السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3638. -- باب: وطء السبايا بالملك قبل الخروج من دار الحرب
-- باب: دار الحرب سے نکلنے سے پہلے قیدی لونڈیوں سے ملکیت کی بنیاد پر ہمبستری کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18301
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مِيكَالَ، أنبأ عَبْدَانُ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، وَالْحَسَنُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَا: ثنا أَبُو هَمَّامٍ، يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَصَبْنَا سَبَايَا فِي سَبْيِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَرَدْنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ وَأَنْ لَا يَلِدْنَ فَسَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا فَإِنَّ اللهَ قَدْ كَتَبَ مَنْ هُوَ خَالِقٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَرَجِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَعَرَّسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَفِيَّةَ بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ غَيْرُ بِلَادِ الْإِسْلَامِ يَوْمَئِذٍ.
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں بنو مصطلق کی لونڈیاں ملیں تو ہماری چاہت ہم بستری کی تھی اولاد کی نہیں، اس بارے میں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر کوئی حرج نہیں اگر تم ایسا نہ کرو، کیونکہ اللہ نے لکھ چھوڑا ہے جس نے قیامت تک پیدا ہونا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ صہبا نامی جگہ پر دخول کیا حالانکہ یہ دار الحرب تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18301]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ صہبا نامی جگہ پر دخول کیا حالانکہ یہ دار الحرب تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18301]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18302
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحَنِينِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي طَلْحَةَ حِينَ أَرَادَ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ:" الْتَمِسْ لِي غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدِمُنِي". فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ مُرْدِفِي وَأَنَا غُلَامٌ قَدْ رَاهَقْتُ، فَكَانَ إِذَا نَزَلَ خَدَمْتُهُ فَسَمِعْتُهُ كَثِيرًا مَا يَقُولُ:" اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَظَلْعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ". فَلَمَّا فُتِحَ الْحِصْنُ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ، وَكَانَتْ عَرُوسًا وَقُتِلَ زَوْجُهَا، فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَدِّ الصَّهْبَاءِ حَلَّتْ، فَبَنَى بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاتَّخَذَ حَيْسًا فِي نِطْعٍ صَغِيرٍ وَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَوِّي لَهَا بِعَبَاءَةٍ خَلْفَهُ وَيَجْلِسُ عِنْدَ نَاقَتِهِ فَيَضَعُ رُكْبَتَهُ، فَتَجِيءُ صَفِيَّةُ فَتَضَعُ رِجْلَهَا عَلَى رُكْبَتِهِ ثُمَّ تَرْكَبُ، ⦗٢١١⦘ فَلَمَّا بَدَا لَنَا أُحُدٌ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ". فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ:" اللهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، اللهُمَّ وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا، اللهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، وَأَخْرَجَاهُ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ يَعْقُوبَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ غَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْمُرَيْسِيعِ بِامْرَأَةٍ أَوِ امْرَأَتَيْنِ مِنْ نِسَائِهِ وَالْغَزْوُ بِالنِّسَاءِ أَوْلَى لَوْ كَانَ فِيهِ مَكْرُوهٌ أَنْ يُتَوَقَّى قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ مَضَتِ الْأَحَادِيثُ فِي ذَلِكَ فِي كِتَابِ الْقَسْمِ، وَمَضَتْ أَحَادِيثُ فِي غَزْوِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنِّسَاءِ فِي هَذَا الْكِتَابِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا، جب خیبر جانے کا ارادہ تھا: ”اپنے غلاموں میں سے کوئی غلام تلاش کرو جو میری خدمت کرے“، تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا اور میں اس وقت بچہ تھا اور بلوغت کے قریب تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑاؤ کرتے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرما رہے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ» ”اے اللہ! میں فکر اور غم سے، عاجزی اور سستی سے، بخل اور بزدلی سے اور قرض چڑھ جانے سے اور لوگوں کے غلبے سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔ جب قلعہ فتح ہو گیا تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی خوبصورتی کا تذکرہ کیا گیا۔ وہ نئی دلہن تھیں، ان کا خاوند قتل ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا انتخاب اپنے لیے کر لیا۔ جب ہم سد الصہباء نامی جگہ پہنچے تو وہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے) حلال ہو گئیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے صحبت کی اور حیس (کھجور، گھی وغیرہ کے حلوے) کے ساتھ ولیمہ کیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر کے ذریعے اپنے پیچھے سواری پر جگہ بنائی اور اپنی اونٹنی کے پاس بیٹھ کر اپنے گھٹنے کو رکھا تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے پر پاؤں رکھ کر سوار ہوئیں۔ جب ہمیں احد (پہاڑ) نظر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا: ”اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں (مدینہ کے) دو سنگلاخ میدانوں کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیتا ہوں۔ اے اللہ! ان کے صاع اور مد میں برکت عطا فرما“۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ مریسیع میں اپنی ازواج میں سے ایک یا دو کو ساتھ لیا، اور اگر اس (دار الحرب میں دخول) میں کوئی کراہت ہوتی تو عورتوں کو ساتھ لے کر غزوہ کرنا اس بات کا زیادہ حق دار تھا کہ اس سے بچا جاتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18302]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ مریسیع میں اپنی ازواج میں سے ایک یا دو کو ساتھ لیا، اور اگر اس (دار الحرب میں دخول) میں کوئی کراہت ہوتی تو عورتوں کو ساتھ لے کر غزوہ کرنا اس بات کا زیادہ حق دار تھا کہ اس سے بچا جاتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18302]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح