السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3412. -- باب: المكره على الردة
-- باب: اس شخص کا بیان جسے ارتداد پر مجبور کیا گیا ہو۔
حدیث نمبر: Q16896
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {مَنْ كَفَرَ بِاللهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ، وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا} [النحل: 106] الْآيَةَ.
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿مَنْ كَفَرَ بِاللهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ، وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا﴾ ”جو شخص اپنے ایمان لانے کے بعد اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے، سوائے اس کے جسے مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو، لیکن جو شخص کھلے دل سے کفر اختیار کرے۔“ (الآیۃ) [سورة النحل: 106] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: Q16896]
حدیث نمبر: 16896
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ بِهَمَذَانَ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبِي، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَخَذَ الْمُشْرِكُونَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ، فَلَمْ يَتْرُكُوهُ حَتَّى سَبَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ آلِهَتَهُمْ بِخَيْرٍ، ثُمَّ تَرَكُوهُ، فَلَمَّا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا وَرَاءَكَ؟" قَالَ: شَرٌّ يَا رَسُولَ اللهِ مَا تُرِكْتُ حَتَّى نُلْتُ مِنْكَ وَذَكَرْتُ آلِهَتَهُمْ بِخَيْرٍ، قَالَ:" كَيْفَ تَجِدُ قَلْبَكَ؟" قَالَ: مُطْمَئِنًّا بِالْإِيمَانِ، قَالَ:" إِنْ عَادُوا فَعُدْ".
محمد بن عمار بن یاسر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مشرکین نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو پکڑ لیا اور انہوں نے اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا اور ان کے الٰہوں کو اچھا نہ کہہ دیا۔ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ہوا؟“ انہوں نے کہا: بہت برا، جب تک میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں برا اور ان کے الٰہ کے بارے میں اچھا نہ کہہ دیا، تب تک انہوں نے مجھے نہیں چھوڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے دل کی کیا حالت تھی؟“ انہوں نے کہا: ایمان پر مطمئن تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ دوبارہ ایسا کریں تو تم بھی کر دینا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16896]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16897
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ:" إِنَّ أَوَّلَ مَنْ أَظْهَرَ إِسْلَامَهُ سَبْعَةٌ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعَمَّارٌ، وَأُمُّهُ سُمَيَّةُ، وَصُهَيْبٌ، وَبِلَالٌ، وَالْمِقْدَادُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فَأَمَّا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَهُ اللهُ ⦗٣٦٣⦘ بِعَمِّهِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَمَّا أَبُو بَكْرٍ فَمَنَعَهُ اللهُ بِقَوْمِهِ، وَأَمَّا سَائِرُهُمْ فَأَخَذَهُمُ الْمُشْرِكُونَ فَأَلْبَسُوهُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِيدِ، وَأَوْقَفُوهُمْ فِي الشَّمْسِ، فَمَا مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وَاتَاهُمْ عَلَى مَا أَرَادُوا غَيْرَ بِلَالٍ، فَإِنَّهُ هَانَتْ عَلَيْهِ نَفْسُهُ فِي اللهِ، وَهَانَ عَلَى قَوْمِهِ، فَأَعْطَوْهُ الْوِلْدَانَ فَجَعَلُوا يَطُوفُونَ بِهِ فِي شِعَابِ مَكَّةَ، وَجَعَلَ يَقُولُ: أَحَدٌ أَحَدٌ".
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب اسلام کا ظہور ہوا تو سب سے پہلے سات لوگوں نے اپنے اسلام کا اظہار کیا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمار، سمیہ، صہیب، بلال اور مقداد رضی اللہ عنہم۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ان کے چچا کے ذریعے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کے ذریعے بچایا، لیکن باقیوں کو مشرکین نے پکڑ کر بہت اذیتیں دیں، انہیں لوہے کی بیڑیاں پہنا کر دھوپ میں پھینک دیا جاتا تو ان میں سے ہر ایک نے مشرکین کے مطالبات مان لیے، علاوہ بلال رضی اللہ عنہ کے، انہوں نے اپنے نفس کو اللہ کی خاطر حقیر سمجھا اور ان کی قوم نے انہیں بے وقعت جانا، ان کو بچوں کے ہاتھوں میں دے دیا جاتا، وہ بچے ان کو مکہ کی گلیوں میں گھسیٹتے پھرتے اور یہ اپنی زبان سے صرف «أَحَدٌ أَحَدٌ» ”ایک ہے، ایک ہے“ پکار رہے ہوتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16897]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16898
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ أَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَبْلُغُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْعَذَابِ مَا يُعْذَرُونَ بِهِ فِي تَرْكِ دِينِهِمْ؟ فَقَالَ:" نَعَمْ، وَاللهِ إِنْ كَانُوا لَيَضْرِبُونَ أَحَدَهُمْ وَيُجِيعُونَهُ وَيُعْطِشُونَهُ حَتَّى مَا يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يَسْتَوِيَ جَالِسًا مِنْ شِدَّةِ الضُّرِّ الَّذِي بِهِ، حَتَّى إِنَّهُ لَيُعْطِيهِمْ مَا سَأَلُوهُ مِنَ الْفِتْنَةِ.
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا مشرکین مسلمانوں کو اس حد تک عذاب دیتے تھے کہ وہ اپنا دین چھوڑنے میں معذور سمجھے جائیں؟ فرمایا: ہاں، اللہ کی قسم! وہ انہیں اتنا مارتے اور بھوکا پیاسا رکھتے کہ تکلیف کی وجہ سے وہ سیدھا بھی نہیں بیٹھ سکتا تھا، یہاں تک کہ وہ زبان سے وہ کلمات کہہ دیتا جو وہ طلب کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16898]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
حدیث نمبر: 16899
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عُبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ} [النحل: ١٠٦] ، قَالَ:" أَخْبَرَ اللهُ سُبْحَانَهُ إِنَّهُ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ إِيمَانِهِ فَعَلَيْهِ غَضَبٌ مِنَ اللهِ، وَلَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ، فَأَمَّا مَنْ أُكْرِهَ فَتَكَلَّمَ بِلِسَانِهِ، وَخَالَفَهُ قَلْبُهُ بِالْإِيمَانِ لِيَنْجُوَ بِذَلِكَ مِنْ عَدُوِّهِ فَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ، إِنَّ اللهَ سُبْحَانَهُ إِنَّمَا يَأْخُذُ الْعِبَادَ بِمَا عَقَدَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُهُمْ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ﴾ [سورة النحل: 106] ، اللہ تعالیٰ نے اس میں یہ بتایا ہے کہ جو اسلام کے بعد دین تبدیل کرے تو اس پر اللہ کا غضب ہے اور عذابِ عظیم ہے، لیکن جس کو مجبور کیا جائے اور وہ صرف ان سے نجات حاصل کرنے کے لیے زبان سے کچھ کہہ دے تو کوئی حرج نہیں؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات پر پکڑتے ہیں جو بندہ دل سے کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16899]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16900
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو هَمَّامٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ سَعِيدٍ، يَذْكُرُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، {إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً} [آل عمران: ٢٨] ، قَالَ:" وَالتُّقَاةُ التَّكَلُّمُ بِاللِّسَانِ وَالْقَلْبِ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ، وَلَا يَبْسُطُ يَدَهُ فَيَقْتُلُ، وَلَا إِلَى إِثْمٍ، فَإِنَّهُ لَا عُذْرَ لَهُ".
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ﴿إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً﴾ [سورة آل عمران: 28] ، فرمایا: «تُقَاةً» کا معنیٰ ہے: زبان سے بولنا اور دل کا ایمان پر مطمئن رہنا، اور وہ قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہ بڑھائے اور نہ کسی گناہ کی طرف، کیونکہ (اس میں) اس کا کوئی عذر نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16900]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن