🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3722. -- باب: المجوس أهل كتاب والجزية تؤخذ منهم
-- باب: مجوسی اہل کتاب ہیں اور ان سے بھی جزیہ لیا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18650
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ سَعِيدِ بْنِ الْمَرْزُبَانِ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: قَالَ فَرْوَةُ بْنُ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيُّ: عَلَامَ تُؤْخَذُ الْجِزْيَةُ مِنَ الْمَجُوسِ وَلَيْسُوا بِأَهْلِ كِتَابٍ؟ فَقَامَ إِلَيْهِ الْمُسْتَوْرِدُ فَأَخَذَ يُلَبِّبُهُ فَقَالَ: يَا عَدُوَّ اللهِ تَطْعَنُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَعَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ يَعْنِي عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ أَخَذُوا مِنْهُمُ الْجِزْيَةَ؟ فَذَهَبَ بِهِ إِلَى الْقَصْرِ فَخَرَجَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَيْهِمَا وَقَالَ: الْبَدَا، فَجَلَسَا فِي ظِلِّ الْقَصْرِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِالْمَجُوسِ، كَانَ لَهُمْ عِلْمٌ يَعْلَمُونَهُ، وَكِتَابٌ يَدْرُسُونَهُ، وَإِنَّ مَلِكَهُمْ سَكِرَ فَوَقَعَ عَلَى ابْنَتِهِ أَوْ أُخْتِهِ، فَاطَّلَعَ عَلَيْهِ بَعْضُ أَهْلِ مَمْلَكَتِهِ، فَلَمَّا صَحَا جَاءُوا يُقِيمُونَ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَامْتَنَعَ مِنْهُمْ، فَدَعَا أَهْلَ مَمْلَكَتِهِ، فَلَمَّا أَتَوْهُ قَالَ: تَعْلَمُونَ دِينًا خَيْرًا مِنْ دِينِ ⦗٣١٨⦘ آدَمَ وَقَدْ كَانَ يُنْكِحُ بَنِيهِ مِنْ بَنَاتِهِ، وَأَنَا عَلَى دِينِ آدَمَ، مَا يَرْغَبُ بِكُمْ عَنْ دِينِهِ؟ قَالَ: فَبَايَعُوهُ وَقَاتَلُوا الَّذِينَ خَالَفُوهُمْ حَتَّى قَتَلُوهُمْ، فَأَصْبَحُوا وَقَدْ أَسْرَى عَلَى كِتَابِهِمْ فَرُفِعَ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِهِمْ، وَذَهَبَ الْعِلْمُ الَّذِي فِي صُدُورِهِمْ، فَهُمْ أَهْلُ كِتَابٍ، وَقَدْ أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِنْهُمُ الْجِزْيَةَ..
فروہ بن نوفل اشجعی نے کہا: آپ مجوس سے جزیہ کیوں لیں گے حالانکہ وہ اہل کتاب نہیں؟ تو مستورد نے کہا: اے اللہ کے دشمن! آپ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر تنقید کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے جزیہ وصول کیا۔ جب وہ شاہی محل میں گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ دونوں محل کے سائے میں بیٹھ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں مجوس کے متعلق جانتا ہوں کہ وہ علم سکھاتے تھے اور کتاب پڑھاتے تھے۔ ان کے بادشاہ نے حالتِ نشہ میں اپنی بیٹی یا بہن سے زنا کر لیا، جس کا علم بعض لوگوں کو ہو گیا تو وہ حد کے نفاذ کے لیے آئے۔ انہوں نے ان کو روک دیا۔ پھر اس نے اپنے لوگوں کو بلا کر کہا کہ کیا آدم کے دین سے بہتر بھی کوئی دین ہے، جس میں وہ اپنے بیٹوں کا نکاح اپنی بیٹیوں سے کر دیتے تھے، میں آدم کے دین پر ہوں۔ راوی کہتے ہیں: انہوں نے اس کی بیعت کی اور اپنے مخالفین سے لڑائی کی یہاں تک کہ انہیں قتل کر دیا، پھر جب صبح ہوئی تو ان کی کتاب راتوں رات ان کے درمیان سے اٹھا لی گئی تھی اور ان کے سینوں کا علم ختم کر دیا گیا تھا، پس وہ اہل کتاب ہیں۔ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جزیہ وصول کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18650]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18651
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو مُحَمَّدَ بْنَ أَحْمَدَ الْعَاصِمِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ يَقُولُ: وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، وَرَوَاهُ عَنْ أَبِي سَعْدٍ الْبَقَّالِ، فَقَالَ: عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، وَنَصَرُ بْنُ عَاصِمٍ هُوَ اللَّيْثِيُّ، وَإِنَّمَا هُوَ عِيسَى بْنُ عَاصِمٍ الْأَسَدِيُّ كُوفِيٌّ. قَالَ ابْنُ خُزَيْمَةَ: وَالْغَلَطُ فِيهِ مِنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ لَا مِنَ الشَّافِعِيِّ، فَقَدْ رَوَاهُ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ غَيْرُ الشَّافِعِيِّ، فَقَالَ: عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ.
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سند میں ابن عیینہ ہیں جنہوں نے اسے ابو سعد بقال سے روایت کیا اور کہا: ”نصر بن عاصم سے“، حالانکہ نصر بن عاصم تو لیثی ہیں، جبکہ درحقیقت یہ عیسیٰ بن عاصم اسدی کوفی ہیں۔ ابن خزیمہ فرماتے ہیں کہ اس میں غلطی ابن عیینہ کی طرف سے ہے نہ کہ امام شافعی کی طرف سے، کیونکہ امام شافعی کے علاوہ دوسروں نے بھی اسے ابن عیینہ سے روایت کیا ہے اور کہا ہے: ”نصر بن عاصم سے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18651]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18652
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ بَجَالَةَ بْنَ عَبْدَةَ، يَقُولُ: كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، فَأَتَاهُ كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اقْتُلُوا كُلَّ سَاحِرٍ وَفَرِّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذِي مَحْرَمٍ مِنَ الْمَجُوسِ، وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ سُفْيَانَ.
بجالہ بن عبدہ کہتے ہیں کہ میں جزء بن معاویہ کا کاتب تھا جو احنف بن قیس کے چچا تھے۔ ان کے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا کہ ”ہر جادوگر کو قتل کر دو اور مجوس کے ہر محرم رشتہ داروں کے درمیان تفریق کر دو۔“ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجوس سے جزیہ نہیں لیا تھا یہاں تک کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجر کے مجوس سے جزیہ لیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18652]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ١٣٥٧»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18653
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مُخْتَصَرًا فِي الْجِزْيَةِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: حَدِيثُ بَجَالَةَ مُتَّصِلٌ ثَابِتٌ، وَإِنَّهُ أَدْرَكَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَانَ رَجُلًا فِي زَمَانِهِ كَاتِبًا لِعُمَّالِهِ، وَحَدِيثُ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّصِلٌ وَبِهِ نَأْخُذُ ⦗٣١٩⦘ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ الْحِجَازِ حَدِيثَانِ مُنْقَطِعَانِ بِأَخْذِ الْجِزْيَةِ مِنَ الْمَجُوسِ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے سفیان بن عیینہ سے یہی روایت اپنی سند کے ساتھ جزیہ کے بارے میں مختصراً ذکر کی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بجالہ کی حدیث متصل اور ثابت ہے، کیونکہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے اور وہ ان کے دور میں ان کے عاملوں کے کاتب تھے، اور نصر بن عاصم کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے، اور ان کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بھی متصل ہے اور ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں، اور اہل حجاز کی روایت سے مجوس سے جزیہ لینے کے بارے میں دو منقطع حدیثیں بھی مروی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18653]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18654
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ذَكَرَ الْمَجُوسَ فَقَالَ: مَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ فِي أَمْرِهِمْ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" سُنُّوا بِهِمْ سُنَّةَ أَهْلِ الْكِتَابِ".
جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجوس کا تذکرہ کیا اور فرمایا: مجھے معلوم نہیں کہ ان کے معاملے میں کیا کروں، تو سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ان کے ساتھ اہل کتاب والا طریقہ اختیار کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18654]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18655
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ مَجُوسِ الْبَحْرَيْنِ، وَأَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخَذَهَا مِنَ الْبَرْبَرِ، زَادَ ابْنُ وَهْبٍ فِي رِوَايَتِهِ أَنَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ فَارِسَ ⦗٣٢٠⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَابْنُ شِهَابٍ إِنَّمَا أَخَذَ حَدِيثَهُ هَذَا عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، وَابْنُ الْمُسَيِّبِ حَسَنُ الْمُرْسَلِ، كَيْفَ وَقَدِ انْضَمَّ إِلَيْهِ مَا تَقَدَّمَ.
ابن شہاب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین کے مجوس سے جزیہ وصول فرمایا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بربر سے جزیہ حاصل کیا۔ ابن وہب نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فارس کے مجوس سے جزیہ لیا۔
شیخ فرماتے ہیں کہ ابن شہاب نے یہ حدیث ابن مسیب سے لی ہے، اور ابن مسیب کی مرسل روایت حسن ہوتی ہے، تو کیوں نہ ہو جبکہ اس کے ساتھ پچھلی روایات بھی مل گئی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18655]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18656
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ، وَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ السَّوَادِ، وَأَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ بَرْبَرَ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجر کے مجوس سے جزیہ حاصل کیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سواد کے مجوس سے جزیہ لیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بربر کے مجوس سے جزیہ وصول فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18656]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18657
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ قُشَيْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ بَجَالَةَ بْنِ عَبْدَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَسْبَذِيِّينَ مِنْ أَهْلِ الْبَحْرَيْنِ وَهُمْ مَجُوسُ أَهْلِ هَجَرَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَكَثَ عِنْدَهُ ثُمَّ خَرَجَ، فَسَأَلْتُهُ مَا قَضَى اللهُ وَرَسُولُهُ فِيكُمْ؟ قَالَ: شَرًّا. قُلْتُ: مَهْ؟ قَالَ: الْإِسْلَامُ أَوِ الْقَتْلُ. قَالَ: وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَبِلَ مِنْهُمُ الْجِزْيَةَ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: وَأَخَذَ النَّاسُ بِقَوْلِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَتَرَكُوا مَا سَمِعْتُ أَنَا مِنَ الْأَسْبَذِيِّ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: نِعْمَ مَا صَنَعُوا، تَرَكُوا رِوَايَةَ الْأَسْبَذِيِّ الْمَجُوسِيِّ، وَأَخَذُوا بِرِوَايَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى أَنَّهُ قَدْ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ بِمَا قَالَ الْأَسْبَذِيُّ، ثُمَّ يَأْتِيهِ الْوَحْيُ بِقَبُولِ الْجِزْيَةِ مِنْهُمْ فَيَقْبَلُهَا كَمَا قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
بجالہ بن عبدہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ بحرین کا ایک شخص، جو ہجر کے مجوسیوں میں سے تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے پاس ٹھہرا رہا، پھر اس کے نکلنے کے بعد میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارے بارے میں اللہ اور اس کے رسول نے کیا فیصلہ فرمایا ہے؟ اس نے کہا: برا۔ میں نے پوچھا: کیا؟ اس نے کہا: اسلام قبول کرو یا قتل۔
راوی کہتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جزیہ قبول کر لیا تھا۔
(ب) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ لوگوں نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بات قبول کی لیکن جو میں نے ایک اسبذی سے سنا تھا اس کو ترک کر دیا۔
شیخ فرماتے ہیں: انہوں نے اسبذی مجوسی کی بات کو چھوڑ کر عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بات کو قبول کیا ہے، کیونکہ اس سے بات چیت کے بعد وحی آئی جس کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیہ قبول فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18657]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18658
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ حَلِيفُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ كَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٣٢١⦘ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَسَمِعَتِ الْأَنْصَارُ بِقُدُومِهِ، فَوَافَتْ صَلَاةَ الصُّبْحِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ تَعَرَّضُوا لَهُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُمْ وَقَالَ:" أَظُنُّكُمْ سَمِعْتُمْ بِقُدُومِ أَبِي عُبَيْدَةَ وَأَنَّهُ جَاءَ بِشَيْءٍ؟" فَقَالُوا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ:" أَبْشِرُوا وَأَمِّلُوا مَا يَسُرُّكُمْ، فَوَاللهِ مَا الْفَقْرُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ، وَلَكِنْ أَخْشَى أَنْ تُبْسَطَ الدُّنْيَا عَلَيْكُمْ كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَتَنَافَسُوهَا وَتُلْهِيَكُمْ كَمَا أَلْهَتْهُمْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ..
سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ، جو بنو عامر بن لؤی کے حلیف اور بدری صحابی ہیں، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین کے مجوس سے جزیہ لینے کے لیے روانہ کیا اور بحرین کے امیر سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ تھے جن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کے بعد مقرر فرمایا تھا۔ جب سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے مال لے کر آئے اور انصار کو ان کے آنے کی خبر ملی تو انہوں نے صبح کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکمل کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درپے ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: ”تمہیں ابو عبیدہ کے مال لانے کی خبر ملی ہوگی؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے صحیح فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوشخبری حاصل کرو جو تمہیں خوش کر دے گی، مجھے تمہاری فقیری کا ڈر نہیں، لیکن تمہاری دنیا کی خوشحالی سے ڈرتا ہوں، جیسے تم سے پہلے لوگوں پر دنیا کشادہ کی گئی، پھر انہوں نے اس میں رغبت کی تو اس دنیا نے ان کو غافل کر دیا، کہیں تمہیں بھی غافل نہ کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18658]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18659
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَسَنِ الْحُلْوَانِيِّ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18659]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں