السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3666. -- باب: بعث العيون والطلائع من المسلمين
-- باب: مسلمانوں کی طرف سے جاسوس اور ہراول دستے بھیجنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18439
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ، ثنا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُسَيْسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا صَنَعَ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ. قَالَ: فَجَاءَ وَمَا فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي النَّضْرِ كَمَا مَضَى.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسیسہ کو جاسوس بنا کر بھیجا کہ وہ ابوسفیان کے قافلہ کی حرکات کو نوٹ کر لے، راوی کہتے ہیں: جب وہ آیا تو میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی گھر میں موجود نہیں تھا۔۔۔ پھر اس نے حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18439]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٩٠١»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18440
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ:" مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ؟" فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ؟" فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا. ثُمَّ قَالَ:" مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ؟" فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ". ⦗٢٥٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الثَّوْرِيِّ.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ احزاب کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کی خبر میرے پاس کون لائے گا؟“ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”میرے پاس قوم کی خبر کون لائے گا؟“ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”میرے لیے لوگوں کی جاسوسی کون کرے گا؟“ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر رضی اللہ عنہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18440]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18441
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: نَدَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ". قَالَ سُفْيَانُ: وَزَادَ فِيهِ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ وَابْنُ عَمَّتِي. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ الْمَدِينِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کے دن لوگوں کو آواز دی تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے «لَبَّيْكَ» کہا۔ پھر دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو پکارا تو زبیر رضی اللہ عنہ نے «لَبَّيْكَ» کہا۔ پھر تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی تو زبیر رضی اللہ عنہ نے «لَبَّيْكَ» کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے لیے ایک مخلص ساتھی ہوتا ہے اور میرا مخلص ساتھی زبیر (رضی اللہ عنہ) ہے۔“ (ب) ہشام بن عروہ بیان کرتے ہیں: ”میرا حواری زبیر (رضی اللہ عنہ) ہے اور میری پھوپھی کا بیٹا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18441]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18442
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَأَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ رَجُلٌ: لَوْ أَدْرَكْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلْتُ مَعَهُ أَوْ أَبْلَيْتُ. فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: أَنْتَ كُنْتَ تَفْعَلُ ذَاكَ؟ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْأَحْزَابِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ رِيحٍ شَدِيدَةٍ وَقَرٍّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ يَكُونُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟" فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ، ثُمَّ الثَّانِيَةَ مِثْلَهُ ثُمَّ قَالَ:" يَا حُذَيْفَةُ قُمْ فَأْتِنَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ"، فَلَمْ أَجِدْ بُدًّا إِذْ دَعَانِي بِاسْمِي أَنْ أَقُومَ، فَقَالَ:" ائْتِنِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَلَا تُذْعِرْهُمْ عَلَيَّ". قَالَ: فَمَضَيْتُ كَأَنَّمَا أَمْشِي فِي حَمَّامٍ حَتَّى أَتَيْتُهُمْ، فَإِذَا أَبُو سُفْيَانَ يُصْلِي ظَهْرَهُ بِالنَّارِ، فَوَضَعْتُ سَهْمِي فِي كَبِدِ قَوْسِي وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْمِيَهُ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُذْعِرْهُمْ عَلَيَّ"، وَلَوْ رَمَيْتُ لَأَصَبْتُهُ قَالَ: فَرَجَعْتُ كَأَنَّمَا أَمْشِي فِي حَمَّامٍ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَصَابَنِي الْبَرْدُ حِينَ فَرَغْتُ وَقُرِرْتُ فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَلْبَسَنِي رَسُولُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَضْلِ عَبَاءَةٍ كَانَتْ عَلَيْهِ يُصَلِّي فِيهَا، فَلَمْ أَزَلْ نَائِمًا حَتَّى الصُّبْحِ فَلَمَّا أَنْ أَصْبَحْتُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُمْ يَا نَوْمَانُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
ابراہیم تیمی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما کے پاس تھے۔ ایک شخص نے کہا کہ اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پا لیتا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑتے ہوئے اپنے آپ کو بوڑھا کر لیتا، تو حذیفہ رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تو یہ کام کرے گا؟ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ احزاب کی راتوں میں سے ایک رات کو سخت ہوا والی اور ٹھنڈی پایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص مجھے قوم کی خبر لا کر دے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہو گا“ تو ہم میں سے کسی نے بھی جواب نہ دیا۔ پھر دوسری مرتبہ اسی طرح فرمایا، پھر فرمایا: ”اے حذیفہ! ہمارے پاس قوم کی خبر لے کر آؤ“۔ اب میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام لے کر مجھے کھڑا ہونے کو کہا تو فرمایا: ”قوم کی خبر لاؤ تو ان کو میرے بارے میں خبر نہ دینا“۔ کہتے ہیں: میں گیا گویا کہ میں سکون سے چل رہا تھا۔ جب میں ابوسفیان کے قریب آیا تو وہ اپنی کمر کو آگ سے تاپ رہا تھا، میں نے اپنا تیر کمان میں رکھا اور اسے تیر مارنے کا ارادہ کیا، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد آ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”ان کو میرے خلاف نہ بھڑکانا“، اگر میں اس کو تیر مارتا تو ہلاک کر سکتا تھا۔ کہتے ہیں: میں واپس آیا کہ میں گرمی کے اندر ہی چل رہا تھا۔ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا پھر مجھے ٹھنڈک محسوس ہوئی، جب میں اپنے کام سے فارغ ہو چکا تھا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر کا زائد حصہ میرے اوپر ڈال دیا، پھر میں صبح تک سویا رہا۔ جب میں نے صبح کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سونے والے! اٹھ جا“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18442]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٧٨٨»
الحكم على الحديث: صحيح