🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3252. -- باب: ما جاء في قتل الإمام وجرحه
-- باب: امام (حکمران) کو قتل کرنے یا اسے زخمی کرنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16017
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا أَبُو صَالِحٍ يَعْنِي مَحْبُوبَ بْنَ مُوسَى، ثنا الْفَزَارِيُّ يَعْنِي أَبَا إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ:" أَلَا وَإِنِّي لَمْ أَبْعَثْ إِلَيْكُمْ عُمَّالِي لِيَضْرِبُوا أَبْشَارَكُمْ، وَلَا لِيَأْخُذُوا أَمْوَالَكُمْ، وَلَكِنْ بَعَثْتُهُمْ لِيُعَلِّمُوكُمْ دِينَكُمْ وَسُنَنَكُمْ، فَمَنْ فُعِلَ بِهِ غَيْرُ ذَلِكَ فَلْيَرْفَعْهُ إِلِيَّ فَأُقِصَّهُ مِنْهُ فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَدَّبَ بَعْضَ رَعِيَّتِهِ أَكُنْتَ مُقْتَصَّهُ مِنْهُ؟ فَقَالَ: إِي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأُقِصَّنَّهُ مِنْهُ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَصَّ مِنْ نَفْسِهِ.
(١٦٠١٧) ابو فراس فرماتے ہیں کہ ہمیں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور فرمایا: لوگو! مجھے تمہاری طرف ایسا عامل نہیں بنایا گیا جو تمہارے لوگوں کو مارے اور تمہارا مال چھین لے۔ بلکہ مجھے تو اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں تمہیں تمہارا دین اور اس کی سنتیں سکھاؤں۔ اگر اس کے علاوہ میں کسی پر زیادتی کروں تو وہ مجھ سے قصاص کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے: اے امیر المؤمنین! اگر کوئی اپنی رعایا کو ادب سکھانے کے لیے مارے تو کیا اس سے قصاص لیا جائے گا؟ فرمایا: ہاں اللہ کی قسم! میں اس سے قصاص لوں گا؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنے آپ سے قصاص دیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16017]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16018
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قِرَاءَةً عَلَيْهِمَا، وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ السِّرَاجُ إِمْلَاءً، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْسِمُ شَيْئًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ، فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَهُ فَجُرِحَ الرَّجُلُ، فَقَالَ لَهُ ⦗٨٧⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعَالَ فَاسْتَقِدْ" فَقَالَ: بَلْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللهِ.
(١٦٠١٨) ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے اور آپ کچھ اشیاء تقسیم کر رہے تھے تو ایک آدمی آیا اور وہ جلد بازی کرنے لگا تو آپ نے اپنے کھجور کے ڈنڈے سے اسے مارا، جس سے اسے زخم لگ گیا تو آپ نے فرمایا: قصاص لے لو تو وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں نے معاف کردیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16018]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16019
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، وَغَيْرِهِ أَخْبَرُوهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا مُتَخَلِّقًا فَطَعَنَهُ بِقَدَحٍ كَانَ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَالَ:" أَلَمْ أَنْهَكُمْ عَنْ مِثْلِ هَذَا؟" فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ اللهَ قَدْ بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، وَإِنَّكَ قَدْ عَقَرْتَنِي فَأَلْقَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدَحَ فَقَالَ لَهُ:" اسْتَقِدْ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّكَ طَعَنْتَنِي وَلَيْسَ عَلَيَّ ثَوْبٌ، وَعَلَيْكَ قَمِيصٌ، فَكَشَفَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَطْنِهِ، فَأَكَبَّ عَلَيْهِ الرَّجُلُ فَقَبَّلَهُ هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا.
(١٦٠١٩) ابو النضر اور ان کے دوسرے اصحاب کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا گیا کہ آپ نے ایک شخص کو دیکھا جس نے زعفران کی خوشبو لگائی ہوئی تھی۔ آپ نے اسے ایک لکڑی سے مارا اور فرمایا: کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا تھا؟ وہ شخص کہنے لگا: یا رسول اللہ! آپ نے مجھے زخم پہنچایا ہے، آپ نے وہ لکڑی اسے دی اور فرمایا: قصاص لے لو۔ وہ شخص کہنے لگا: آپ نے جب مجھے مارا تھا مجھ پر کپڑا نہیں تھا، آپ نے پیٹ سے اپنا کپڑا ہٹا لیا تو وہ شخص آپ سے چمٹ گیا اور آپ کا بوسہ لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16019]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16020
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَوَادُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا مُتَخَلِّقٌ بِخَلُوقٍ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ لِي:" يَا سَوَادُ بْنَ عَمْرٍو وخَلُوقُ وَرْسٍ، أَوَ لَمْ أَنْهَ عَنِ الْخَلُوقِ؟"، وَنَخَسَنِي بِقَضِيبٍ فِي يَدِهِ فِي بَطْنِي فَأَوْجَعَنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ الْقِصَاصَ قَالَ:" الْقِصَاصَ" فَكَشَفَ لِي عَنْ بَطْنِهِ فَجَعَلْتُ أُقَبِّلُهُ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَدَعُهُ شَفَاعَةً لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَابَعَهُ عُمَرُ بْنُ سَلِيطٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَوَادِ بْنِ عَمْرٍو.
(١٦٠٢٠) سواد بن عمرو فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے خلوق خوشبو لگائی ہوئی تھی تو آپ نے فرمایا: اے سواد! کیا اس خلوق سے میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا تو آپ نے ایک چھڑی سے مارا جو آپ کے ہاتھ میں تھی تو میرا پیٹ زخمی ہوگیا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! قصاص۔ آپ نے بھی اپنا پیٹ کھول دیا تو میں آپ کے پیٹ پر بوسے لینے لگا، پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ میں قیامت کے دن آپ کی شفاعت چاہتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16020]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16021
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ السَّعْدِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ رَجُلًا ضَاحِكًا مَلِيحًا قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ وَيُضْحِكُهُمْ فَطَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُصْبُعِهِ فِي خَاصِرَتِهِ، فَقَالَ: أَوْجَعْتَنِي، قَالَ:" اقْتَصَّ" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عَلَيْكَ قَمِيصًا، وَلَمْ يَكُنْ عَلَيَّ قَمِيصٌ، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ فَاحْتَضَنَهُ، ثُمَّ جَعَلَ يُقَبِّلُ كَشْحَهُ، فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ أَرَدْتُ هَذَا.
(١٦٠٢١) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اپنے والد نقل فرماتے ہیں کہ اسید بن حضیر بڑے خوش طبع اور ہنس مکھ آدمی تھے۔ ایک مرتبہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے اور کسی قوم کے بارے میں باتیں کر کے آپ کو ہنسا رہے تھے تو آپ نے اس کے پہلو میں انگلی ماری تو وہ کہنے لگے: آپ نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے۔ فرمایا: قصاص لے لو۔ تو وہ فرمانے لگے: آپ نے قمیض پہنی ہوئی ہے اور مجھ پر قمیض نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی قمیض اوپر اٹھائی تو وہ آپ کے جسم سے چمٹ گئے اور چومنے لگے اور فرمانے لگے: یا رسول اللہ میرا یہی ارادہ تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16021]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16022
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ ⦗٨٨⦘ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا جَهْمِ بْنَ حُذَيْفَةَ مُصَدِّقًا فَلَاجَّهُ رَجُلٌ فِي صَدَقَةٍ فَضَرَبَهُ أَبُو جَهْمٍ فَشَجَّهُ، فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: الْقَوَدَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَكُمْ كَذَا وَكَذَا"، فَلَمْ يَرْضَوْا، فَقَالَ:" لَكُمْ كَذَا وَكَذَا"، فَلَمْ يَرْضَوْا، فَقَالَ:" لَكُمْ كَذَا وَكَذَا"، فَرَضُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي خَاطِبٌ الْعَشِيَّةَ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ" فَقَالُوا: نَعَمْ فَخَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنَّ هَؤُلَاءِ اللَّيْثِيِّينَ أَتَوْنِي يُرِيدُونَ الْقَوَدَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِمْ كَذَا وَكَذَا فَرَضُوا، أَفَرَضِيتُمْ؟" قَالُوا: لَا، فَهَمَّ الْمُهَاجِرُونَ بِهِمْ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُفُّوا عَنْهُمْ، فَكَفُّوا عَنْهُمْ، ثُمَّ دَعَاهُمْ فَزَادَهُمْ فَقَالَ:" أَرَضِيتُمْ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" إِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ"، قَالُوا: نَعَمْ فَخَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَرَضِيتُمْ؟"، قَالُوا: نَعَمْ.
(١٦٠٢٢) عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو جہم کو صدقہ لینے کے لیے بھیجا۔ ایک شخص نے کچھ حیل و حجت کی تو ابو جہم نے اسے مارا اور زخمی کردیا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور قصاص کا مطالبہ کردیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یہ یہ لے لو۔ وہ نہ مانے پھر آپ نے فرمایا: یہ یہ بھی لے لو، وہ پھر بھی نہ مانے۔ پھر آپ نے فرمایا: یہ یہ بھی لے لو، وہ راضی ہوگئے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں شام کو لوگوں کو خطبہ دوں گا اور تمہاری رضا مندی کے بارے میں انھیں بتادوں گا۔ انھوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ آپ نے شام کو خطبہ دیا اور فرمایا کہ یہ لیثی لوگ میرے پاس قصاص کے لیے آئے تھے، میں نے انھیں اس اس کی پیش کش کی تو یہ راضی ہوگئے کیا تم راضی ہو؟ انھوں نے جواب دیا: نہیں۔ اس سے ان کی مراد مہاجرین تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ان سے روک دو تو روک لیا گیا۔ پھر انھیں بلایا اور زیادہ دیا تو وہ راضی ہوگئے۔ آپ نے پھر شام کو خطبہ ارشاد فرمایا اور انھیں ان کی رضا مندی کی اطلاع دی اور پوچھا: کیا تم راضی ہو تو انھوں نے جواب دیا: جی ہاں ہم راضی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16022]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16023
خَالَفَهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ، فَرَوَاهُ كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ أَبَا جَهْمٍ عَلَى صَدَقَةٍ فَضَرَبَ رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ فَشَجَّهُ ذَا الْمُغَلَّظَتَيْنِ، فَسَأَلُوهُ الْقَوَدَ، فَأَرْضَاهُمْ وَلَمْ يُقِدْ مِنْهُ.
(١٦٠٢٣) ابن شہاب زہری فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو جہم کو صدقہ پر عامل بنایا تو انھوں نے بنو لیث کے ایک آدمی کو مارا اور اسے سخت زخمی کردیا تو انھوں نے قصاص کا مطالبہ کردیا تو آپ نے انھیں دیت پر راضی کرلیا اور قصاص نہیں لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16023]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16024
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَجُلٌ أَسْوَدُ يَأْتِي أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَيُدْنِيهِ وَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ، حَتَّى بَعَثَ سَاعِيًا، أَوْ قَالَ: سَرِيَّةً، فَقَالَ: أَرْسِلْنِي مَعَهُ، قَالَ: بَلْ تَمْكُثُ عِنْدَنَا فَأَتَى فَأَرْسَلَهُ مَعَهُ وَاسْتَوْصَى بِهِ خَيْرًا، فَلَمْ يَغْبُرْ عَنْهُ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى جَاءَ قَدْ قُطِعَتْ يَدُهُ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاضَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: مَا زِدْتُ عَلَى أَنَّهُ كَانَ يُوَلِّينِي شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ فَخُنْتُهُ فَرِيضَةً وَاحِدَةً، فَقَطَعَ يَدِي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: تَجِدُونَ الَّذِي قَطَعَ هَذَا يَخُونُ أَكْثَرَ مِنْ عِشْرِينَ فَرِيضَةً، وَاللهِ لَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا لَأُقِيدَنَّكَ بِهِ قَالَ: ثُمَّ أَدْنَاهُ، وَلَمْ يُحَوِّلْ مَنْزِلَتَهُ الَّتِي كَانَتْ لَهُ مِنْهُ، فَكَانَ الرَّجُلُ يَقُومُ اللَّيْلَ فَيَقْرَأُ، فَإِذَا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَوْتَهُ قَالَ: يَا لَلَّهِ لِرَجُلٍ قَطَعَ هَذَا قَالَتْ: فَلَمْ يَغْبُرْ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى فَقَدَ آلُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حُلِيًّا لَهُمْ وَمَتَاعًا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: طُرِقَ الْحِيُّ اللَّيْلَةَ فَقَامَ الْأَقْطَعُ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَهُ الصَّحِيحَةَ وَالْأُخْرَى الَّتِي ⦗٨٩⦘ قُطِعَتْ فَقَالَ: اللهُمَّ أَظْهِرْ عَلَى مَنْ سَرَقَهُمْ أَوْ نَحْوَ هَذَا وَكَانَ مَعْمَرٌ رُبَّمَا قَالَ: اللهُمَّ أَظْهِرْ عَلَى مَنْ سَرَقَ أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ الصَّالِحِينَ قَالَ: فَمَا انْتَصَفَ النَّهَارُ حَتَّى عَثَرُوا عَلَى الْمَتَاعِ عِنْدَهُ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَيْلَكَ إِنَّكَ لَقَلِيلُ الْعِلْمِ بِاللهِ، فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَتْ رِجْلُهُ قَالَ مَعْمَرٌ: وأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: كَانَ إِذَا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ صَوْتَهُ قَالَ: مَا لَيْلُكَ بِلَيْلِ سَارِقٍ وَالِاسْتِدْلَالُ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ وَقَعَ بِقَوْلِهِ: وَاللهِ لَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا لَأُقِيدَنَّكَ بِهِ.
(١٦٠٢٤) عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ ایک سیاہ رنگ کا آدمی حضرت ابوبکر کے پاس آتا تھا، جو قرآن کا اچھا قاری تھا۔ حضرت ابوبکر نے اسے ایک سریہ میں بھیج دیا اور اسے خیر کی وصیت کی۔ ابھی کچھ عرصہ ہی گزرا تھا کہ وہ شخص واپس آگیا اور اس کا ہاتھ کٹا ہوا تھا۔ جب حضرت ابوبکر نے یہ دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور پوچھا: تمہیں کیا ہوگیا؟ وہ کہنے لگا کہ مجھے کسی کام پر انھوں نے عامل بنادیا تھا۔ میں نے اس میں سے تھوڑی سی خیانت کردی تھی تو میرا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ ابوبکر فرمانے لگے کہ ایک خیانت پر تیرا ہاتھ کاٹ دیا گیا اور خود ٢٠، ٢٠ خیانتیں کرتے ہیں۔ اگر تو اپنی بات میں سچا ہے تو میں تجھے اس سے ضرور قصاص لے کر دوں گا۔ پھر وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا قریبی بن گیا اور آپ کی نظر میں اس کی قدر میں کوئی کمی نہیں آئی۔ وہ آدمی رات کو قیام کرتا اور قرآن پڑھتا تھا۔ جب ابوبکر نے اس کی قرآت سنی تو کہنے لگے: ہائے افسوس! اس آدمی کا ہاتھ کاٹا گیا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ حضرت ابوبکر کے گھر سے کچھ زیورات اور سامان چوری ہوگیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رات کو زندہ کرنے والا خاموش ہوگیا تو وہ شخص کھڑا ہوا اور اپنا صحیح ہاتھ اور کٹا ہوا ہاتھ بلند کیا اور دعا کرنے لگا کہ اے اللہ! چور کو ظاہر فرما دے۔ ابھی آدھا دن بھی نہیں گزرا تھا کہ اس کے پاس سے سامان مل گیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: تو برباد ہو کہ کیا اللہ کے بارے میں تیرا علم اتنا تھوڑا ہے اور حکم دیا اور اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا۔
معمر کہتے ہیں کہ مجھے ایوب نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کے طریق سے بیان کیا کہ جب ابوبکر نے اس کی آواز کو سنا تو فرمایا: اے رات کو چوری کرنے والے! تیری رات چور کی ہے اور اس حدیث میں جو محل استشہاد ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے فرمایا تھا کہ اگر تو اپنی بات میں سچا ہے تو میں تجھے قصاص لے کر دوں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16024]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16025
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَسَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ عَبْدِ اللهِ الْمَعَافِرِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَامَ يَوْمَ جُمُعَةٍ فَقَالَ:" إِذَا كَانَ بِالْغَدَاةِ فَاحْضُرُوا صَدَقَاتِ الْإِبِلِ تُقْسَمُ، وَلَا يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ إِلَّا بِإِذْنٍ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ لِزَوْجِهَا: خُذْ هَذَا الْخِطَامَ لَعَلَّ اللهَ يَرْزُقُنَا جَمَلًا، فَأَبَى الرَّجُلُ فَوَجَدَ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْا قَدْ دَخَلُوا إِلَى الْإِبِلِ فَدَخَلَ مَعَهُمَا، فَالْتَفَتَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: مَا أَدْخَلَكَ عَلَيْنَا؟ ثُمَّ أَخَذَ مِنْهُ الْخِطَامَ فَضَرَبَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ أَبُو بَكْرٍ مِنْ قَسْمِ الْإِبِلِ دَعَا بِالرَّجُلِ فَأَعْطَاهُ الْخِطَامَ وَقَالَ: اسْتَقِدْ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: وَاللهِ لَا يَسْتَقِيدُ، لَا تَجْعَلْهَا سُنَّةً قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَمَنْ لِي مِنَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَرْضِهِ فَأَمَرَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غُلَامَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ بِرَاحِلَتِهِ وَرَحْلِهَا وَقَطِيفَةٍ وَخَمْسَةِ دَنَانِيرَ، فَأَرْضَاهُ بِهَا.
(١٦٠٢٥) عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن حضرت ابوبکر فرمانے لگے کہ کل صدقہ کے اونٹ لے آنا تاکہ انھیں تقسیم کردیا جائے اور بغیر اجازت ہمارے پاس کوئی نہ آئے۔ تو ایک عورت نے اپنے خاوند کو کہا کہ یہ لگام لو شاید کل اللہ ہمیں بھی کوئی اونٹ عطا فرما دے تو آدمی نے انکار کردیا۔ جب دوسرے دن حضرت ابوبکر اور عمر کو اس شخص نے اونٹوں کے پاس داخل ہوتے دیکھا تو یہ بھی داخل ہوگیا۔ حضرت ابوبکر اس کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: تم کیوں آئے ہو؟ اور اس سے لگام لے کر اسے مارا۔ جب ابوبکر اونٹوں کی تقسیم سے فارغ ہوگئے تو اس شخص کو بلایا اور اسے لگام دے کر فرمایا: قصاص لے لو۔ حضرت عمر فرمانے لگے: آپ اسے سنت نہ بنائیں تو آپ نے فرمایا: کل قیامت کے دن اللہ سے کون بچائے گا؟ حضرت عمر فرمانے لگے کہ دیت پر راضی کرلو تو حضرت ابوبکر نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ اسے اپنی اور آپ کی سواری بھی دے دے۔ ایک چادر اور پانچ دینار بھی دے دے تو وہ شخص اس پر راضی ہوگیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16025]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16026
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، أَعْطَوَا الْقَوَدَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَلَمْ يُسْتَقَدْ مِنْهُمْ وَهُمْ سَلَاطِينُ.
(١٦٠٢٦) ابن شہاب فرماتے ہیں کہ ابو بکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو قصاص کے لیے پیش فرمایا لیکن آپ سے قصاص نہیں لیا گیا اور آپ اس وقت امیر تھے۔ لیکن زہری تک صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16026]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ مرسل، زهري»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں