السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3703. -- باب: ما جاء في حرمة نساء المجاهدين
-- باب: مجاہدین کی عورتوں کی حرمت و تکریم کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18580
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ قَعْنَبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَاعِدِينَ يَخْلُفُ رَجُلًا فِي أَهْلِهِ إِلَّا نُصِبَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقِيلَ: هَذَا خَلَفُكَ فِي أَهْلِكَ فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ". فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا ظَنُّكُمْ؟"..
ابن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھروں میں مقیم رہنے والے لوگوں پر مجاہدین کی بیویوں کی حرمت (احترام) ان کی اپنی ماؤں کی حرمت کی طرح ہے۔ جو لوگ گھروں میں موجود ہیں، ان میں سے اگر کوئی کسی مجاہد کے اہل و عیال کے معاملے میں خیانت کرے گا تو قیامت کے دن اسے کھڑا کیا جائے گا اور (مجاہد سے) کہا جائے گا: اس نے تیرے اہل خانہ میں خیانت کی تھی، لہٰذا اس کی نیکیوں سے جتنا چاہو لے لو۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف دیکھا اور فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18580]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٨٩٧»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18581
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا قَعْنَبٌ التَّمِيمِيُّ، وَكَانَ ثِقَةً خِيَارًا فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ:" يَا فُلَانُ هَذَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ خَانَكَ فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ وَمِسْعَرٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ.
قعنب تمیمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کہا جائے گا: ”اے فلاں! یہ فلاں بن فلاں ہے جس نے تیرے اہل سے خیانت کی تھی، تم جتنی نیکیاں اس کی چاہو لے لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18581]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم»
الحكم على الحديث: صحيح