🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3350. -- باب: الشهادة على الجناية
-- باب: جنایت (جرم) پر گواہی دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16492
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَاشِدٍ، أَنْبَأَ هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، ثَنَا عَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: أَصْبَحَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مَقْتُولًا بِخَيْبَرَ، فَانْطَلَقَ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" أَلَكُمْ شَاهِدَانِ يَشْهَدَانِ عَلَى قَتْلِ صَاحِبِكُمْ؟" قَالُوا: ⦗٢٣٢⦘ يَا رَسُولَ اللهِ لَمْ يَكُنْ ثَمَّ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّمَا هُمْ يَهُوَدُ، وَقَدْ يَجْتَرِئُونَ عَلَى أَعْظَمَ مِنْ هَذَا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری خیبر میں قتل ہو گیا۔ اس کے اولیاء نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے اور سارا واقعہ سنایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس دو گواہ ہیں جو تمہارے ساتھی کے قتل پر گواہی دیں؟“ تو انہوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! وہاں کوئی مسلم نہیں تھا اور یہودی بڑے بڑے گناہوں پر جرات کر جاتے ہیں“ اور مکمل حدیث ذکر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسَامَةِ/حدیث: 16492]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16493
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو الْوَلِيدِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ: شَهِدَ عِنْدَ شُرَيْحٍ رَجُلَانِ فَقَالَا: نَشْهَدُ أَنَّ هَذَا لَهَزَهُ بِمِرْفَقِهِ فِي حَلْقِهِ فَمَاتَ، فَقَالَ: أَتَشْهَدُونَ أَنَّهُ قَتَلَهُ؟ قَالَ الْأَعْمَشُ: فَلَمْ يُجِزْهُ. قَالَ الشَّيْخُ أَبُو الْوَلِيدِ: قَالَ أَصْحَابُنَا: قَدْ يَكُونُ الضَّرْبُ وَلَا يَمُوتُ مِنْهُ، فَلَمَّا لَمْ يَقُولَا: قَتَلَهُ، لَمْ يَحْكُمْ بِهِ.
شریح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس دو آدمیوں نے گواہی دی کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اس نے اس کی گردن پر مکا مارا اور وہ مر گیا، انہوں نے پوچھا کہ کیا تم اس کے قتل پر گواہی دیتے ہو؟ شیخ ابو الولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے مارنے پر گواہی دی تھی، یہ نہیں کہا کہ قتل کیا، اس لیے ان پر حکم نہیں لگایا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسَامَةِ/حدیث: 16493]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں