🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3620. -- باب: إقامة الحدود في أرض الحرب
-- باب: دار الحرب (دشمن کے علاقے) میں حدود نافذ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q18217
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَدَّ بِالْمَدِينَةِ، وَالشِّرْكُ قَرِيبٌ مِنْهَا وَفِيهَا شِرْكٌ كَثِيرٌ مُوَادِعُونَ، وَضَرَبَ الشَّارِبَ بِحُنَيْنٍ وَالشِّرْكُ قَرِيبٌ مِنْهُ..
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں حد قائم فرمائی، حالانکہ شرک (یعنی مشرکین) اس کے قریب تھا اور خود مدینہ میں بھی بہت سے ایسے مشرک تھے جن سے صلح کا معاہدہ تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین میں شراب پینے والے کو (حد کی) مار لگوائی جبکہ شرک (مشرکین) اس کے قریب تھا۔“... [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: Q18217]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18217
أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَرْمَيسِينِيُّ بِهَا، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكُهَيْلِيُّ، أنبأ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَكَمِ، ثنا رَوْحٌ، ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَزْهَرَ الزُّهْرِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ يَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَأُتِيَ ⦗١٧٦⦘ بِسَكْرَانَ فَأَمَرَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضَرَبُوهُ بِمَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ، وَحَثَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ مِنَ التُّرَابِ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
سیدنا عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حنین کے دن دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی منزل کے بارے میں پوچھ رہے تھے کہ ایک شرابی لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”جو ان کے ہاتھوں میں ہے اسے ماریں“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مٹی ڈالی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18217]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم برقم ٨/١٧٥٣٧»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18218
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، أَظُنُّهُ عَنِ الْوَاقِدِيِّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، فِي قِصَّةِ خَيْبَرَ وَمَا أُخْرِجَ مِنْ حِصْنِ الصَّعْبِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ: وَزُقَاقُ خَمْرٍ فَأُهْرِيقَتْ وَعَمَدَ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَشَرِبَ مِنْ ذَلِكَ الْخَمْرِ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَرِهَ حِينَ رُفِعَ إِلَيْهِ فَخَفَقَهُ بِنَعْلِهِ وَأَمَرَ مَنْ حَضَرَهُ فَخَفَقُوهُ بِنِعَالِهِمْ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ اللهِ الْحِمَارُ كَانَ رَجُلًا لَا يَصْبِرُ عَنِ الشُّرْبِ فَضَرَبَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اللهُمَّ الْعَنْهُ مَا أَكْثَرَ مَا يُضْرَبُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَفْعَلْ يَا عُمَرُ فَإِنَّهُ يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ".
عبدالحمید بن جعفر اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے خیبر کے قصے کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ صعب بن معاذ کے قلعے سے شراب کے مشکیزے نکالے گئے اور بہا دیے گئے، تو اس شراب میں سے کسی مسلمان شخص نے جان بوجھ کر پی لی۔ جب معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے جوتے سے مارا اور لوگوں کو حکم فرمایا کہ وہ اپنے جوتوں سے ماریں۔ اسے عبداللہ الحمار کہا جاتا تھا۔ یہ ایسا شخص تھا جو شراب سے باز نہ آتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کئی مرتبہ سزا دی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ! اس پر لعنت ہو کہ یہ کتنی بار سزا دیا گیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! ایسا نہ کہو، یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18218]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18219
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ غَيْلَانَ مَوْلَى كِنَانَةَ، عَنْ أَبِي سَلَامَ الْحَبَشِيِّ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: ثنا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، وَعِنْدَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِلَى بَعِيرٍ مِنَ الْمُقَسَّمِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ أَخَذَ مِنْهُ قَرَدَةً بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ وَهِيَ فِي وَبَرَةٍ فَقَالَ:" أَلَا إِنَّ هَذَا مِنْ غَنَائِمِكُمْ، وَلَيْسَ مِنْهُ إِلَّا الْخُمُسُ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ، فَأَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمِخْيَطَ وَأَصْغَرَ مِنْ ذَلِكَ وَأَكْبَرَ، فَإِنَّ الْغُلُولَ عَارٌ عَلَى أَهْلِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَجَاهِدُوا النَّاسَ فِي اللهِ، الْقَرِيبَ مِنْهُمْ وَالْبَعِيدَ، وَلَا يَأْخُذْكُمْ فِي اللهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ، وَأَقِيمُوا حُدُودَ اللهِ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ، وَعَلَيْكُمْ بِالْجِهَادِ فَإِنَّهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ عَظِيمٌ يُنَجِّي اللهُ بِهِ مِنَ الْهَمِّ وَالْغَمِّ"..
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے پاس سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقسم کے اونٹوں میں سے کسی ایک کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو اونٹ کی کوہان کے بالوں میں سے اپنی انگلیوں کے درمیان بالوں کا ایک گچھا پکڑا اور فرمایا: ”خبردار! یہ تمہارا مالِ غنیمت ہے، اس میں سے میرا صرف پانچواں حصہ ہے اور پانچواں حصہ بھی تم پر ہی لوٹا دیا جاتا ہے۔ تم سوئی اور دھاگہ یا اس سے چھوٹی یا بڑی چیز بھی واپس کر دو؛ کیونکہ مالِ غنیمت میں خیانت دنیا اور آخرت میں رسوائی کا سبب ہے اور اللہ کے لیے قریب اور دور کے لوگوں سے جہاد کرو اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت تمہیں اللہ کے راستے میں جہاد سے نہ روکے اور سفر و حضر میں حدود کو نافذ کرو اور جہاد کو لازم کر لو؛ کیونکہ یہ جنت کے دروازوں میں سے ایک بہت بڑا دروازہ ہے۔ اللہ رب العزت اس کے ذریعے ہر پریشانی اور غم سے نجات دے دیتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18219]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18220
رَوَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ، أَنَّهُ جَلَسَ مَعَ عُبَادَةَ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَالْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْكِنْدِيِّ، فَتَذَاكَرُوا الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَخْمَاسِ، فَقَالَ عُبَادَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فِي غَزْوَةٍ إِلَى بَعِيرٍ. فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، وَقَالَ فِيهِ: وَأَقِيمُوا حُدُودَ اللهِ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ. أَخْبَرْنَاهُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أَنْبَأَ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الْمُسْتَفَاضِ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَابِدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، فَذَكَرَهُ.
سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ اور سیدنا حارث بن معاویہ کندی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے تھے اور حدیث کا مذاکرہ کر رہے تھے۔ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ کی جانب منہ کر کے نماز پڑھائی، پھر اس کی مثل ذکر کیا۔ اس حدیث میں ہے کہ: ”تم سفر و حضر میں حدود کو نافذ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18220]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18221
وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ هِشَامِ بْنِ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيِّ، عَنِ ⦗١٧٧⦘ الْحَسَنِ بْنِ يَحْيَى الْخُشَنِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَقِيمُوا الْحُدُودَ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ عَلَى الْقَرِيبِ وَالْبَعِيدِ، وَلَا تُبَالُوا فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ". أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنْبَأَ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ. وَرُوِي ذَلِكَ أَيْضًا عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر و حضر میں، قریب و بعید میں حدوں کو نافذ کرو اور اللہ کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پروا نہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18221]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18222
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ كَهْمَسٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ الْأَصَمِّ، قَالَ: بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فِي جَيْشٍ، فَبَعَثَ خَالِدٌ ضِرَارَ بْنَ الْأَزْوَرِ فِي سَرِيَّةٍ فِي خَيْلٍ، فَأَغَارُوا عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، فَأَصَابُوا امْرَأَةً عَرُوسًا جَمِيلَةً، فَأَعْجَبَتْ ضِرَارًا، فَسَأَلَهَا أَصْحَابَهُ فَأَعْطَوْهَا إِيَّاهُ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا، فَلَمَّا قَفَلَ نَدِمَ وَسُقِطَ بِهِ فِي يَدِهِ، فَلَمَّا رُفِعَ إِلَى خَالِدٍ أَخْبَرَهُ بِالَّذِي فَعَلَ، فَقَالَ خَالِدٌ: فَإِنِّي قَدْ أَجَزْتُهَا لَكَ وَطَيَّبْتُهَا لَكَ. قَالَ: لَا حَتَّى تَكْتُبَ بِذَلِكَ إِلَى عُمَرَ، فَكَتَبَ عُمَرُ أَنْ أَرْضِخْهُ بِالْحِجَارَةِ، فَجَاءَ كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ تُوُفِّيَ، فَقَالَ: مَا كَانَ اللهُ لِيُخْزِيَ ضِرَارَ بْنَ الْأَزْوَرِ.
ہارون بن اصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر میں روانہ فرمایا اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کو گھڑ سواروں کے ساتھ بھیجا، انہوں نے بنو اسد پر شب خون مارا، انہیں ایک خوبصورت دلہن ملی، وہ ضرار رضی اللہ عنہ کو اچھی لگی تو ساتھیوں کی رضامندی کے بعد ضرار رضی اللہ عنہ اس پر واقع ہوگئے، جب واپس پلٹے تو شرمندہ ہوئے اور سخت نادم ہوئے، جب انہیں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا اور جو انہوں نے کیا تھا اس کی خبر دی تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں اس عورت کو آپ کے لیے جائز قرار دیتا ہوں، وہ فرمانے لگے: نہیں، بلکہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھو، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ ان کا سر پتھروں سے کچل دیا جائے، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا تو اس وقت وہ فوت ہوچکے تھے، راوی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کو رسوائی سے بچا لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18222]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں