السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3536. -- باب: مبتدأ البعث والتنزيل
-- باب: بعثت (نبوت) اور نزولِ وحی کے آغاز کا بیان۔
حدیث نمبر: 17721
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، قَالَتْ: كَانَ أَوَّلَ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللهِ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي النَّوْمِ، فَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، ثُمَّ حَبَّبَ اللهُ إِلَيْهِ الْخَلَاءَ، فَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ أُولَاتِ الْعَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَتُزَوِّدُهُ بِمِثْلِهَا، حَتَّى فَجَأَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ، فَجَاءَهُ الْمَلَكُ، فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقَالَ:" مَا أَنَا بِقَارِئٍ"، قَالَ: فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقُلْتُ:" مَا أَنَا بِقَارِئٍ"، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقُلْتُ:" مَا أَنَا بِقَارِئٍ"، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ، خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ، اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ، الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ، عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ} [العلق: ٢] ، فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَ:" زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي"، فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ، ثُمَّ قَالَ لِخَدِيجَةَ:" أَيْ خَدِيجَةُ مَا لِي"، وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ، قَالَ:" لقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي"، قَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ: كَلَّا ⦗١١⦘ أَبْشِرْ فَوَاللهِ لَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا، وَاللهِ إِنَّكَ لِتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتُكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ، فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ ابْنُ أَخِي أَبِيهَا، وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ وَيَكْتُبُ مِنَ الْإِنْجِيلِ بِالْعَرَبِيَّةِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَكْتُبَ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ، فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ: أَيْ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ، قَالَ وَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ: ابْنَ أَخِي مَاذَا تَرَى؟، فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا رَأَى، فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ: هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي نَزَّلَ اللهُ عَلَى مُوسَى، يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا، يَا لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَمُخْرِجِيَّ هُمْ؟"، قَالَ وَرَقَةُ: نَعَمْ، لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ، وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ يُونُسَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتدا نیند کی حالت میں اچھے خوابوں سے ہوئی اور جو بھی آپ خواب دیکھتے وہ حالت بیداری میں صبح کی روشنی کی طرح پورا ہو جاتا۔ پھر آپ کو تنہائی اچھی لگنے لگی اور غارِ حرا میں اکیلے رہنے لگے اور کئی راتوں تک وہاں عبادت کرتے۔ اس سے پہلے پہلے جب تک کہ آپ کے دل میں گھر آنے کا شوق پیدا ہوتا اور اس کام کے لیے اپنے ساتھ زادِ راہ لے جاتے۔ پھر جب (زادِ راہ ختم ہو جاتا) تو اتنا ہی زادِ راہ پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے لے جاتے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی غارِ حرا میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اچانک وحی آگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا: ”پڑھیے!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو پڑھا (لکھا) نہیں ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پھر جبرائیل علیہ السلام نے مجھ کو پکڑ کر ایسا دبایا کہ میں بے طاقت ہو گیا۔ پھر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: ”پڑھیے!“ میں نے کہا: ”میں تو پڑھ نہیں سکتا۔“ پھر انہوں نے مجھے پکڑ لیا اور دوسری بار زور سے دبایا کہ میں بے سکت ہو گیا۔ پھر انہوں نے مجھے چھوڑا اور کہا: ”پڑھیے!“ میں نے کہا: ”(کیسے پڑھوں) میں تو پڑھا (لکھا) نہیں ہوں۔“ پھر انہوں نے مجھے پکڑ لیا اور تیسری بار پھر زور سے بھینچا حتیٰ کہ میری طاقت نے جواب دے دیا۔ پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ﴾ [سورة العلق: 1-4] ”اس پروردگار کے نام سے پڑھ جس نے (تمام چیزیں) بنائیں۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا تو پڑھتا رہ تیرا رب بڑے کرم والا ہے، جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیات سن کر لوٹے اور آپ کا دل (ڈر کے مارے) کانپ رہا تھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور کہا: ”مجھے کمبل اوڑھا دو، مجھے کمبل اوڑھا دو۔“ انہوں نے کمبل اوڑھا دیا حتیٰ کہ آپ سے خوف جاتا رہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”اے خدیجہ! مجھے کیا ہو گیا ہے؟“ اور پورا واقعہ بیان کیا اور کہا: ”مجھے اپنی جان کے بارے میں ڈر ہے۔“ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”ہرگز نہیں، آپ خوش ہو جائیں۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو صلہ رحمی کرتے ہیں اور سچ بات بیان کرتے ہیں اور ناتوانوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور جن کا کوئی کمانے والا نہیں ہوتا ان کے لیے کماتے ہیں اور مہمان نوازی کرتے ہیں اور حادثوں (اور جھگڑوں) میں حق کی مدد کرتے ہیں۔“ پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کو لے کر ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی جو سیدہ خدیجہ کے چچا زاد بھائی تھے اور وہ بت پرستی چھوڑ کر جاہلیت کے زمانے میں عیسائی بن گئے تھے اور وہ کتاب کو عربی زبان میں لکھتے تھے اور انجیل جو اللہ نے ان سے لکھوانا چاہی عربی میں لکھتے تھے اور وہ بوڑھے ضعیف ہو کر اندھے ہو گئے تھے تو انہیں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے میرے چچا (زاد بھائی)! اپنے بھتیجے کی بات تو سنو!“ ورقہ بن نوفل نے کہا: ”اے میرے بھتیجے! (کہو) تم نے کیا دیکھا ہے؟“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دیکھا تھا وہ ان سے بیان کیا تو ورقہ بن نوفل نے آپ سے کہا: ”یہ وہی فرشتہ ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا گیا۔ کاش! میں اس وقت نوجوان ہوتا، کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ کو آپ کی قوم جلا وطن کرتی۔“ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ مجھ کو نکال دیں گے؟“ ورقہ نے کہا: ”ہاں! (بےشک وہ آپ کو نکال دیں گے) جب کبھی کسی شخص نے ایسی بات کہی جیسی آپ کہتے ہو تو لوگ اس کے دشمن بن گئے اور اگر میں آپ کے اس دن کو پالوں تو میں تمہاری پوری قوت سے مدد کروں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17721]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17722
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُكْرَمٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" فَتَرَ الْوَحْيُ عَنِّي، فَبَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي قِبَلَ السَّمَاءِ، فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَخَشِيتُ مِنْهُ فَرَقًا حَتَّى هَوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ، فَجِئْتُ أَهْلِي، فَقُلْتُ لَهُمْ:" زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي"، فَزَمَّلُونِي فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ، قُمْ فَأَنْذِرْ، وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ، وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ، وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} [المدثر: ٢] "، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَالرُّجْزُ: الْأَوْثَانُ، قَالَ:" ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْيُ بَعْدُ وَتَتَابَعَ"..
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کچھ دیر مجھ سے وحی کا توقف ہو گیا اور اسی دوران میں ایک بار (راستے میں) جا رہا تھا۔ اتنے میں میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، آنکھ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غارِ حرا میں آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان میں ایک کرسی پر (معلق) بیٹھا ہے۔ میں یہ دیکھ کر ڈر گیا حتیٰ کہ میں زمین کی طرف جھکا اور میں گھر کو لوٹا اور ان سے کہا: مجھے کمبل اوڑھا دو، مجھے کمبل اوڑھا دو۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ﴾ [سورة المدثر: 1-5] ”اے کپڑا اوڑھنے والے! کھڑا ہو جا اور لوگوں کو ڈرا اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھ اور ناپاکی کو چھوڑ دے۔“ ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: «الرُّجْز» سے مراد بت ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس کے بعد وحی کا سلسلہ تیز ہو گیا اور لگاتار آنے لگی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17722]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17723
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَقِيلٍ هُوَ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، أَخْبَرَنِي عَقِيلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" فَتَرَ الْوَحْيُ عَنِّي فَتْرَةً"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ، ⦗١٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ شُعَيْبٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ایک مدت کے لیے مجھ پر وحی کا نزول بند ہو گیا،“ اس کے بعد اوپر والی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17723]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17724
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، ثنا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، إِمْلَاءً، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ} [العلق: ١] ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قرآن مجید میں جس چیز کا پہلے نزول ہوا، وہ ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ [سورة العلق: 1] ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17724]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح