السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3677. -- باب: الرخصة في الرجز عند الحرب
-- باب: جنگ کے دوران رجز (جنگی اشعار) پڑھنے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18471
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْيَمَاميُّ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ وَفِيهِ حِينَ أَغَارُوا عَلَى سَرْحِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثُمَّ قُمْتُ عَلَى ثَنِيَّةٍ فَاسْتَقْبَلْتُ الْمَدِينَةَ فَنَادَيْتُ ثَلَاثَةَ أَصْوَاتٍ: يَا صَبَاحَاهُ، ثُمَّ خَرَجْتُ فِي آثَارِ الْقَوْمِ أَرْمِيهِمْ بِالنَّبْلِ وَأَرْتَجِزُ:.
ایاس بن سلمہ اپنے والد (سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کیا۔ انہوں نے لمبی حدیث ذکر کی، جس میں ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مویشیوں پر حملہ کیا۔ راوی کہتے ہیں: پھر میں ثنیہ پہاڑی پر چڑھ گیا اور مدینہ کی جانب متوجہ ہو کر تین آوازیں لگائیں، پھر لوگوں کے پیچھے تیر پھینکتا اور رجزیہ اشعار پڑھتا ہوا نکلا: میں اکوع کا بیٹا ہوں، آج کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے۔
اس میں ہے کہ جب ہم خیبر گئے تو میرے چچا عامر رضی اللہ عنہ یہ کہہ رہے تھے:
«تَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا، وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا، وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِكَ مَا اسْتَغْنَيْنَا، فَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا، وَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا» ”اللہ کی قسم! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، صدقہ نہ کرتے، نمازیں نہ پڑھتے اور ہم تیرے فضل سے ہی غنی ہیں، اگر دشمن سے ملاقات ہو جائے تو ہمیں ثابت قدم رکھنا اور ہمارے اوپر سکون نازل فرمانا“۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: عامر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «غَفَرَ لَكَ رَبُّكَ» ”تیرا رب تجھے معاف فرمائے“۔ اس میں ہے کہ جب خیبر گئے تو مرحب اپنی تلوار کو لہراتے ہوئے آیا اور اس نے کہا:
«قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ، شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ، إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ» ”خیبر جانتا ہے میں مرحب ہوں، اسلحے کا ماہر، بہادر تجربہ کار، جس وقت لڑائیوں کی آگ بھڑک اٹھتی ہے“۔
تو میرے چچا نے اس کا جواب دیا:
«قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي عَامِرُ، شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُغَامِرُ» ”کہ خیبر جانتا ہے کہ میں عامر ہوں، اسلحہ کا ماہر اور بہادر“۔
پھر انہوں نے حدیث میں ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اپنی تلوار میان میں داخل کر لی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تلوار کو میان سے نکالا اور اشعار پڑھے اور اسے قتل کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18471]
اس میں ہے کہ جب ہم خیبر گئے تو میرے چچا عامر رضی اللہ عنہ یہ کہہ رہے تھے:
«تَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا، وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا، وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِكَ مَا اسْتَغْنَيْنَا، فَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا، وَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا» ”اللہ کی قسم! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، صدقہ نہ کرتے، نمازیں نہ پڑھتے اور ہم تیرے فضل سے ہی غنی ہیں، اگر دشمن سے ملاقات ہو جائے تو ہمیں ثابت قدم رکھنا اور ہمارے اوپر سکون نازل فرمانا“۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: عامر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «غَفَرَ لَكَ رَبُّكَ» ”تیرا رب تجھے معاف فرمائے“۔ اس میں ہے کہ جب خیبر گئے تو مرحب اپنی تلوار کو لہراتے ہوئے آیا اور اس نے کہا:
«قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ، شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ، إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ» ”خیبر جانتا ہے میں مرحب ہوں، اسلحے کا ماہر، بہادر تجربہ کار، جس وقت لڑائیوں کی آگ بھڑک اٹھتی ہے“۔
تو میرے چچا نے اس کا جواب دیا:
«قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي عَامِرُ، شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُغَامِرُ» ”کہ خیبر جانتا ہے کہ میں عامر ہوں، اسلحہ کا ماہر اور بہادر“۔
پھر انہوں نے حدیث میں ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اپنی تلوار میان میں داخل کر لی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تلوار کو میان سے نکالا اور اشعار پڑھے اور اسے قتل کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18471]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18472
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا ⦗٢٦٠⦘ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، وَأَبُو حُذَيْفَةَ قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَبَا عُمَارَةَ أَوَلَّيْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ؟ قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يُوَلِّ وَلَكِنْ عَجِلَ سَرَعَانُ الْقَوْمِ فَرَشَقَتْهُمْ هَوَازِنُ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِرَأْسِ بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَهُوَ يَقُولُ:" أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى الْقَطَّانِ عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اے ابو عمارہ! کیا آپ حنین کے دن بھاگ گئے تھے؟ کہتے ہیں: میں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بھاگے، لیکن قوم کے جلد باز لوگوں پر جب ہوازن نے تیر برسائے اور سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہے تھے: «أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ» ”میں نبی ہوں کوئی جھوٹ نہیں میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18472]
حدیث نمبر: 18473
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، فِي قِصَّةِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقِتَالِهِ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ قَالَ: وَهُوَ يَقُولُ:.
ابن اسحاق غزوہ موتہ میں سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت کا قصہ ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں:
اے جنت! تو قریب ہے۔ تیرا پینا پاکیزہ اور ٹھنڈا ہے۔
اور رومی ایسے لوگ ہیں کہ عذاب ان کے قریب ہے۔ اگر میری ان سے ملاقات ہوئی تو ان کا قتل میرے ذمہ ہے۔
عبداللہ بن ابی بکر بن حزم کہتے ہیں: جب سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اس دن جھنڈا پکڑا تو یہ اشعار پڑھے:
اے جان! میں نے قسم کھائی ہے کہ تجھے خوشی سے یا ناپسندیدگی کے باوجود لڑائی میں اترنا ہی پڑے گا۔
اگرچہ لوگ جمع ہو کر سخت شور ہی کیوں نہ کریں۔ میں دیکھتا ہوں کہ تو جنت سے کراہت کرتی ہے۔
تو نے حالتِ اطمینان میں زندگی گزاری ہے، تو تو صرف ایک نطفہ ہی ہے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں آپ نے یہ بھی کہا:
اے جان! اگر تو قتل نہ ہوئی تو بھی فوت تو ہونا ہی ہے۔ یہ موت کا چشمہ ہے جہاں تو پہنچ چکی ہے اور جو تو نے خواہش کی تھی وہ تجھے دے دیا گیا ہے۔ اگر تو نے یہ دونوں کام (یعنی سیدنا جعفر اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما کی پیروی) کر لیے تو بہتر ہے۔ اگر تو پیچھے ہٹ گئی تو بدبخت ہے۔
ان کا ارادہ سیدنا جعفر اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما تھے۔ پھر انہوں نے آگے بڑھ کر لڑائی کی اور شہید کر دیے گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18473]
اے جنت! تو قریب ہے۔ تیرا پینا پاکیزہ اور ٹھنڈا ہے۔
اور رومی ایسے لوگ ہیں کہ عذاب ان کے قریب ہے۔ اگر میری ان سے ملاقات ہوئی تو ان کا قتل میرے ذمہ ہے۔
عبداللہ بن ابی بکر بن حزم کہتے ہیں: جب سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اس دن جھنڈا پکڑا تو یہ اشعار پڑھے:
اے جان! میں نے قسم کھائی ہے کہ تجھے خوشی سے یا ناپسندیدگی کے باوجود لڑائی میں اترنا ہی پڑے گا۔
اگرچہ لوگ جمع ہو کر سخت شور ہی کیوں نہ کریں۔ میں دیکھتا ہوں کہ تو جنت سے کراہت کرتی ہے۔
تو نے حالتِ اطمینان میں زندگی گزاری ہے، تو تو صرف ایک نطفہ ہی ہے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں آپ نے یہ بھی کہا:
اے جان! اگر تو قتل نہ ہوئی تو بھی فوت تو ہونا ہی ہے۔ یہ موت کا چشمہ ہے جہاں تو پہنچ چکی ہے اور جو تو نے خواہش کی تھی وہ تجھے دے دیا گیا ہے۔ اگر تو نے یہ دونوں کام (یعنی سیدنا جعفر اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما کی پیروی) کر لیے تو بہتر ہے۔ اگر تو پیچھے ہٹ گئی تو بدبخت ہے۔
ان کا ارادہ سیدنا جعفر اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما تھے۔ پھر انہوں نے آگے بڑھ کر لڑائی کی اور شہید کر دیے گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18473]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18474
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ هُنَيْدَةَ، ⦗٢٦١⦘ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ بِحَقِّهِ؟" قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا. قَالَ: فَأَخَذَهُ، فَلَمَّا لَقِيَ الْعَدُوَّ جَعَلَ يَقُولُ:.
ہنیدہ رضی اللہ عنہ جو خزاعہ کے ایک فرد ہیں، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اس تلوار کو لے کر اس کا حق ادا کرے۔“ ایک شخص نے کہا: میں حق ادا کروں گا، اس نے تلوار لے کر دشمن سے لڑائی کرتے ہوئے کہا:
میں وہ آدمی ہوں جس نے اپنے خلیل سے بیعت کی ہے، جب ہم کھجور کے نیچے تھے، میں بزدلی سے نہیں رہوں گا، میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار چلاتا رہوں گا، دوسروں نے کچھ اضافہ کیا ہے کہ آخر کار وہ شہید ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18474]
میں وہ آدمی ہوں جس نے اپنے خلیل سے بیعت کی ہے، جب ہم کھجور کے نیچے تھے، میں بزدلی سے نہیں رہوں گا، میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار چلاتا رہوں گا، دوسروں نے کچھ اضافہ کیا ہے کہ آخر کار وہ شہید ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18474]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف