🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3591. -- باب: ما يفعله بالرجال البالغين منهم
-- باب: ان میں سے بالغ مردوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q18021
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" الْإِمَامُ فِيهِمْ بِالْخِيَارِ بَيْنَ أَنْ يَقْتُلَهُمْ إِنْ لَمْ يُسْلِمْ أَهْلُ الْأَوْثَانِ، أَوْ يُعْطِيَ الْجِزْيَةَ أَهْلُ الْكِتَابِ، أَوْ يَمُنَّ عَلَيْهِمْ، أَوْ يُفَادِيَهِمْ بِمَالٍ يَأْخُذُهُ مِنْهُمْ أَوْ بِأَسْرَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُطْلَقُونَ لَهُمْ، أَوْ يَسْتَرِقَّهُمْ فَإِنِ اسْتَرَقَّهُمْ أَوْ أَخَذَ مِنْهُمْ مَالًا فَسَبِيلُهُ سَبِيلُ الْغَنِيمَةِ، يُخْمَسُ وَيَكُونُ أَرْبَعَةُ أَخْمَاسِهَا لِأَهْلِ الْغَنِيمَةِ، فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ: كَيْفَ حَكَمْتَ فِي الْمَالِ وَالْوِلْدَانِ وَالنِّسَاءِ حُكْمًا وَاحِدًا، وَحَكَمْتَ فِي الرِّجَالِ أَحْكَامًا مُتَفَرِّقَةً؟ قِيَلَ: ظَهَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قُرَيْظَةَ وَخَيْبَرَ، فَقَسَمَ عَقَارَهَا مِنَ الْأَرَضِينَ وَالنَّخْلِ قِسْمَةَ الْأَمْوَالِ، وَسَبَى وِلْدَانَ بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهَوَازِنَ وَنِسَاءَهُمْ، فَقَسَمَهُمْ قِسْمَةَ الْأَمْوَالِ". قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا مَا قَالَ فِي قُرَيْظَةَ فَفِيمَا".
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”امام کو ان (جنگی قیدیوں) کے بارے میں اختیار ہے کہ اگر بت پرست اسلام نہ لائیں اور اہل کتاب جزیہ نہ دیں تو انہیں قتل کر دے، یا ان پر احسان کرتے ہوئے (بلا معاوضہ) چھوڑ دے، یا ان سے فدیہ لے، خواہ وہ مال ہو جو ان سے وصول کرے یا مسلمان قیدی ہوں جو ان کے بدلے چھڑائے جائیں، یا انہیں غلام بنا لے، پس اگر وہ انہیں غلام بنا لے یا ان سے مال لے لے تو اس کا حکم مال غنیمت کا حکم ہے، اس کا خمس (پانچواں حصہ) نکالا جائے گا اور اس کے باقی چار حصے غنیمت کے حقداروں کے ہوں گے۔ پس اگر کوئی کہنے والا کہے: آپ نے مال، بچوں اور عورتوں کے بارے میں تو ایک ہی حکم لگایا ہے اور مردوں کے بارے میں مختلف احکام لگائے ہیں، ایسا کیوں؟ تو (اس سے) کہا جائے گا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ اور خیبر پر غالب آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی غیر منقولہ جائیداد یعنی زمینوں اور کھجور کے باغات کو اموال کی طرح تقسیم فرمایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو المصطلق اور ہوازن کے بچوں اور عورتوں کو قیدی بنایا تو انہیں بھی اموال کی طرح تقسیم فرما دیا۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رہا وہ جو انہوں نے بنو قریظہ کے بارے میں فرمایا، تو وہ اس (روایت) میں ہے جو... [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: Q18021]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18021
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، قَالَا: أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ" يَهُودَ بَنِي النَّضِيرِ وَقُرَيْظَةَ حَارَبُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ، وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنْ عَلَيْهِمْ، حَتَّى حَاربَتْ قُرَيْظَةُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ، وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَوْلَادَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا بَعْضَهُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّنَهُمْ وَأَسْلَمُوا، وَأَجْلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ الْمَدِينَةِ بَنِي قَيْنُقَاعَ، وَهُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللهِ - يَعْنِي ابْنَ سَلَامٍ - وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ، وَكُلَّ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ،.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑائی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا اور قریظہ والوں کو برقرار رکھا اور ان پر احسان کیا، اس کے بعد بنو قریظہ نے بھی لڑائی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مردوں کو قتل کیا اور عورتوں، بچوں اور مال کو مسلمانوں میں تقسیم کر دیا اور ان کو چھوڑ دیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو امن دیا تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے یہودیوں کو جلا وطن کر دیا، ان میں بنو قینقاع جو کہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی قوم کے لوگ تھے اور بنو حارثہ کے یہود تھے، اور ہر یہودی جو مدینہ میں تھا اس کو جلا وطن کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18021]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18022
وَأَمَّا مَا قَالَ فِي خَيْبَرَ فَفِيمَا.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ بعد میں آنے والے لوگ تنگ دست ہو جائیں گے تو میں جو بھی علاقہ فتح ہوتا تو اس کو تقسیم کر دیتا جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو تقسیم کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18022]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18023
وَأَمَّا مَا قَالَ فِي وِلْدَانِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ ابْنُ عَوْنٍ، ح، قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَمُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الدُّعَاءِ قَبْلَ الْقِتَالِ، قَالَ:" إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ الدُّعَاءُ فِي أَصْلِ الْإِسْلَامِ قَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ، وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَى سَبْيَهُمْ، وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ". حَدَّثَنِي بِهَذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ". وَفِي رِوَايَةِ يَزِيدَ إِنَّمَا ذَلِكَ بَعْدَ الدُّعَاءِ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ وَالْبَاقِي سَوَاءٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، وَقَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: غَزَوْنَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَسَبَيْنَا كَرَائِمَ الْعَرَبِ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ وَنَعْزِلَ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا".
ابن عون رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے نافع رحمہ اللہ کو لڑائی سے پہلے دعوت دینے کے بارے میں سوال لکھ کر بھیجا، انہوں نے کہا: یہ دعوت صرف اسلام کے ابتدائی دور میں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر شب خون مارا کیونکہ وہ (حملے سے) غافل تھے، اس وقت ان کے جانوروں کو پانی پلایا جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جنگجوؤں کو قتل کیا، بچوں کو قیدی بنایا اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا ملی تھیں۔ یہ حدیث مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کی اور وہ اس لشکر میں شامل تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18023]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18024
وَأَمَّا مَا قَالَ فِي هَوَازِنَ، فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ وَهُوَ ابْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: وَزَعَمَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ مَرْوَانَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَعِي مَنْ تَرَوْنَ وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلِيَّ أَصْدَقُهُ، فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، إِمَّا السَّبْيَ، وَإِمَّا الْمَالَ، وَقَدِ اسْتَأْنَيْتُ بِكُمْ". وَكَانَ أَنْظَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، قَالُوا: فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا. فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُسْلِمِينَ فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللهُ عَلَيْنَا". فَقَالَ النَّاسُ: قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ. فَقَالَ ⦗١١٠⦘ رَسُولُ اللهِ:" إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ". فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، فَرَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا." هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْ سَبْيِ هَوَازِنَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَأَسَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ بَدْرٍ مِنْهُمْ مَنْ مَنَّ عَلَيْهِمْ بِلَا شَيْءٍ أَخَذَهُ مِنْهُمْ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَ مِنْهُ فِدْيَةً، وَمِنْهُمْ مَنْ قَتَلَهُ، وَكَانَ الْمَقْتُولَانِ بَعْدَ الْإِسَارِ يَوْمَ بَدْرٍ عُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ، وَالنَّضْرَ بْنَ الْحَارِثِ".
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہوازن کے وفد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے مال و قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھ یہ لوگ ہیں جنہیں تم دیکھ رہے ہو اور مجھے سب سے زیادہ محبوب بات وہ ہے جو سب سے سچی ہو۔ تمہیں دونوں میں سے ایک چیز کا اختیار ہے (مال یا قیدی) اور میں تمہیں مہلت دیتا ہوں۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف سے واپسی پر دس سے زائد راتوں کی مہلت دی۔ جب انہیں یقین ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک چیز واپس کریں گے تو انہوں نے قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تعریف فرمائی جس کا وہ اصل حق دار تھا، پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» ”اما بعد! تمہارے بھائی توبہ کر کے آ گئے ہیں، میں ان کے قیدی واپس کرنا چاہتا ہوں۔ جو تم میں سے دل کی خوشی سے یہ کام کرنا چاہتا ہے تو کر لے اور جو کوئی ان کا عوض لینا چاہے تو ہم پہلے مالِ فیء سے اس کا بدل واپس کر دیں گے۔“ تو لوگوں نے کہا: ہم نے دل کی خوشی سے واپس کر دیے، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیں معلوم نہ ہو سکا کون اجازت دیتا ہے اور کون نہیں۔ تم اپنے سرداروں کو بتاؤ، وہ ہمیں خبر دیں۔“ تو لوگوں نے اپنے چوہدریوں سے بات کی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ لوگوں نے خوشی سے اجازت دے دی ہے۔ یہ حدیث مجھے ہوازن کے قیدیوں کے بارے میں پہنچی۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں سے فدیہ لے کر چھوڑا، بعض سے کچھ بھی نہ لیا اور بعض کو قتل بھی کروا دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دو قیدیوں کو قتل کروایا: عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18024]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٤٣١٩»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18025
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَدَدٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قُرَيْشٍ وَغَيْرِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْمَغَازِي، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسَرَ النَّضْرَ بْنَ الْحَارِثِ الْعَبْدِيَّ يَوْمَ بَدْرٍ، وَقَتَلَهُ بِالْبَادِيَةِ أَوِ الْأَثِيلِ صَبْرًا، وَأَسَرَ عُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ فَقَتَلَهُ صَبْرًا". قَالَ الشَّيْخُ:" وَقَدْ رُوِّينَا فِي كِتَابِ الْقَسْمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ صَاحِبِ الْمَغَازِي".
امام شافعی رحمہ اللہ اہل مغازی سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نضر بن حارث عبدری کو بدر کے دن الصفرہ یا اثیل کے مقام پر باندھ کر قتل کر دیا، یہی سلوک عقبہ بن ابی معیط کے ساتھ کیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18025]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18026
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ،" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَقْبَلَ بِالْأُسَارَى حَتَّى إِذَا كَانَ بِعِرْقِ الظُّبْيَةِ أَمَرَ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ أَبِي الْأَقْلَحِ أَنْ يَضْرِبَ عُنُقَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، فَجَعَلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ يَقُولُ: يَا وَيْلَاهُ، عَلَامَ أُقْتَلُ مِنْ بَيْنِ هَؤُلَاءِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِعَدَاوَتِكَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ". فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَنُّكَ أَفْضَلُ، فَاجْعَلْنِي كَرَجُلٍ مِنْ قَوْمِي إِنْ قَتَلْتَهُمْ قَتَلْتَنِي، وَإِنْ مَنَنْتَ عَلَيْهِمْ مَنَنْتَ عَلَيَّ، وَإِنْ أَخَذْتَ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ كُنْتُ كَأَحَدِهِمْ، يَا مُحَمَّدُ مَنْ لِلصِّبْيَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" النَّارُ، يَا عَاصِمُ بْنَ ثَابِتٍ، قَدِّمْهُ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ". فَقَدَّمَهُ فَضَرَبَ عُنُقَهُ".
محمد بن یحییٰ بن سہل بن ابی حثمہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عرقِ ظبیہ نامی جگہ پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قیدی لائے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصم بن ثابت بن ابی اقلح رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ عقبہ بن ابی معیط کی گردن جدا کر دیں۔ عقبہ بن ابی معیط نے کہا: ان کے درمیان سے مجھے کیوں قتل کیا جا رہا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اور رسول کی دشمنی کی وجہ سے۔“ تو عقبہ نے کہا: اے محمد! آپ مجھے میری قوم کے آدمیوں میں شمار کرتے ہوئے ان جیسا سلوک کریں، اگر آپ ان کو قتل کریں تو مجھے بھی قتل کر دیں، اگر ان پر احسان کریں تو مجھ پر بھی احسان کریں اور اگر ان سے فدیہ لیں تو میں بھی ان میں سے ایک کی طرح ہوں گا۔ اے محمد! بچوں کا کون ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے لیے آگ ہے۔“ ”اے عاصم بن ثابت! اس کی گردن تن سے جدا کر دو“، تو انہوں نے اس کا سر قلم کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18026]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدًا»

الحكم على الحديث: ضعيف جدًا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18027
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمَذَانَ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَرَادَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ أَنْ يَسْتَعْمِلَ مَسْرُوقًا، فَقَالَ لَهُ عُمَارَةُ بْنُ عُقْبَةَ: أَتَسْتَعْمِلُ رَجُلًا مِنْ بَقَايَا قَتَلَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟ فَقَالَ لَهُ مَسْرُوقٌ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَ فِي أَنْفُسِنَا مَوْثُوقَ الْحَدِيثِ، أَنَّ ⦗١١١⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمَّا أَرَادَ قَتْلَ أَبِيكَ قَالَ: مَنْ لِلصِّبْيَةِ؟ قَالَ:" النَّارُ"، قَدْ رَضِيتُ لَكَ مَا رَضِيَ لَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ نے مسروق رحمہ اللہ کو عامل بنانا چاہا تو عمارہ بن عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں میں سے کسی کو عامل بنانا چاہتے ہیں؟ تو مسروق رحمہ اللہ نے عمارہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، اور وہ ہمارے نزدیک حدیث میں قابلِ اعتماد تھے، کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرے باپ کو قتل کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے کہا تھا: بچوں کا کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ۔“ میں تیرے لیے وہ پسند کرتا ہوں جو تیرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18027]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18028
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَكَانَ الْمَمْنُونُ عَلَيْهِمْ بِلَا فِدْيَةٍ أَبَا عَزَّةَ الْجُمَحِيَّ، تَرَكَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنَاتِهِ، وَأَخَذَ عَلَيْهِ عَهْدًا أَنْ لَا يُقَاتِلَهُ، فَأَخْفَرَهُ وَقَاتَلَهُ يَوْمَ أُحُدٍ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يُفْلِتَ، فَمَا أُسِرَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ رَجُلٌ غَيْرُهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ امْنُنْ عَلَيَّ وَدَعْنِي لِبَنَاتِي وَأُعْطِيَكَ عَهْدًا أَنْ لَا أَعُودَ لِقِتَالِكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَمْسَحُ عَلَى عَارِضَيْكَ بِمَكَّةَ تَقُولُ: قَدْ خَدَعْتُ مُحَمَّدًا مَرَّتَيْنِ". فَأَمَرَ بِهِ فَضُرِبَ عُنُقُهُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ فَذَكَرَهُ." وَقَدْ رُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ غَيْرِ الشَّافِعِيِّ فِي كِتَابِ الْقَسْمِ".
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو عزہ جمحی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر فدیہ کے احسان کرتے ہوئے چھوڑ دیا، (یہ) اس کی بیٹیوں کی وجہ سے (کیا) اور وعدہ لیا کہ آئندہ وہ آپ سے لڑائی نہ کرے گا، لیکن اس نے وعدہ خلافی کی اور احد کے دن آپ سے لڑائی کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ وہ بچ کر نہ نکلے، چنانچہ مشرکین میں سے اس کے علاوہ کوئی اور شخص قیدی نہ بنایا گیا، ابو عزہ جمحی نے کہا: اے محمد! مجھ پر احسان فرمائیں اور مجھے میری بیٹیوں کی خاطر چھوڑ دیں، میں آپ سے عہد کرتا ہوں کہ آئندہ آپ سے قتال کے لیے نہ آؤں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(نہیں،) تم مکہ میں اپنے رخساروں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے یہ نہیں کہو گے کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دو مرتبہ دھوکا دیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا تو اس کی گردن تن سے جدا کر دی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18028]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18029
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: أَمَّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ أَبَا عَزَّةَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْجُمَحِيَّ، وَكَانَ شَاعِرًا، وَكَانَ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ لِي خَمْسَ بَنَاتٍ لَيْسَ لَهُنَّ شَيْءٌ فَتَصَدَّقْ بِي عَلَيْهِنَّ، فَفَعَلَ، وَقَالَ أَبُو عَزَّةَ: أُعْطِيكَ مَوْثِقًا أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ وَلَا أُكْثِرَ عَلَيْكَ أَبَدًا، فَأَرْسَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَرَجَتْ قُرَيْشٌ إِلَى أُحُدٍ جَاءَهُ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ، فَقَالَ: اخْرُجْ مَعَنَا، فَقَالَ: إِنِّي قَدْ أَعْطَيْتُ مُحَمَّدًا مَوْثِقًا أَنْ لَا أُقَاتِلَهُ، فَضَمِنَ صَفْوَانُ أَنْ يَجْعَلَ بَنَاتِهِ مَعَ بَنَاتِهِ إِنْ قُتِلَ، وَإِنْ عَاشَ أَعْطَاهُ مَالًا كَثِيرًا، فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى خَرَجَ مَعَ قُرَيْشٍ يَوْمَ أُحُدٍ، فَأُسِرَ وَلَمْ يُؤْسَرْ غَيْرُهُ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّمَا أُخْرِجْتُ كَرْهًا وَلِي بَنَاتٌ فَامْنُنْ عَلَيَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْنَ مَا أَعْطَيْتَنِي مِنَ الْعَهْدِ وَالْمِيثَاقِ؟ لَا، وَاللهِ لَا تَمْسَحُ عَارِضَيْكَ بِمَكَّةَ تَقُولُ: سَخِرْتُ بِمُحَمَّدٍ مَرَّتَيْنِ". قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يُلْدَغُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ، يَا عَاصِمُ بْنَ ثَابِتٍ قَدِّمْهُ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ". فَقَدَّمَهُ فَضَرَبَ عُنُقَهُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" ثُمَّ أَسَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَامَةَ بْنَ أُثَالٍ الْحَنَفِيَّ بَعْدُ فَمَنَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ عَادَ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ بَعْدُ فَأَسْلَمَ وَحَسُنَ إِسْلَامُهُ".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدی ابو عزہ عبداللہ بن عمرو بن عبد جمحی شاعر کو احسان کرتے ہوئے چھوڑ دیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ میری پانچ بچیاں ہیں، ان کی وجہ سے میرے اوپر احسان کریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کر دیا۔ ابو عزہ نے کہا: نہ تو خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف آؤں گا اور نہ ہی تعداد کو زیادہ کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ جب قریشی غزوۂ احد کے لیے نکلے تو صفوان بن امیہ نے ابو عزہ سے نکلنے کا مطالبہ کر دیا، تو ابو عزہ نے کہا: میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ لڑنے کا پختہ عہد کیا ہوا ہے، تو صفوان بن امیہ نے اس کی بیٹیوں کی پرورش کا ذمہ لیا، اگر وہ قتل کر دیا گیا؛ اور اگر زندہ رہا تو اسے بہت زیادہ مال دیا جائے گا۔ پھر جب غزوۂ احد میں وہ قریشیوں کے ساتھ نکلا تو یہ اکیلا قیدی بنایا گیا، تو اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے زبردستی لایا گیا، آپ میرے اوپر بچیوں کی وجہ سے احسان کریں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا وہ عہد و پیمان کہاں گیا جو تو نے مجھے دیا تھا؟ نہیں، اللہ کی قسم! تو مکہ میں اپنے رخساروں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے یہ نہیں کہے گا کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے دو مرتبہ مذاق کیا ہے۔“
(ب) سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن ایک بل سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا، اے عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ! اس کی گردن تن سے جدا کر دو“، تو انہوں نے اس کا سر قلم کر دیا۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کو قیدی بنایا تو احسان کر کے چھوڑ دیا، تو ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا، پھر ان کا اسلام اچھا ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18029]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدًا»

الحكم على الحديث: ضعيف جدًا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں