السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3558. -- باب: الإمام لا يجمر بالغزى
-- باب: امام غازیوں کو محاذِ جنگ پر مسلسل طویل عرصے تک نہ روکے رکھے۔
حدیث نمبر: Q17848
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" فَإِنْ جَمَّرَهُمْ فَقَدْ أَسَاءَ وَيَجُوزُ لِكُلِّهِمْ خِلَافُهُ وَالرُّجُوعُ"..
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پس اگر (امام) انہیں (سرحد پر) طویل مدت تک روکے رکھے اور گھر واپس نہ آنے دے تو اس نے برا کیا، اور ان سب کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کی مخالفت کریں اور (اپنے گھروں کو) لوٹ جائیں۔“... [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: Q17848]
حدیث نمبر: 17848
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا أَبُو صَالِحٍ يَعْنِي مَحْبُوبَ بْنَ مُوسَى، ثنا الْفَزَارِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ:" أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ إِلَيْكُمْ عُمَّالِي لِيَضْرِبُوا أَبْشَارَكُمْ، وَلَا لِيَأْخُذُوا أَمْوَالَكُمْ، وَلَكِنْ بَعَثْتُهُمْ لِيُعَلِّمُوكُمْ دِينَكُمْ وَسُنَّتَكُمْ، فَمَنْ فُعِلَ بِهِ غَيْرُ ذَلِكَ فَلْيَرْفَعْهُ إِلِيَّ فَأَقُصَّهُ مِنْهُ، أَلَا لَا تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِينَ فَتُذِلُّوهُمْ وَلَا تَمْنَعُوهُمْ فَتُكْفِرُوهُمْ، وَلَا تُجَمِّرُوهُمْ فَتَفْتِنُوهُمْ، وَلَا تُنْزِلُوهُمُ الْغِيَاضَ فَتُضَيِّعُوهُمْ".
سیدنا ابو فراس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ میں ہمیں کہا: اے لوگو! میں عمال کو تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجتا کہ وہ تمہاری کھالوں (جسموں) پر ماریں اور تمہارے مال کو لے لیں، ان کو اس لیے بھیجتا ہوں کہ وہ تم کو دین سکھائیں اور سنت سکھائیں، اگر ان میں سے کوئی اس کے علاوہ کام کرے تو اس کا معاملہ مجھ تک پہنچاؤ، میں اس سے بدلہ لوں گا۔ خبردار! مسلمانوں کو مار کر ان کو ذلیل نہ کرو، مسلمانوں کو بار بار ٹوک کر اور منع کر کے کفر پر مجبور نہ کریں اور گھروں کو واپسی سے مجاہدین کو نہ روکیں، اگر روکو گے تو وہ فتنہ میں مبتلا ہو جائیں گے اور مجاہدین کو مشکل راستوں پر ڈال کر ضائع نہ کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17848]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17849
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أنبأ ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ جَيْشًا مِنَ الْأَنْصَارِ كَانُوا بِأَرْضِ فَارِسَ مَعَ أَمِيرِهِمْ، وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعْقِبُ الْجُيُوشَ فِي كُلِّ عَامٍ، فَشُغِلَ عَنْهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا مَرَّ الْأَجَلُ قَفَلَ أَهْلُ ⦗٥١⦘ ذَلِكَ الثَّغْرِ، فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ وَأَوْعَدَهُمْ وَهُمْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا عُمَرُ إِنَّكَ غَفَلْتَ عَنَّا، وَتَرَكْتَ فِينَا الَّذِي أَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِعْقَابِ بَعْضِ الْغَزِيَّةِ بَعْضًا".
عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انصار کا لشکر اپنے امیر کے ساتھ فارس میں تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ ایک سال بعد لشکر کو واپس بلاتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان سے غافل ہو گئے۔ جب مقررہ وقت گزر گیا تو سرحد والے لوگ لوٹ آئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان پر سختی کی اور انہیں دھمکایا، حالانکہ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے۔ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہم سے غافل ہو گئے اور آپ نے ہمارے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کو ترک کر دیا کہ ”لشکر کو تھوڑا تھوڑا کر کے واپس لایا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17849]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه السجستاني»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17850
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَسَمِعَ امْرَأَةً تَقُولُ:.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ رات کو نکلے، انہوں نے ایک عورت کی آواز سنی، وہ شعر پڑھ رہی تھی: رات لمبی ہو گئی اور اس کے اطراف سیاہ ہو گئے ہیں، میری راتوں کی نیند اڑا دی ہے اس بات نے کہ میرا حبیب (محبوب) نہیں ہے، اللہ کی قسم! اگر اللہ نہ ہوتا تو میں اس کی دیکھ بھال کرتی اور اس چارپائی کے پہلو حرکت کرتے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: عورت زیادہ سے زیادہ اپنے خاوند کے بغیر کتنا صبر کر سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: چھ ماہ یا چار ماہ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں کسی لشکر کو اس سے زیادہ نہیں روکوں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17850]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: عورت زیادہ سے زیادہ اپنے خاوند کے بغیر کتنا صبر کر سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: چھ ماہ یا چار ماہ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں کسی لشکر کو اس سے زیادہ نہیں روکوں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17850]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف