السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3497. -- باب: ما جاء في الكسر بالماء
-- باب: (مشروب کی تیزی کو) پانی کے ذریعے توڑنے (کم کرنے) کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17429
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْمُؤَذِّنُ، ثنا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ أَبِي الْقَمُوصِ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَحَدِ الْوَفْدِ الَّذِينَ وَفَدُوا إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ، إِلَّا يَكُنْ قَيْسَ بْنَ النُّعْمَانِ فَإِنِّي نَسِيتُ اسْمَهُ، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَّا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ وَبِيئَةٌ، وَإِنَّهُ لَا يُوَافِقُهَا إِلَّا الشَّرَابُ، فَمَا الَّذِي يَحِلُّ لَنَا مِنَ الْآنِيَةِ، وَمَا الَّذِي يَحْرُمُ عَلَيْنَا؟ قَالَ:" لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ، وَلَا النَّقِيرِ، وَلَا الْمُزَفَّتِ، وَاشْرَبُوا فِي الْجِلَالِ"، أَوْ قَالَ:" الْجِلْدِ الْمُوكَى عَلَيْهِ، فَإِنِ اشْتَدَّ مَتْنُهُ فَاكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ، فَإِنْ أَعْيَاكُمْ فَاهِرِيقُوهُ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: الرِّوَايَاتُ الثَّابِتَةُ فِي قِصَّةِ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ خَالِيَةٌ عَنْ هَذِهِ اللَّفْظَةِ، وَفِي هَذَا الْإِسْنَادِ مَنْ يُجْهَلُ حَالُهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، أَنَّهُ قَالَ:" فَإِنْ خَشِيَ شِرَّتَهُ، أَوْ قَالَ: شِدَّتَهُ، فَلْيَصُبَّ عَلَيْهِ الْمَاءَ".
ابوالقموص زید بن علی وفدِ عبدالقیس کے ایک شخص سے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا، روایت کرتے ہیں (وہ کہتے ہیں: اگر وہ قیس بن نعمان نہیں تو میں ان کا نام بھول گیا ہوں) کہ ہم میں سے ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! ہماری زمین وبائی زمین ہے اور اسے مشروب کے سوا کوئی چیز موافق نہیں آتی، تو ہمارے لیے کون سے برتن حلال ہیں اور کون سے حرام؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کدو کے برتن، لکڑی کے کھوکھلے برتن اور تارکول لگے ہوئے برتن میں نہ پیو، اور چمڑے کے برتنوں میں پیو۔“ یا فرمایا: ”منہ بند مشکیزے میں پیو، اگر وہ سخت ہو جائے تو پانی ملا کر اس کی سختی توڑ دو، اور اگر وہ تمہارے بس میں نہ رہے تو اسے بہا دو۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وفدِ عبدالقیس کے قصے کی ثابت روایات میں یہ الفاظ نہیں ہیں، اور اس سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کا حال معلوم نہیں، واللہ اعلم۔ اور اس قصے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اگر اس کی سختی کا اندیشہ ہو تو اس پر پانی ڈال دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17429]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وفدِ عبدالقیس کے قصے کی ثابت روایات میں یہ الفاظ نہیں ہیں، اور اس سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کا حال معلوم نہیں، واللہ اعلم۔ اور اس قصے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اگر اس کی سختی کا اندیشہ ہو تو اس پر پانی ڈال دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17429]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17430
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَابْنُ صَاعِدٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثنا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ:" لَا تَشْرَبُوا فِي نَقِيرٍ، وَلَا مُقَيَّرٍ، وَلَا ⦗٥٢٥⦘ دُبَّاءٍ، وَلَا حَنْتَمٍ، وَلَا مَزَادَةٍ، وَلَكِنِ اشْرَبُوا فِي سِقَاءِ أَحَدِكُمْ غَيْرَ مُسْكِرٍ، فَإِنْ خُشِيَ شِرَّتُهُ فَلْيَصُبَّ عَلَيْهِ الْمَاءَ" لَفْظُ ابْنِ مَنِيعٍ، وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ نُوحِ بْنِ قَيْسٍ، لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ هَذِهِ اللَّفْظَةَ، فَيُشْبِهُ أَنْ تَكُونَ مِنْ قَوْلِ بَعْضِ الرُّوَاةِ وَرُوِيَ فِي الْكَسْرِ بِالْمَاءِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے وفد کو فرمایا تھا: ”تم لکڑی کے کھوکھلے برتن، رال لگے برتن، کدو کے برتن، سبز مٹکے اور بڑے مشکیزے میں نہ پیو، بلکہ اپنے مشکیزے میں وہ پیو جو نشہ آور نہ ہو، اور اگر اس کی سختی کا اندیشہ ہو تو اس پر پانی ڈال دے۔“
ایک جماعت نے اسے نوح بن قیس سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے، لہٰذا لگتا ہے کہ یہ کسی راوی کا قول ہے۔ اور پانی ملا کر سختی توڑنے کی بات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور طریق سے بھی مروی ہے، لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17430]
ایک جماعت نے اسے نوح بن قیس سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے، لہٰذا لگتا ہے کہ یہ کسی راوی کا قول ہے۔ اور پانی ملا کر سختی توڑنے کی بات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور طریق سے بھی مروی ہے، لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17430]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 17431
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيذِ عَبْدُ الْقَيْسِ، أَتَوْهُ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا بِأَرْضِ رِيفٍ، وَإِنَّا نُصِيبُ مِنَ الْبَقْلِ، فَأْمُرْنَا بِشَرَابٍ، فَقَالَ:" اشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ، وَلَا تَشْرَبُوا فِي الْجَرِّ، وَلَا فِي الدُّبَّاءِ، وَلَا الْمُزَفَّتِ، وَلَا النَّقِيرِ، وَإِنِّي نَهَيْتُ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَالْكُوبَةِ، وَهِيَ الطَّبْلُ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ فَإِذَا اشْتَدَّ؟ قَالَ: فَقَالَ:" صُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ" قَال: فَإِذَا اشْتَدَّ؟ قَالَ:" صُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ" قَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ:" فَإِذَا اشْتَدَّ فَاهَرِيقُوهُ" خَالَفَهُ أَبُو جَمْرَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذِكْرُ الْكَسْرِ بِالْمَاءِ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے نبیذ کے بارے میں بنو عبدالقیس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ وہ آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! ہم کھیتی باڑی والی زمین میں رہتے ہیں اور ہمیں اسی سے پھل حاصل ہوتا ہے تو ہمیں مشروبات کے بارے میں بتائیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پینے والے برتنوں میں پیو اور مٹی کے گھڑے، کدو کے برتن، لکڑی کے برتن اور تارکول سے بنے برتن میں نہ پیو اور مجھے شراب، جوئے اور طبلہ سے منع کیا گیا ہے اور ہر نشہ آور چیز بھی منع ہے۔“ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر وہ بہت زیادہ گاڑھا ہوجائے تو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی اس میں ملا دو۔“ پھر انھوں نے یہی سوال کیا تو آپ نے پھر یہی جواب دیا۔ پھر جب تیسری یا چوتھی مرتبہ جب یہی سوال دہرایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ بہت سخت ہوجائے تو اسے انڈیل دو۔“
ابو جمرہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرنے میں اس کی مخالفت کی ہے، چنانچہ پانی ملانے کا ذکر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17431]
ابو جمرہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرنے میں اس کی مخالفت کی ہے، چنانچہ پانی ملانے کا ذکر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17431]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 17432
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، وَأَبُو الْحَسَنِ السِّرَاجُ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُقْعِدُنِي عَلَى سَرِيرِهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ عَبْدَ الْقَيْسِ تَنْتَبِذُ فِي مَزَادٍ لَهَا نَبِيذًا شَدِيدًا، قَالَ: فَإِذَا خَشِيتَ شِدَّتَهُ فَاكْسِرْهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ عَبْدَ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، لَيْسَ فِيهِ الْأَمْرُ بِالْكَسْرِ بِالْمَاءِ وَذَلِكَ يَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهُ، وَإِنَّمَا أَرَادَ بِالْكَسْرِ بِالْمَاءِ فِي هَذَا وَفِي غَيْرِهِ: إِذَا خَشِيَ شِدَّتَهُ قَبْلَ بُلُوغِهِ حَدَّ الْإِسْكَارِ بِدَلِيلِ قَوْلِهِ: وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَالْحَرَامُ لَا يُحِلُّهُ دُخُولُ الْمَاءِ فِيهِ.
ابو حمزہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے اپنی چارپائی پر بٹھایا اور حدیث بیان کی۔ میں نے کہا: کیا بنو عبدالقیس اتنی سخت نبیذ بناتے تھے؟ تو آپ نے فرمایا: ”جب سخت ہو جائے تو پانی ملا دو۔“ پھر اوپر والی حدیث ذکر کی، لیکن اس میں پانی ملانے والا ذکر نہیں کیا اور اس میں پانی ملانے کا حکم اس میں نشہ پیدا ہونے سے پہلے ہے اور نشہ حرام ہے جو پانی ملانے سے پاک نہیں ہو جاتا ہے کیونکہ فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17432]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17433
وَفِيمَا بَلَغَ حَدَّ الْإِسْكَارِ وَرَدَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ، ⦗٥٢٦⦘ فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَهُ بِنَبِيذٍ صَنَعْتُهُ فِي دُبَّاءٍ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِهِ، فَإِذَا هُوَ يَنِشُّ، فَقَالَ:" اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطَ، فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے پتا چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہیں تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی افطاری کی تیاری کی اور کدو کے برتن میں نبیذ بنایا، پھر میں اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا اور اس میں جھاگ بنی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اس دیوار کے ساتھ مار دو، یہ تو ان کا پینا ہے جن کا اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17433]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17434
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحُلْوَانِيُّ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ يَحْيَى، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَلَّاقٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ حُسَيْنٍ، مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17434]
حدیث نمبر: 17435
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَنْبَأَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ يُخْبِرُ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَبِيذِ جَرٍّ يَنِشُّ، فَقَالَ:" اضْرِبْ بِهِ الْحَائِطَ، فَإِنَّهُ لَا يَشْرَبُ هَذَا مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَوْ كَانَ إِلَى إِحْلَالِهِ بِصَبِّ الْمَاءِ عَلَيْهِ سَبِيلٌ لَمَا أَمَرَ بِإِرَاقَتِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَرَأَيْتُ فِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ كِلَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مَرْفُوعًا: لَا تَنْبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَلَا النَّقِيرِ وَلَا الْحَنْتَمِ، وَلَا تَنْبِذُوا الْبُسْرَ وَالرُّطَبَ جَمِيعًا، وَلَا التَّمْرَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا، وَمَا كَانَ سِوَى ذَلِكَ فَاشْتَدَّ عَلَيْكُمْ فَاكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ وَثُمَامَةُ بْنُ كِلَابٍ هَذَا مَجْهُولٌ، وَالثَّابِتُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّهْيِ عَنِ الْخَلِيطَيْنِ دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَرَأَيْتُهُ أَيْضًا فِي حَدِيثِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ السُّحَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: إِذَا رَابَكَ مِنْ شَرَابِكَ رَيْبٌ فشِنَّ عَلَيْهِ الْمَاءَ، أَمِطْ عَنْكَ حَرَامَهُ وَاشْرَبْ حَلَالَهُ وَهَذَا أَيْضًا ضَعِيفٌ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ اخْتَلَطَ فِي آخِرِ عُمْرِهِ، وَسَاءَ حِفْظُهُ، فَرَوَى مَا لَمْ ⦗٥٢٧⦘ يُتَابَعْ عَلَيْهِ، وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ: وَقَوْلُهُ: إِذَا رَابَكَ، قَالَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَذَكَرَهُ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ فِي مُسْنَدِهِ.
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مٹی کے مٹکے میں بنا ہوا نبیذ لایا گیا جس میں جھاگ بنا ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دیوار پر دے مارو۔ یہ اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھنے والے کا مشروب نہیں ہے۔“ شیخ فرماتے ہیں کہ اگر پانی کے ملانے سے یہ حلال ہو سکتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی اسے دیوار پر مارنے کا نہ کہتے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے برتن، تارکول اور لکڑی جو کھجور کی جڑ سے بنا ہوا برتن، اور رنگے ہوئے برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے اور خشک اور تر کھجور اور منقیٰ اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا ہے۔ ان کے علاوہ جو گاڑھا ہو جائے تو اس میں پانی ملا لو۔ لیکن اس کی سند میں ثمامہ بن کلاب مجہول ہے، اور یحییٰ بن ابی کثیر عن ابی سلمہ عن ابی قتادہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت روایت میں دو چیزیں ملا کر نبیذ بنانے کی ممانعت ہے، اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور مرفوع روایت آئی ہے، فرمایا کہ: ”جب مشروب میں شک ہو تو اس پر پانی ڈال دے اور جو اس سے حرام ہے اسے انڈیل دے اور حلال کو پی لے۔“ لیکن یہ بھی ضعیف ہے، کیونکہ عکرمہ بن عمار آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے اور ان کا حافظہ خراب ہو گیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17435]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے برتن، تارکول اور لکڑی جو کھجور کی جڑ سے بنا ہوا برتن، اور رنگے ہوئے برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے اور خشک اور تر کھجور اور منقیٰ اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا ہے۔ ان کے علاوہ جو گاڑھا ہو جائے تو اس میں پانی ملا لو۔ لیکن اس کی سند میں ثمامہ بن کلاب مجہول ہے، اور یحییٰ بن ابی کثیر عن ابی سلمہ عن ابی قتادہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت روایت میں دو چیزیں ملا کر نبیذ بنانے کی ممانعت ہے، اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور مرفوع روایت آئی ہے، فرمایا کہ: ”جب مشروب میں شک ہو تو اس پر پانی ڈال دے اور جو اس سے حرام ہے اسے انڈیل دے اور حلال کو پی لے۔“ لیکن یہ بھی ضعیف ہے، کیونکہ عکرمہ بن عمار آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے اور ان کا حافظہ خراب ہو گیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17435]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17436
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى الْبَزَّازُ، ثنا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، عَنِ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ، قَالَ: طَافَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ فِي يَوْمٍ قَائِظٍ شَدِيدِ الْحَرِّ، فَاسْتَسْقَى رَهْطًا مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ:" هَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ شَرَابٌ فَيُرْسِلَ إِلَيْهِ؟" فَأَرْسَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ نَبِيذُ زَبِيبٍ، فَلَمَّا رَآهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ بِعُودٍ تُعْرَضُ عَلَيْهِ؟"، فَلَمَّا أَدْنَاهُ مِنْهُ وَجَدَ لَهُ رَائِحَةً شَدِيدَةً، فَقَطَبَ وَرَدَّ الْإِنَاءَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ يَكُنْ حَرَامًا لَمْ نَشْرَبْهُ، فَاسْتَعَادَ الْإِنَاءَ وَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ الرَّجُلُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَدَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَصَبَّهُ عَلَى الْإِنَاءِ وَقَالَ:" إِذَا اشْتَدَّ عَلَيْكُمْ شَرَابُهُ فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا".
مطلب بن ابی وداعہ سہمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن سخت گرمی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے لوگوں سے پینے کے لیے کچھ مانگا تو ایک آدمی نے اپنے گھر پیغام بھیجا تو ایک لونڈی منقیٰ کا نبیذ لے آئی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا: ”تم نے اسے ڈھانپا کیوں نہیں، چاہے اس پر ایک لکڑی ہی آڑی رکھ دیتے؟“ جب اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ناپسندیدہ بو پائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ترش روئی محسوس ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ برتن واپس کر دیا تو ایک آدمی نے کہا: ”یا رسول اللہ! اگر یہ حرام ہے تو ہم اسے نہیں پئیں گے۔“ انہوں نے دوبارہ برتن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ویسے ہی واپس کر دیا، اس شخص نے پھر وہی بات کہی تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کا پانی منگوایا اور اس میں شامل کر دیا اور فرمایا: ”جب یہ سخت ہو جائے تو اس میں اس طرح پانی ملا دیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17436]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17437
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، قَالَ: طَافَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ حَارٍّ فَاسْتَسْقَى فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ مِنْ نَبِيذٍ، فَلَمَّا رَفَعَهُ إِلَى فِيهِ قَطَبَ فَتَرَكَهُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا شَرَابُ أَهْلِ مَكَّةَ، أَحَرَامٌ هُوَ؟ فَسَكَتَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَقَطَبَ فَنَحَّاهُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَدَعَا بِذَنُوبٍ أَوْ دَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ سَقَى الَّذِي يَلِيهِ وَالَّذِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ قَالَ:" هَكَذَا اصْنَعُوا بِهِ إِذَا غَلَبَكُمْ" فَهَذَا إِنَّمَا رَوَاهُ الْكَلْبِيُّ، وَالْكَلْبِيُّ مَتْرُوكٌ، وَأَبُو صَالِحٍ بَاذَانُ ضَعِيفٌ، لَا يُحْتَجُّ بِخَبَرِهِمَا وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ عَنْ سُفْيَانَ، فَغَلِطَ فِي إِسْنَادِهِ.
مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گرم دن طواف کیا اور پینے کو کچھ مانگا تو نبیذ کا ایک برتن لایا گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منہ کی طرف اٹھایا تو منہ بنایا اور اسے چھوڑ دیا۔ ایک آدمی نے کہا: ”یا رسول اللہ! یہ اہل مکہ کا مشروب ہے، کیا یہ حرام ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ پھر دوسری مرتبہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ بنایا اور اسے ہٹا دیا، اس آدمی نے پھر وہی بات کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک ڈول منگوایا اور اس میں ڈال دیا، پھر اپنے ساتھ والے اور اپنی دائیں جانب والے کو پلایا اور فرمایا: ”جب یہ تم پر غالب آ جائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کیا کرو۔“
اسے صرف کلبی نے روایت کیا ہے اور کلبی متروک ہے، اور ابو صالح باذان ضعیف ہے، ان دونوں کی روایت سے دلیل نہیں لی جاتی۔ اور یحییٰ بن یمان نے اسے سفیان سے روایت کیا تو اس کی سند میں غلطی کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17437]
اسے صرف کلبی نے روایت کیا ہے اور کلبی متروک ہے، اور ابو صالح باذان ضعیف ہے، ان دونوں کی روایت سے دلیل نہیں لی جاتی۔ اور یحییٰ بن یمان نے اسے سفیان سے روایت کیا تو اس کی سند میں غلطی کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17437]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17438
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا ابْنُ يَمَانٍ، ح وَأنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَحْرٍ الْعَطَّارُ جَمِيعًا بِالْبَصْرَةِ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: عَطِشَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوْلَ الْكَعْبَةِ فَاسْتَسْقَى، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ مِنَ السِّقَايَةِ، فَشَمَّهُ فَقَطَبَ فَقَالَ:" عَلَيَّ بِذَنُوبٍ مِنْ زَمْزَمَ" فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ، فَقَالَ رَجُلٌ: حَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" لَا" ⦗٥٢٨⦘ لَفْظُ حَدِيثِ الشَّهِيدِيِّ وَحَدِيثُ أَبِي مَعْمَرٍ مُخْتَصَرٌ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الطَّوَافِ: أَحَلَالٌ هُوَ أَمْ حَرَامٌ؟ قَالَ:" حَلَالٌ"، يَعْنِي النَّبِيذَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ: هَذَا حَدِيثٌ مَعْرُوفٌ بِيَحْيَى بْنِ يَمَانٍ، وَيُقَالُ: إِنَّهُ انْقَلَبَ عَلَيْهِ الْإِسْنَادُ، وَاخْتَلَطَ بِحَدِيثِ الْكَلْبِيِّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، وَالْكَلْبِيُّ مَتْرُوكٌ، وَأَبُو صَالِحٍ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کعبہ کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نبیذ لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بو سے منہ بنایا اور زمزم کا پانی منگوایا اور اس میں ڈالا، پھر اسے نوش فرمایا تو ایک شخص کہنے لگا: یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: یہ حلال ہے یا حرام؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حلال۔“
علی بن عمر (دارقطنی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث یحییٰ بن یمان کے واسطے سے معروف ہے، اور کہا جاتا ہے کہ ان پر سند الٹ گئی اور کلبی عن ابی صالح کی حدیث کے ساتھ خلط ملط ہو گئی، اور کلبی متروک ہے اور ابو صالح ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17438]
علی بن عمر (دارقطنی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث یحییٰ بن یمان کے واسطے سے معروف ہے، اور کہا جاتا ہے کہ ان پر سند الٹ گئی اور کلبی عن ابی صالح کی حدیث کے ساتھ خلط ملط ہو گئی، اور کلبی متروک ہے اور ابو صالح ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17438]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر