🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3551. -- باب: الرجل لا يجد ما ينفق
-- باب: اس شخص کے بیان میں جسے جہاد کے لیے خرچ کرنے کو کچھ نہ ملے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q17822
قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا عَلَى الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنْفِقُونَ حَرَجٌ} [التوبة: 91] ..
اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿وَلَا عَلَى الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنْفِقُونَ حَرَجٌ﴾ ”اور نہ ان لوگوں پر کوئی گناہ ہے جو خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں پاتے۔“ [سورة التوبة: 91] ... [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: Q17822]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17822
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا ⦗٤٣⦘ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللهِ، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ، وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً فَيَتَّبِعُونِي، وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَقْعُدُوا بَعْدِي". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر مومنوں پر گراں نہ ہو کہ میں کسی بھی لڑائی سے پیچھے نہ رہوں جو اس کے راستہ میں لڑی جائے لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ ان سب کو سوار کر سکوں، ان کے پاس بھی اتنی فراخی نہیں ہے کہ وہ میری پیروی کر سکیں اور ان کے دل اس کو پسند نہیں کرتے کہ وہ میرے لڑائی میں جانے کے بعد بیٹھے رہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17822]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17823
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ".
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے لیے بطور گناہ یہی کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو ضائع کر دے جن کی روزی اس کے ذمے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17823]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17824
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا رِيَاحُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا شَابٌّ مِنَ الثَّنِيَّةِ، فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ بِأَبْصَارِنَا قُلْنَا: لَوْ أَنَّ هَذَا الشَّابَّ جَعَلَ شَبَابَهُ وَنَشَاطَهُ وَقُوَّتَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ. قَالَ: فَسَمِعَ مَقَالَتَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَمَا سَبِيلُ اللهِ إِلَّا مَنْ قَتَلَ؟ مَنْ سَعَى عَلَى وَالِدَيْهِ فَفِي سَبِيلِ اللهِ، وَمَنْ سَعَى عَلَى عِيَالِهِ فَفِي سَبِيلِ اللهِ، وَمَنْ سَعَى عَلَى نَفْسِهِ لِيُعِفَّهَا فَفِي سَبِيلِ اللهِ، وَمَنْ سَعَى عَلَى التَّكَاثُرِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ الشَّيْطَانِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے، اچانک ایک نوجوان ثنیہ کی پہاڑیوں سے نمودار ہوا۔ جب ہم نے اس کو دیکھا تو ہم نے کہا: کاش اس جوان کی جوانی، چستی اور قوت اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہو۔ راوی کہتا ہے: ہماری بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لیا اور فرمایا: ”صرف اللہ کے راستے میں قتل ہونا ہی «سَبِيلِ اللہِ» ”اللہ کا راستہ“ ہے؟ جس نے اپنے والدین کی خدمت کی وہ اس کے راستے میں ہے اور جس نے اپنے خاندان کی کفالت کی وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے اور جس نے اپنے نفس کی حفاظت کی تاکہ اس کو بچا کر رکھے، وہ بھی اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے اور جس نے زیادہ مال جمع کرنے کی کوشش کی وہ شیطان کے راستے پر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17824]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں