السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3575. -- باب: الغنيمة لمن شهد الوقعة
-- باب: مالِ غنیمت اس شخص کے لیے ہے جو جنگ میں حاضر ہو۔
حدیث نمبر: 17951
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: مَعْلُومٌ عِنْدَ غَيْرِ وَاحِدٍ مِمَّنْ لَقِيتُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالرِّدَّةِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" إِنَّمَا الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ".
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جن اہل علم سے میں ملا ہوں ان میں سے اکثر سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: غنیمت اس کے لیے جو واقعہ میں حاضر ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17951]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ شافعي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17952
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ حِكَايَةً عَنْ أَبِي يُوسُفَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَ عِكْرِمَةَ بْنَ أَبِي جَهْلٍ فِي خَمْسِمِائَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مَدَدًا لِزِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ وَلِلْمُهَاجِرِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، فَوَافَقَهُمُ الْجُنْدُ قَدِ افْتَتَحُوا النَّجِيرَ بِالْيَمِينِ، فَأَشْرَكَهُمْ زِيَادُ بْنُ لَبِيدٍ وَهُوَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا فِي الْغَنِيمَةِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَإِنَّ زِيَادًا كَتَبَ فِيهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَتَبَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنَّمَا الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ". وَلَمْ يَرَ لِعِكْرِمَةَ شَيْئًا؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَشْهَدِ الْوَقْعَةَ، فَكَلَّمَ زِيَادٌ أَصْحَابَهُ فَطَابُوا أَنْفُسًا بِأَنْ أَشْرَكُوا عِكْرِمَةَ وَأَصْحَابَهُ مُتَطَوِّعِينَ عَلَيْهِمْ، وَهَذَا قَوْلُنَا".
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ کو زیاد بن لبید اور مہاجر بن ابی امیہ رضی اللہ عنہما کی مدد کے لیے پانچ سو مسلمانوں کے ساتھ روانہ کیا۔ ان کو لشکر ملا، وہ یمن میں نجیر کے علاقہ کو فتح کر چکے تھے، تو زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ نے ان کو مالِ غنیمت میں شامل کیا، وہ بدر میں شریک ہونے والوں میں سے تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زیاد نے یہ معاملہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لکھا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ غنیمت اس کے لیے ہے جو واقعہ میں موجود تھا۔ وہ عکرمہ رضی اللہ عنہ کے لیے غنیمت سے کچھ حصہ خیال نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ واقعہ میں موجود نہیں تھے، تو زیاد نے اپنے ساتھیوں سے اس بارے میں بات کی تو انہوں نے دل کی خوشی سے ان کو شریک کرنے کا کہا رضاکارانہ طور پر۔ اور یہی ہمارا قول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17952]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17953
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ طَارِقَ بْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ: إِنَّ أَهْلَ الْبَصْرَةِ غَزَوْا أَهْلَ نَهَاوَنْدَ، فَأَمَدُّوهُمْ بِأَهْلِ الْكُوفَةِ وَعَلَيْهِمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَقَدِمُوا عَلَيْهِمْ بَعْدَ مَا ظَهَرُوا عَلَى الْعَدُوِّ، فَطَلَبَ أَهْلُ الْكُوفَةِ الْغَنِيمَةَ وَأَرَادَ أَهْلُ الْبَصْرَةِ أَنْ لَا يَقْسِمُوا لِأَهْلِ الْكُوفَةِ مِنَ الْغَنِيمَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ: أَيُّهَا الْأَجْدَعُ، تُرِيدُ أَنْ تُشَارِكَنَا فِي غَنَائِمِنَا؟ قَالَ: وَكَانَتْ أُذُنُ عَمَّارٍ جُدِعَتْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَتَبُوا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ عُمَرُ:" إِنَّ الْغَنِيمَةَ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ".
طارق بن شہاب کہتے ہیں: اہل بصرہ نے اہل نہاوند سے جنگ لڑی، ان کو اہل کوفہ کے ذریعے مدد ملی اور ان پر امیر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما تھے۔ وہ (اہل کوفہ) اہل بصرہ کے دشمن پر غلبہ پا لینے کے بعد ان کے پاس پہنچے اور اہل کوفہ نے غنیمت کا مال طلب کیا، جبکہ بصرہ والے اہل کوفہ کو مالِ غنیمت سے حصہ نہیں دینا چاہتے تھے۔ بنو تمیم کے ایک آدمی نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے کہا: اے کن کٹے! کیا تم ہمارے غنیمت کے مال میں ہمارے ساتھ شریک ہونا چاہتے ہو؟ عمار رضی اللہ عنہما کے کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کاٹ دیے گئے تھے، تو انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ غنیمت اس کی ہے جو واقعہ میں موجود ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17953]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17954
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ الْأَحْمَسِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنَّ الْغَنِيمَةَ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ". هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
طارق بن شہاب احمسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ غنیمت میں اس کا حصہ ہے جو واقعہ میں شریک ہو۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہی روایت صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17954]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہی روایت صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17954]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17955
وَأَمَّا الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ حِكَايَةً عَنْ أَبِي يُوسُفَ، عَنِ الْمُجَالِدِ، عَنْ عَامِرٍ، وَزِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ:" قَدْ أَمْدَدْتُكَ بِقَوْمٍ فَمَنْ أَتَاكَ مِنْهُمْ قَبْلَ أَنْ تَتَفَقَّأَ الْقَتْلَى فَأَشْرِكْهُ فِي الْغَنِيمَةِ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَهَذَا غَيْرُ ثَابِتٍ عَنْ عُمَرَ، وَلَوْ ثَبَتَ عَنْهُ كُنَّا أَسْرَعَ إِلَى قَبُولِهِ مِنْهُ، ثُمَّ ذَكَرَ مُخَالَفَةَ أَبِي يُوسُفَ حَدِيثَ عُمَرَ هَذَا. قَالَ الشَّيْخُ: وَهُوَ مُنْقَطِعٌ، وَرِوَايَةُ مُجَالِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَحَدِيثُ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ لَا شَكَّ فِيهِ وَاللهُ أَعْلَمُ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ يَثْبُتُ فِي مَعْنَى مَا رُوِيَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا لَا يَحْضُرُنِي حِفْظُهُ". قَالَ الشَّيْخُ:" إِنَّمَا أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي قِصَّةِ أَبَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ حِينَ وَقَعَ مَعَ أَصْحَابِهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ، بَعْدَ أَنْ فَتَحَهَا وَلَمْ يَقْسِمْ لَهُمْ، وَقَدْ مَضَى ذَلِكَ بِأَسَانِيدِهِ مَعَ سَائِرِ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ فِي كِتَابِ الْقَسْمِ.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو لکھا: آپ کی مدد کے لیے کچھ لوگ بھیج رہا ہوں۔ ان میں سے جو مقتولین کے اکھڑنے سے پہلے پہنچ جائیں ان کو غنیمت میں شریک کرو۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے۔ اگر ثابت ہو جائے تو ہم جلدی قبول کریں گے۔ پھر ابو یوسف کی مخالفت ذکر کی ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے ساتھ ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ منقطع ہے، اس کا راوی مجالد ضعیف ہے۔ طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ والی حدیث کی سند صحیح ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس میں کچھ ثابت ہے جو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے منقول روایت کے موافق ہے مگر مجھے اچھی طرح یاد نہیں تھا۔
شیخ فرماتے ہیں: شاید ان کی مراد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جس میں حضرت ابان بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ خیبر کو فتح کر چکے تھے، آپ نے ان کو حصہ نہیں دیا۔ یہ پہلے «كِتَابُ الْقِسْمِ» میں گزر گیا ہے اور جو کچھ اس میں بیان ہوا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17955]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے۔ اگر ثابت ہو جائے تو ہم جلدی قبول کریں گے۔ پھر ابو یوسف کی مخالفت ذکر کی ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے ساتھ ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ منقطع ہے، اس کا راوی مجالد ضعیف ہے۔ طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ والی حدیث کی سند صحیح ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس میں کچھ ثابت ہے جو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے منقول روایت کے موافق ہے مگر مجھے اچھی طرح یاد نہیں تھا۔
شیخ فرماتے ہیں: شاید ان کی مراد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جس میں حضرت ابان بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ خیبر کو فتح کر چکے تھے، آپ نے ان کو حصہ نہیں دیا۔ یہ پہلے «كِتَابُ الْقِسْمِ» میں گزر گیا ہے اور جو کچھ اس میں بیان ہوا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17955]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17956
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قِرَاءَةً، ثنا أَبِي، ثنا حُصَيْنُ بْنُ مُخَارِقٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ بَخْتَرِيٍّ الْعَبْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: غنیمت کا مال اس کا ہے جو واقعہ میں موجود ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17956]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف