السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3549. -- باب: من لا يجب عليه الجهاد
-- باب: اس شخص کے بیان میں جس پر جہاد فرض نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 17802
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ:" جِهَادُكُنَّ أَوْ حَسْبُكُنَّ الْحَجُّ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ.
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد کرنے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا جہاد تمہارا حج ہے یا حج کرنا ہی تمہیں کافی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17802]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٢٨٧٥»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17803
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْعَلَوِيُّ، وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ النَّجَّارُ الْمُقْرِئُ بِالْكُوفَةِ، قَالَا: أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، ⦗٣٧⦘ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: اسْتَأْذَنْتُهُ فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ:" حَسْبُكُنَّ الْحَجُّ أَوْ جِهَادُكُنَّ الْحَجُّ"..
یہ روایت بھی پہلی روایت کی طرح ہے۔ یہاں پر «حَسْبُكُنَّ الْحَجُّ أَوْ جِهَادُكُنَّ الْحَجُّ» ”تمہارے لیے حج کافی ہے یا تمہارا جہاد حج ہے“ کے الفاظ ہیں۔ (سابقہ حوالہ) [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17803]
حدیث نمبر: 17804
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ، وَأَبُو الْقَاسِمِ بْنُ النَّجَّارِ الْمُقْرِئُ، قَالَا: أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِنَحْوِ هَذَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قَبِيصَةَ، بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا.
یہ روایت بھی سابقہ روایات کی طرح ہے اور اس کی دونوں سندیں قبیصہ سے منقول ہیں۔ (سابقہ حوالہ) [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17804]
حدیث نمبر: 17805
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي مَحْمُودٌ الْوَاسِطِيُّ لَفْظَهُ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَا: ثنا وَهْبٌ، أنبأ خَالِدٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ نَرَى الْجِهَادَ أَفْضَلَ الْعَمَلِ؛ أَفَلَا نُجَاهِدُ مَعَكَ؟ قَالَ:" لَا وَلَكِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ حَجٌّ مَبْرُورٌ". وَكَانَتْ عَائِشَةُ خَالَتَهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہم جہاد کو افضل عمل سمجھتی ہیں، کیا ہم بھی آپ کے ساتھ جہاد نہ کریں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، لیکن (عورتوں کے لیے) افضل جہاد حج مبرور ہے۔“
اسے امام بخاری نے صحیح میں عبدالرحمن بن مبارک سے، انہوں نے خالد بن عبداللہ سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17805]
اسے امام بخاری نے صحیح میں عبدالرحمن بن مبارک سے، انہوں نے خالد بن عبداللہ سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17805]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17806
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيَغْزُو الرِّجَالُ وَلَا نَغْزُو فَنُسْتَشْهَدَ، وَإِنَّمَا لَنَا نِصْفُ الْمِيرَاثِ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: {وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ} [سورة: النساء، آية رقم: ٣٢] .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مرد غزوات میں شریک ہوتے ہیں اور ہم شرکت نہیں کرتیں اور نہ ہم قتال کرتی ہیں کہ ہمیں شہادت مل جائے اور اسی طرح مردوں کے مقابلے میں ہمیں وراثت میں آدھا حصہ ملتا ہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ﴾ [سورة النساء: 32] ”جس چیز کے ساتھ اللہ نے تمہارے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اس کی تمنا نہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17806]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17807
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُرَيْشٍ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" عَرَضَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فِي الْقِتَالِ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ فَلَمْ يُجِزْنِي، وَعَرَضَنِي يَوْمَ الْخَنْدَقِ، وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَنِي". قَالَ نَافِعٌ: فَقَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ فَحَدَّثْتُهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْحَدُّ بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ. وَكَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ أَنْ يَفْرِضُوا لِمَنْ كَانَ ابْنَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً وَمَا كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَاجْعَلُوهُ فِي الْعِيَالِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے احد کی لڑائی میں احد کے دن اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت نہ دی اور اس وقت میری عمر چودہ سال تھی۔ پھر خندق کے دن میں نے پیش کیا تو میری عمر پندرہ سال تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (اس میں حصہ لینے کی) اجازت دے دی۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دورِ خلافت میں ان کے پاس گیا اور انہیں یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا کہ یہ چھوٹے اور بڑے کے درمیان حد ہے۔ پھر انہوں نے اپنے عاملوں کی طرف لکھا کہ جس کی عمر پندرہ سال ہو تو وہ اس کو قتال میں شریک کریں اور جو اس سے کم عمر کا ہو تو اس کو اہل و عیال میں بھیج دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17807]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17808
أخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ⦗٣٨⦘ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" عُرِضْتُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ أَنَا وَرَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَا وَهُوَ ابْنَا خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَقَبِلَنَا".
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں اور رافع بن خدیج خندق کے دن (جنگ کے لیے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیے گئے اور اس وقت ہم دونوں پندرہ پندرہ سال کے تھے تو آپ نے ہم دونوں کو قبول کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17808]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17809
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَبَّانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي عَتَّابٍ الْأَعْيَنُ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا عَمِّي عَمْرُو بْنُ زَيْدِ بْنِ جَارِيَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي زَيْدُ بْنُ جَارِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَصْغَرَ نَاسًا يَوْمَ أُحُدٍ مِنْهُمْ زَيْدُ بْنُ جَارِيَةَ يَعْنِي نَفْسَهُ، وَالْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، وَزَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، وَسَعْدٌ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَذَكَرَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، كَذَا فِي كِتَابِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَرَأَيْتُهُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ ابْنُ عُبَيْدِ اللهِ.
سیدنا زید بن جاریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن چند بچوں کو چھوٹا جانتے ہوئے (جہاد کے لیے) قبول نہ فرمایا، ان میں سے ایک تو میں تھا اور سیدنا براء بن عازب، سیدنا زید بن ارقم، سیدنا سعد ابو سعید خدری اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم تھے اور (راوی نے) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا بھی ذکر کیا۔
میری کتاب میں (سند کے راوی کا نام) اسی طرح عثمان بن عبداللہ ہے، اور ایک دوسری جگہ میں نے اسے ابن عبید اللہ دیکھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17809]
میری کتاب میں (سند کے راوی کا نام) اسی طرح عثمان بن عبداللہ ہے، اور ایک دوسری جگہ میں نے اسے ابن عبید اللہ دیکھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17809]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17810
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَتْ بِي أُمِّي فَقَدِمَتِ الْمَدِينَةَ فَخَطَبَهَا النَّاسُ، فَقَالَتْ: لَا أَتَزَوَّجُ إِلَّا بِرَجُلٍ يَكْفُلُ لِي هَذَا الْيَتِيمَ، فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ غِلْمَانَ الْأَنْصَارِ فِي كُلِّ عَامٍ فَيُلْحِقُ مَنْ أَدْرَكَ مِنْهُمْ. قَالَ: وَعُرِضْتُ عَامًا فَأَلْحَقَ غُلَامًا وَرَدَّنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ أَلْحَقْتَهُ وَرَدَدْتَنِي، وَلَوْ صَارَعْتُهُ لَصَرَعْتُهُ، قَالَ:" فَصَارِعْهُ"، فَصَارَعْتُهُ فَصَرَعْتُهُ؛ فَأَلْحَقَنِي".
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری ماں مجھے مدینہ میں لے کر آئی تو لوگوں نے ان کی طرف نکاح کے پیغام بھیجے تو انہوں نے کہا کہ میں نکاح اس آدمی سے کروں گی جو اس یتیم کی پرورش کرے گا، تو انہوں نے انصار میں سے ایک آدمی سے نکاح کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال انصار کے بچوں کو، جب ان کو پیش کیا جاتا، ان میں سے جس کے اندر صلاحیت معلوم کرتے اس کو لشکر میں بھیج دیتے۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک سال مجھے اور میرے ساتھ ایک اور لڑکے کو پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قبول کر لیا اور مجھے رد کر دیا۔ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے اس کو قبول کر لیا ہے اور مجھے واپس کر دیا ہے، اگر میں اسے گرا لوں تو کیا پھر میں بھی جا سکتا ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلو تم دونوں کشتی کر لو۔“ تو وہ کہتے ہیں: میں نے اسے پچھاڑ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی اجازت دے دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17810]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17811
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ خِلَالٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يُكَاتِبُ الْحَرُورِيَّةَ وَلَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ أَكْتُمَ عِلْمًا لَمْ أَكْتُبْ إِلَيْهِ. فَكَتَبَ نَجْدَةُ إِلَيْهِ: أَمَّا بَعْدُ، فَأَخْبِرْنِي هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ وَهَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ؟ وَهَلْ كَانَ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ؟ وَمَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ؟ وَعَنِ الْخُمُسِ لِمَنْ هُوَ؟. فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّكَ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ، وَقَدْ كَانَ يَغْزُو ⦗٣٩⦘ بِهِنَّ يُدَاوِينَ الْمَرْضَى وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ، وَأَمَّا السَّهْمُ فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ بِسَهْمٍ، وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلِ الْوِلْدَانَ فَلَا تَقْتُلْهُمْ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ الْخِضْرُ مِنَ الصَّبِيِّ الَّذِي قَتَلَ، فَتُمَيِّزَ بَيْنَ الْمُؤْمِنِ وَالْكَافِرِ، فَتَقْتُلَ الْكَافِرَ وَتَدَعَ الْمُؤْمِنَ، وَكَتَبْتَ مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ، وَلَعَمْرِي إِنَّ الرَّجُلَ لَتَنْبُتُ لِحْيَتُهُ وَإِنَّهُ لَضَعِيفُ الْأَخْذِ ضَعِيفُ الْإِعْطَاءِ، فَإِذَا أَخَذَ لِنَفْسِهِ مِنْ صَالِحِ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ فَقَدْ ذَهَبَ عَنْهُ الْيُتْمُ، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْخُمُسِ وَإِنَّا كُنَّا نَقُولُ: هُوَ لَنَا فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا فَصَبَرْنَا عَلَيْهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي هَذَا الْحَدِيثِ:" وَأَمَّا النِّسَاءُ وَالْعَبِيدُ فَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شَيْءٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ، وَلَكِنْ يُحْذَوْنَ مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِ".
یزید بن ہرمز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نجدہ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف لکھا اور وہ آپ سے خلال کے متعلق پوچھ رہے تھے تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ابن عباس حروریوں سے خط و کتابت کرتے ہیں اور اگر مجھے علم چھپانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس کو کبھی نہ لکھتا۔ نجدہ نے ان کو لکھا: «أَمَّا بَعْدُ!» ”اما بعد!“ مجھے یہ بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے ساتھ غزوہ کرتے تھے اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے حصہ مقرر کرتے تھے؟ اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو قتل کرتے تھے اور یتیم کی یتیمیت کب پوری ہوتی ہے اور خمس کے متعلق بتائیے کہ وہ کس کے لیے ہے؟ پھر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کی طرف لکھا کہ تم نے مجھ سے پوچھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے ساتھ مل کر غزوہ کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: ہاں، عورتیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ میں شریک ہوتی تھیں لیکن وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں اور بیماروں کی تیمار داری کرتی تھیں اور انھیں غنیمت میں سے دیا جاتا تھا لیکن ان کا حصہ مقرر نہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے۔ پس تم بھی ان کو قتل نہ کرنا ما سوائے اس کے کہ تم ان بچوں میں وہ کچھ جان لو جو کچھ خضر (علیہ السلام) نے جانا تھا اور اسی طرح مومن اور کافر کے درمیان تمیز کرنا، پس کافر کو قتل کر دینا اور مومن کو چھوڑ دینا اور اسی طرح تو نے لکھا ہے کہ یتیم کی یتیمیت کب پوری اور مکمل ہوتی ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میری عمر کی قسم! بعض دفعہ آدمی کی داڑھی نکل آتی ہے اور اس کو لین دین کا کوئی پتہ نہیں ہوتا، وہ اس معاملے میں بالکل کمزور ہوتا ہے اور جس کو وہ سمجھ بوجھ حاصل ہو جائے جو باقی لوگوں کو ہوتی ہے تو اس کی یتیمیت ختم ہو جاتی ہے اور تم نے مجھ سے خمس کے متعلق سوال کیا ہے تو ہم کہا کرتے تھے: یہ ہمارے لیے ہے، لیکن قوم نے ہم پر انکار کر دیا (کہ یہ تمہارا نہیں) تو ہم نے صبر کیا۔
اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ رہے غلام اور عورتیں تو ان کے لیے جب یہ جنگ میں حاضر ہوتے تو کوئی خاص حصہ مقرر نہیں تھا، لیکن وہ قوم کے غنائم میں سے کچھ لے لیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17811]
اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ رہے غلام اور عورتیں تو ان کے لیے جب یہ جنگ میں حاضر ہوتے تو کوئی خاص حصہ مقرر نہیں تھا، لیکن وہ قوم کے غنائم میں سے کچھ لے لیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17811]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح