السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3606. -- باب: تحريم قتل ما له روح إلا بأن يذبح فيؤكل
-- باب: کسی بھی جاندار کو قتل کرنے کی حرمت کا بیان، سوائے اس کے کہ اسے ذبح کر کے کھایا جائے۔
حدیث نمبر: 18128
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ صُهَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ⦗١٤٧⦘ مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا فَمَا فَوْقَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا سَأَلَهُ اللهُ عَنْ قَتْلِهِ". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا حَقُّهَا؟ قَالَ:" أَنْ تَذْبَحَهَا فَتَأْكُلَهَا، وَلَا تَقْطَعَ رَأْسَهَا فَتَرْمِيَ بِهَا". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَنَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَصْبُورَةِ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے چڑیا یا اس سے بھی چھوٹے پرندے کو ناحق قتل کیا تو اللہ رب العزت اس کے قتل کے بارے میں سوال کریں گے۔“ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! اس کا حق کیا ہے؟ فرمایا: ”آپ ذبح کر کے اس کو کھائیں، اس کا سر کاٹ کر پھینک نہ دیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصبورہ (یعنی باندھ کر نشانہ بنائے گئے جانور) سے منع فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18128]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصبورہ (یعنی باندھ کر نشانہ بنائے گئے جانور) سے منع فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18128]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18129
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ، فَرَأَى غِلْمَانًا أَوْ فِتْيَانًا قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا، فَقَالَ أَنَسٌ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصْبَرَ الْبَهَائِمُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
ہشام بن زید کہتے ہیں: میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے پاس آیا، انہوں نے بچوں یا نوجوانوں کو دیکھا کہ وہ ایک مرغی کو نصب کر کے نشانہ بازی کر رہے ہیں، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”چوپایوں کو باندھنے سے منع فرمایا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18129]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18130
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَلَ شَيْءٌ مِنَ الْبَهَائِمِ صَبْرًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ يَحْيَى.
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کسی چوپائے کو باندھ کر قتل کرنے“ سے منع فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18130]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٩٥٩»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18131
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَ جُيُوشًا إِلَى الشَّامِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي وَصِيَّتِهِ، إِلَى أَنْ قَالَ:" وَلَا تَعْقِرُنَّ شَاةً وَلَا بَعِيرًا إِلَّا لِمَأْكَلَةٍ".
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شام کی طرف لشکر بھیجے۔ ان کی وصیت کے بارے میں حدیث کو ذکر کیا، جس کے آخر میں ہے کہ ”بکری اور اونٹ کو صرف کھانے کے لیے ذبح کیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18131]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18132
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَ يَزِيدَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى الشَّامِ، فَمَشَى مَعَهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَى أَنْ قَالَ:" وَلَا تَذْبَحُوا بَعِيرًا وَلَا بَقَرًا إِلَّا لِمَأْكَلٍ".
ابو عمران جونی فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو شام کی طرف بھیجا، انہوں نے حدیث ذکر کی جس کے آخر میں ہے کہ ”تم اونٹ اور گائے کو صرف کھانے کے لیے ذبح کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18132]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18133
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ أَبُو يُوسُفَ: حَدَّثَنَا بَعْضُ أَشْيَاخِنَا، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، أَنَّهُ قِيلَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ الرُّومَ يَأْخُذُونَ مَا حُسِرَ مِنْ خَيْلِنَا فَيَسْتَعْجِلُونَهَا وَيُقَاتِلُونَ عَلَيْهَا أَفْنَعْقِرُ مَا حُسِرَ مِنْ خَيْلِنَا؟ فَقَالَ: لَا، لَيْسُوا بِأَهْلٍ أَنْ يَنْتَقِصُوا مِنْكُمْ، إِنَّمَا هُمْ غَدًا رَقِيقُكُمْ وَأَهْلُ ذِمَّتِكُمْ"" زَادَ أَبُو سَعِيدٍ فِي رِوَايَتِهِ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ"، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَقَدْ بَلَغَنَا عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَوْصَى ابْنَهُ:" لَا يَعْقِرُ جَسَدًا"، وَعَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللهُ، أَنَّهُ" نَهَى عَنْ عَقْرِ الدَّابَّةِ إِذَا هِيَ قَامَتْ"، وَعَنْ قَبِيصَةَ" أَنَّ فَرَسَهُ قَامَ عَلَيْهِ بِأَرْضِ الرُّومِ فَتَرَكَهُ وَنَهَى عَنْ عَقْرِهِ"، أَخْبَرَنَا مَنْ سَمِعَ هِشَامَ بْنَ الْغَازِ، وَيَرْوِي عَنْ مَكْحُولٍ أَنَّهُ سَأَلَهُ عَنْهَا فَنَهَاهُ وَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْمُثْلَةِ".
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: ہمارے جو گھوڑے تھک کر رہ جاتے ہیں، رومی انہیں پکڑ لیتے ہیں اور جلدی سے کام میں لا کر ان پر لڑائی کرتے ہیں، کیا ہم اپنے تھکے ہوئے گھوڑوں کی کونچیں کاٹ دیا کریں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، وہ اس لائق نہیں کہ تمہارا کچھ نقصان کر سکیں، کل وہ تمہارے غلام ہوں گے یا اہل ذمہ۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو وصیت کی: ”کسی جاندار کی کونچیں نہ کاٹنا۔“ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے کہ انہوں نے سواری کے تھک کر رک جانے پر اس کی کونچیں کاٹنے سے منع فرمایا۔ اور قبیصہ سے کہ روم کی سرزمین میں ان کا گھوڑا تھک کر رک گیا تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور اس کی کونچیں کاٹنے سے منع کیا۔ اور ہمیں اس شخص نے خبر دی جس نے ہشام بن غاز سے سنا، وہ مکحول سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے منع کیا اور فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مثلہ سے منع فرمایا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18133]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو وصیت کی: ”کسی جاندار کی کونچیں نہ کاٹنا۔“ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے کہ انہوں نے سواری کے تھک کر رک جانے پر اس کی کونچیں کاٹنے سے منع فرمایا۔ اور قبیصہ سے کہ روم کی سرزمین میں ان کا گھوڑا تھک کر رک گیا تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور اس کی کونچیں کاٹنے سے منع کیا۔ اور ہمیں اس شخص نے خبر دی جس نے ہشام بن غاز سے سنا، وہ مکحول سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے منع کیا اور فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مثلہ سے منع فرمایا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18133]
حدیث نمبر: 18134
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جُنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جُنَاحٍ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ الْهَمَذَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْكَسَائِيُّ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا الْمِنْهَالُ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَعَنَ اللهُ مَنْ مَثَّلَ بِالْحَيَوَانِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس شخص پر لعنت کرے جو حیوانوں کا مثلہ کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18134]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٥٥١٥»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18135
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا خَالِدُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ اللَّخْمِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ السَّمَاعِيِّ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ عَقَرَ بَهِيمَةً ذَهَبَ رُبْعُ أَجْرِهِ، وَمَنْ حَرَّقَ نَخْلًا ذَهَبَ رُبْعُ أَجْرِهِ، وَمَنْ غَاشَّ شَرِيكَهُ ذَهَبَ رُبْعُ أَجْرِهِ، وَمَنْ عَصَى إِمَامَهُ ذَهَبَ أَجْرُهُ كُلُّهُ". فِي هَذَا الْإِسْنَادِ ضَعْفٌ، وَفِي الْأَوَّلِ كِفَايَةٌ.
ابو رہم سماعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے چوپائے کی کونچیں کاٹیں، اس کا چوتھائی حصہ اجر ختم ہو گیا۔ جس نے کھجور کے درخت جلائے، اس کا بھی چوتھائی حصہ اجر ختم ہو گیا اور جس شخص نے اپنے حصہ دار انسان سے دھوکا کیا اس کا بھی چوتھائی اجر ختم ہو گیا اور جس نے امام کی نافرمانی کی اس کا مکمل اجر ختم ہو گیا۔“
اس سند میں ضعف ہے، اور پہلی روایت کافی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18135]
اس سند میں ضعف ہے، اور پہلی روایت کافی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18135]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18136
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي الَّذِي أَرْضَعَنِي وَكَانَ أَحَدَ بَنِي مُرَّةَ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: وَاللهِ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ مُؤْتَةَ حِينَ اقْتَحَمَ عَنْ فَرَسٍ لَهُ شَقْرَاءَ فَعَقَرَهَا، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ".
یحییٰ بن عباد بن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میرے والد جنہوں نے مجھے دودھ پلوایا وہ مرہ بن عوف کے ایک شخص تھے، وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! گویا کہ میں جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف غزوۂ موتہ کے دن دیکھ رہا ہوں جس وقت وہ اپنے شقراء گھوڑے سے نیچے کود پڑے اور اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں، پھر آگے بڑھ کر لڑے یہاں تک کہ شہید کر دیے گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18136]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 18137
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ: فَقَدْ رُوِيَ أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَقَرَ عِنْدَ الْحَرْبِ، فَلَا أَحْفَظُ ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ يَثْبُتُ عِنْدَ الِانْفِرَادِ وَلَا أَعْلَمُهُ مَشْهُورًا عِنْدَ عَوَامِّ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْمَغَازِي".
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر کوئی کہنے والا کہے کہ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے لڑائی کے موقع پر اپنے گھوڑے کی کونچیں کاٹ ڈالیں، فرماتے ہیں: نہ تو مجھے یاد ہے اور نہ ہی اہل علم کے ہاں یہ مشہور ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18137]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح