🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3348. -- باب: لا يرث القاتل
-- باب: قاتل کو وراثت نہ ملنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16485
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَرِثُ قَاتِلٌ مِنْ دِيَةِ مَنْ قَتَلَ".
ابن مسیب رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”مقتول کی دیت سے قاتل وارث نہیں ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسَامَةِ/حدیث: 16485]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16486
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ رَجُلًا، مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ قَتَلَ ابْنًا لَهُ، يُقَالُ لَهُ: عَرْفجَةُ، فَأَمَرَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَخْرَجَ دِيَتَهُ فَأَعْطَاهَا أَخًا لِلْقَتِيلِ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ.
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی کہ بنو مدلج کے ایک شخص نے اپنا بیٹا قتل کر دیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی دیت لے کر اس کے بھائی کو دے دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسَامَةِ/حدیث: 16486]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16487
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِنَانَةَ يُقَالُ لَهُ: قَتَادَةُ أَمَرَ ابْنًا لَهُ بِبَعْضِ الْأَمْرِ فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ فَحَذَفَهُ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَ رِجْلَهُ فَمَاتَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: لَأَقْتُلَنَّ قَتَادَةَ، فَأَتَاهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّهُ لَمْ يُرِدْ قَتْلَهُ، وَإِنَّمَا كَانَتْ بَادِرَةً مِنْهُ فِي غَضَبٍ، فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى ذَهَبَ مَا كَانَ فِي نَفْسِهِ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: مُرْهُ فَلْيَلْقَنِي بِقُدَيْدٍ بِعِشْرِينَ وَمِائَةٍ مِنَ الْإِبِلِ، فَفَعَلَ، فَأَخَذَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْهَا ثَلَاثِينَ حِقَّةً، وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً، وَأَرْبَعِينَ ثَنِيَّةً خَلِفَةً إِلَى بَازِلِ عَامِهَا، ثُمَّ قَالَ لِقَتَادَةَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَيْسَ لِقَاتِلٍ شَيْءٌ لَوَرَّثْتُكَ مِنْهُ" ثُمَّ دَعَا أَخَا الْمَقْتُولِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ. هَذِهِ مَرَاسِيلُ يُؤَكِّدُ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ مَوْصُولَةٍ وَمُرْسَلَةٍ فِي كِتَابِ الْفَرَائِضِ.
عمرو بن شعیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کنانہ کے ایک قتادہ نامی آدمی نے کسی وجہ سے اپنے بیٹے کو تلوار سے مارا، اس کا پاؤں کٹ گیا اور وہ مر گیا۔ یہ بات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پتہ چلی تو کہا کہ میں ضرور قتادہ کو قتل کروں گا، تو سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: اس نے جان بوجھ کر قتل نہیں کیا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بات سمجھ آگئی تو فرمایا: اسے کہو کہ 120 اونٹ لائے، تو وہ لے آیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے 30 «حِقَّة» ”حقے“، 30 «جَذَعَة» ”جذعے“ اور 40 «ثَنِيَّة» ”ثنیہ“ اونٹ لیے اور قتادہ کو کہا کہ اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ ”قاتل کے لیے میراث نہیں ہے“ تو میں تجھے وارث بناتا۔ پھر مقتول کے بھائی کو بلایا اور اسے دیت دے دی۔
یہ مرسل روایات ہیں جو ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں، اور ہم نے اسے کتاب الفرائض میں موصول اور مرسل دونوں طرح کی سندوں سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسَامَةِ/حدیث: 16487]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں