السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3580. -- باب: العبيد والنساء والصبيان يحضرون الوقعة
-- باب: غلاموں، عورتوں اور بچوں کا جنگ میں حاضر ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17966
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأُمَوِيُّ، وَأَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ ⦗٩١⦘ عَطَاءٍ، أنبأ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ح، قَالَ: وَأنبأ أَبُو الْفَضْلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ بْنَ عَامِرٍ، كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنِ اكْتُبْ إِلِيَّ مَنْ ذَوُو الْقُرْبَى الَّذِينَ ذَكَرَهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَفَرَضَ لَهُمْ مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ، وَمَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ، وَهَلْ يُقْتَلُ صِبْيَانُ الْمُشْرِكِينَ، وَهَلْ لِلنِّسَاءِ وَالْعَبِيدِ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ مِنْ سَهْمٍ مَعْلُومٍ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ يَقَعَ فِي شَيْءٍ مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ وَأَنَا شَاهِدٌ: أَمَّا ذَوُو الْقُرْبَى فَإِنَّا كُنَّا نَرَى أَنَّهُمْ قَرَابَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا، وَأَمَّا صِبْيَانُ الْمُشْرِكِينَ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلْ مِنْهُمْ أَحَدًا، فَلَا تَقْتُلْ إِلَّا أَنْ تَعْلَمَ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الْغُلَامِ الَّذِي قَتَلَهُ، وَأَمَّا مَا سَأَلْتَ عَنِ انْقِضَاءِ يُتْمِ الْيَتِيمِ فَإِذَا بَلَغَ الْحُلُمَ وَأُونِسَ مِنْهُ رُشْدُهُ، فَقَدِ انْقَضَى يُتْمُهُ فَادْفَعْ إِلَيْهِ مَالَهُ، وَأَمَّا النِّسَاءُ وَالْعَبِيدُ فَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ، وَلَكِنْ يُحْذَوْنَ مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
نجدہ بن عامر نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا کہ مجھے بتاؤ وہ کون سے رشتہ دار ہیں جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے کہ ان کو مالِ فئی میں سے دیا جائے گا جو اللہ نے رسول کو بغیر جنگ کے عطا کیا ہے اور یتیم کی یتیمی کب ختم ہو گی؟ کیا مشرکین کے بچوں کو قتل کیا جائے گا؟ اگر عورتیں اور غلام جنگ میں جائیں تو کیا ان کے لیے حصہ مقرر ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اگر مجھے ڈر نہ ہوتا کہ یہ اس میں مبتلا ہو جائے تو میں نہ لکھتا، تو انہوں نے لکھا: میں وہاں موجود تھا کہ رشتہ داروں سے مراد ہمارے نزدیک صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار ہیں جبکہ ہماری قوم نے اس کا انکار بھی کیا ہے۔ رہے مشرکین کے بچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بچے کو قتل نہیں کیا تو تم بھی قتل نہ کرو، ہاں! اگر تم وہ جان لو جو خضر علیہ السلام نے جانا تھا اس بچے کے متعلق جس کو انہوں نے قتل کیا تھا اور یتیمی کی آخری مدت احتلام کا آنا اور سمجھداری کا پتا چلنا ہے، تو اس کی یتیمی ختم ہو گئی، اب ان کا مال ان کو دے دو اور اگر عورتیں اور غلام جنگ میں جائیں تو ان کے لیے مقرر حصہ تو نہیں ہے، ہاں! ان کو غنیمت میں سے کچھ تحفۃً دے دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17966]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17967
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ الزَّاهِدُ، ثنا سَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ الْعَتَكِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَبِي جَعْفَرَ وَالزُّهْرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ فِيمَا كَتَبَ إِلَيْهِ نَجْدَةُ فِي كِتَابِهِ ذَلِكَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَخْرُجُ مِنَ الْيُتْمِ وَيَقَعُ حَقُّهُ فِي الْفَيْءِ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ: أَنَّهُ إِذَا احْتَلَمَ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْيُتْمِ وَوَقَعَ حَقُّهُ فِي الْفَيْءِ".
یزید بن ہرمز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نجدہ نے ان کی طرف خط لکھا تھا، اس میں یہ بھی تھا کہ یتیم کب یتیمی کی عمر سے نکل جاتا ہے اور اس کا حق مالِ فئی میں ثابت ہو جاتا ہے؟ تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کو لکھا کہ بالغ ہونے پر یتیم کی یتیمی ختم ہو جاتی ہے اور مالِ فئی میں اس کا حق ثابت ہو جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17967]
حدیث نمبر: 17968
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَنِي عُمَيْرٌ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: شَهِدْتُ خَيْبَرَ مَعَ سَادَتِي، فَكَلَّمُوا فِيَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِي، فَقُلِّدْتُ سَيْفًا فَإِذَا أَنَا أَجُرُّهُ فَأُخْبِرَ أَنِّي مَمْلُوكٌ، فَأَمَرَ لِي بِشَيْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ".
ابولحم کے غلام سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے سرداروں کے ساتھ خیبر میں موجود تھا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے بارے میں بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا، مجھے تلوار پہنائی گئی، میں اس کو کھینچ رہا تھا، میرے بارے میں خبر دی گئی کہ میں غلام ہوں، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے مال میں سے کچھ ردی مال دینے کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17968]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17969
وَأَمَّا الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، وَخَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، قَالَا:" أَسْهَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْفَارِسِ لِفَرَسِهِ سَهْمَيْنِ، وَلِصَاحِبِهِ سَهْمًا، فَصَارَ لَهُ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ، وَلِلرَّاجِلِ سَهْمًا، وَأَسْهَمَ لِلنِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ". فَهَذَا مُنْقَطِعٌ وَحَدِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ مَوْصُولٌ صَحِيحٌ فَهُوَ أَوْلَى وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
خالد بن معدان اور مکحول رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”گھوڑ سوار کے گھوڑے کے دو حصے اور سوار کا ایک حصہ مقرر کیا، اس طرح اس کے تین حصے ہو گئے اور پیدل کو ایک حصہ ملا اور آپ نے عورتوں اور بچوں کے لیے بھی حصہ مقرر کیا“۔
یہ روایت منقطع ہے، جبکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث موصول اور صحیح ہے، اس لیے وہی اولیٰ ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17969]
یہ روایت منقطع ہے، جبکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث موصول اور صحیح ہے، اس لیے وہی اولیٰ ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17969]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف