنے لگی: میں جاننا چاہتی تھی کہ اگر آپ نبی ہیں تو یہ آپ کو نقصان نہیں دے گا، اور اگر ایسا نہیں تو لوگوں کو آپ سے راحت دلا دوں۔ اس گوشت کے کھانے کی وجہ سے بشر بن البراء رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودیہ کو قصاصاً قتل کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16010]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16011
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتَلَهَا، يَعْنِي الَّتِي سَمَّتْهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو قتل کروا دیا تھا جس نے زہر ملایا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16011]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16012
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يوْمَ خَيْبَرَ أُتِيَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ مَصْلِيَّةٍ أَهْدَتْهَا لَهُ امْرَأَةٌ يَهُودِيَّةٌ، فَأَكَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَبِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ فَمَرِضَا مَرَضًا شَدِيدًا عَنْهَا، ثُمَّ إِنَّ بِشْرًا تُوُفِّيَ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ فَأُتِيَ بِهَا فَقَالَ:" وَيْحَكِ مَاذَا أَطْعَمْتِينَا؟" قَالَتْ: أَطْعَمْتُكَ السُّمَّ، عَرَفْتُ إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا أَنَّ ذَلِكَ لَا يَضُرُّكَ، وَإِنَّ اللهَ سَيَبْلُغُ فِيكَ أَمْرُهُ، وَإِنْ كُنْتَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيحَ النَّاسَ مِنْكَ فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصُلِبَتْ.
یحییٰ بن عبدالرحمن بن ابی لبیبہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ خیبر کے دن ایک زہریلی بھنی ہوئی بکری لائی گئی جو ایک یہودیہ نے دی تھی، تو اس میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور بشر بن البراء رضی اللہ عنہ نے کھا لیا، جس سے دونوں سخت بیمار ہو گئے اور بشر رضی اللہ عنہ تو فوت ہو گئے۔ جب بشر رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودیہ کو بلایا اور پوچھا: ”یہ تو نے کیوں کیا؟“ اس نے کہا: ”تاکہ فیصلہ ہو جائے کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ کو کوئی نقصان نہیں ہو گا اور اللہ آپ کو بچا لیں گے، اور اگر نبی نہیں ہیں تو لوگ آپ سے راحت میں آ جائیں گے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اسے سولی پر لٹکا دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16012]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16013
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ بَطَّةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا الْوَاقِدِيُّ، أنبأ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ لَبِيبَةَ، عَنْ جَدِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِهَا فَصُلِبَتْ بَعْدَ أَنْ قَتَلَهَا قَالَ الْوَاقِدِيُّ: الثَّبْتُ عِنْدَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتَلَهَا وَأَمَرَ بِلَحْمِ الشَّاةِ فَأُحْرِقَ قَالَ الشَّيْخُ: اخْتَلَفَتِ الرِّوَايَاتُ فِي قَتْلِهَا، وَرِوَايَةُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَصَحُّهَا، وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِابْتِدَاءِ لَمْ يُعَاقِبْهَا حِينَ لَمْ يمُتْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ مِمَّا أَكَلَ، فَلَمَّا مَاتَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ أَمَرَ بِقَتْلِهَا، فَأَدَّى كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الرُّوَاةِ مَا شَاهَدَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
محمد بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو قتل کرنے کے بعد سولی پر لٹکوا دیا۔“
واقدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بات ہمارے نزدیک ثابت ہے کہ اس کو قتل کر دیا گیا تھا اور بکری کے گوشت کو جلا دیا گیا تھا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے قتل کے بارے میں روایتوں میں اختلاف ہے۔ اس میں سب سے اصح روایت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی ہے، جس میں ذکر ہے کہ اسے کوئی سزا نہیں دی۔ لیکن ہم اسے اس بات پر محمول کریں گے کہ جب تک کچھ نہیں ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو کوئی سزا نہ دی اور جب سیدنا بشر بن البراء رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو اسے بھی قتل کر دیا گیا اور ہر راوی نے اپنا اپنا مشاہدہ بیان کیا ہے۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16013]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں