🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3747. -- باب: ما يؤخذ من الذمي إذا اتجر في غير بلده، والحربي إذا دخل بلاد الإسلام بأمان
-- باب: ذمی جب اپنے شہر کے علاوہ کہیں اور تجارت کرے، اور حربی جب امان لے کر بلادِ اسلام میں داخل ہو، تو ان سے کیا وصول کیا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18763
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: بَعَثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْعُشُورِ فَقُلْتُ: تَبْعَثُنِي عَلَى الْعُشُورِ مِنْ بَيْنِ غِلْمَتِكَ؟ فَقَالَ: أَلَا تَرْضَى أَنْ أَجْعَلَكَ عَلَى مَا جَعَلَنِي عَلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رُبْعَ الْعُشْرِ، وَمِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ نِصْفَ الْعُشْرِ، وَمِمَّنْ لَا ذِمَّةَ لَهُ الْعُشْرَ.
انس بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے مالِ تجارت سے دسواں حصہ لینے کے لیے بھیجا۔ انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مالِ تجارت سے دسواں حصہ وصول کرنا یہ آپ کا کام ہے، آپ نے مجھے بھیج دیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: کیا آپ راضی نہیں جس کام پر مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مقرر کیا، میں آپ کو بھیج رہا ہوں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم دیا کہ مسلمانوں سے چوتھائی عشر اور ذمی لوگوں سے بیسواں حصہ اور جو ذمی نہ ہو اس سے دسواں حصہ لوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18763]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18764
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: أَرْسَلَ إِلِيَّ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَبْطَأْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلِيَّ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتُ لَأَرَى لَوْ أَنِّي أَمَرْتُكَ أَنْ تَعَضَّ عَلَى حَجَرِ كَذَا وَكَذَا ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي لَفَعَلْتَ، اخْتَرْتُ لَكَ خَيْرَ عَمَلٍ فَكَرِهْتَهُ، إِنِّي أَكْتُبُ لَكَ سُنَّةَ عُمَرَ. قُلْتُ: فَاكْتُبْ لِي سُنَّةَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. قَالَ: فَكَتَبَ: مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ، وَمَنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ مِنْ كُلِّ عِشْرِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ، وَمِمَّنْ لَا ذِمَّةَ لَهُ مِنْ كُلِّ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ دِرْهَمٌ. قَالَ: قُلْتُ: مَنْ لَا ذِمَّةَ لَهُ؟ قَالَ: الرُّومُ كَانُوا يَقْدَمُونَ الشَّامَ.
انس بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے پیغام بھیجا، میں نے دیر کر دی، دوسرے پیغام پر میں آیا۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے: اگر میں تجھے اپنی رضا مندی کے لیے یہ کہتا کہ اس پتھر کو منتقل کر دو تو آپ ایسا کر دیتے۔ لیکن میں نے آپ کے لیے بہتر کام کا انتخاب کیا جس کو آپ نے ناپسند کیا۔ کہتے ہیں: میں تجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا طریقہ تحریر کر دیتا ہوں، میں نے کہا: تحریر کر دیں تو انہوں نے لکھا کہ مسلمانوں سے چالیس درہموں سے ایک درہم وصول کرنا ہے، ذمی لوگوں سے ہر بیس درہم میں سے ایک درہم، اور جن کا کوئی ذمہ (عہد) نہیں ان سے ہر دس درہم میں سے ایک درہم۔ میں نے پوچھا: غیر ذمی کون سے لوگ ہیں؟ فرمایا: جو رومی شام سے تجارت کی غرض سے آتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18764]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18765
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ هَارُونَ الْفَقِيهُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْمُقْرِيُّ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنِ الْهَيْثَمِ وَكَانَ صَيْرَفِيًّا بِالْكُوفَةِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ أَخِي مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: جَعَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَلَى صَدَقَةِ الْبَصْرَةِ، فَقَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. فَقُلْتُ: لَا أَعْمَلُ ذَلِكَ حَتَّى تَكْتُبَ لِي عَهْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ الَّذِي عَهِدَ إِلَيْكَ، فَكَتَبَ لِي أَنْ خُذْ مِنْ أَمْوَالِ الْمُسْلِمِينَ رُبْعَ الْعُشْرِ، وَمِنْ أَمْوَالِ أَهْلِ الذِّمَّةِ إِذَا اخْتَلَفُوا ⦗٣٥٤⦘ لِلتِّجَارَةِ نِصْفَ الْعُشْرِ، وَمِنْ أَمْوَالِ أَهْلِ الْحَرْبِ الْعُشْرَ.
انس بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو بصرہ سے صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ اس کام پر میں آپ کو بھیجتا ہوں جس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے مقرر کیا ہے۔ میں نے کہا: میں اس وقت تک آپ کا کام نہیں کروں گا جب تک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا عہد مجھے تحریر کر کے نہ دیں گے، تو انہوں نے مجھے تحریر کر کے دیا کہ مسلمانوں سے چالیسواں حصہ، اور ذمی لوگوں کا مال جب تجارت کی غرض سے مختلف شہروں میں جائیں تو بیسواں حصہ اور حربی کافر کے مال سے دسواں حصہ وصول کرنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18765]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18766
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَأْخُذُ مِنَ النَّبَطِ مِنَ الْحِنْطَةِ وَالزَّيْتِ نِصْفَ الْعُشْرِ يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنْ يَكْثُرَ الْحَمْلُ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَيَأْخُذُ مِنَ الْقِطْنِيَّةِ الْعُشْرَ.
سالم اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبط کے رہنے والوں سے گندم اور تیل سے بیسواں حصہ وصول کرتے تھے تاکہ وہ زیادہ مال مدینہ لائیں اور قطنیہ سے دسواں حصہ وصول کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18766]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18767
قَالَ: وأنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ عَامِلًا مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ عَلَى سُوقِ الْمَدِينَةِ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَكَانَ يَأْخُذُ مِنَ النَّبَطِ الْعُشْرَ.
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں مدینہ کے بازار پر عامل تھا، وہ نبط کے علاقے کے لوگوں سے دسواں حصہ وصول کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18767]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18768
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ: عَلَى أِيِّ وَجْهٍ أَخَذَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنَ النَّبَطِ الْعُشْرَ؟ فَقَالَ: كَانَ ذَلِكَ يُؤْخَذُ مِنْهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَلْزَمَهُمْ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب رحمہ اللہ سے پوچھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبط کے علاقے سے دسواں حصہ کیسے وصول کرتے تھے؟ فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ان سے وصول کیا جاتا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کو مقرر فرما دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18768]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18769
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: كُنْتُ أُعَاشِرُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ زَمَانَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَانَ يَأْخُذُ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ أَنْصَافَ عُشُورِ أَمْوَالِهِمْ فِيمَا تَجَرُوا فِيهِ.
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عقبہ کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں عشر وصول کیا کرتا تھا، وہ ذمی لوگوں کے تجارت کے مال سے بیسواں حصہ وصول کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18769]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18770
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا قَيْسٌ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: كَتَبَ أَبُو مُوسَى إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ تُجَّارَ الْمُسْلِمِينَ إِذَا دَخَلُوا دَارَ الْحَرْبِ أَخَذُوا مِنْهُمُ الْعُشْرَ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ: خُذْ مِنْهُمْ إِذَا دَخَلُوا إِلَيْنَا مِثْلَ ذَلِكَ الْعُشْرِ، وَخُذُوا مِنْ تُجَّارِ أَهْلِ الذِّمَّةِ نِصْفَ الْعُشْرِ، وَمِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ مِائَتَيْنِ خَمْسَةً، وَمَا زَادَ فَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا.
سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مسلمان تاجر جب دار الحرب میں جاتے ہیں تو ان سے عشر وصول کیا جاتا ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ جب ان کے لوگ آئیں تو تم ان سے عشر وصول کرو اور ذمی تاجروں سے بیسواں حصہ وصول کرو اور مسلمانوں سے دو سو درہم پر پانچ درہم وصول کیے جائیں اور جتنا زیادہ ہو ہر چالیس درہم پر ایک درہم وصول کریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18770]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18771
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ مُغَلِّسٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى عُمَرَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ يَدْخُلُونَ أَرْضَنَا أَرْضَ الْإِسْلَامِ فَيُقِيمُونَ قَالَ: فَكَتَبَ ⦗٣٥٥⦘ إِلِيَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنْ أَقَامُوا سِتَّةَ أَشْهُرٍ فَخُذْ مِنْهُمُ الْعُشْرَ، وَإِنْ أَقَامُوا سَنَةً فَخُذْ مِنْهُمْ نِصْفَ الْعُشْرِ.
زیاد بن حدیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ حربی کافر مسلمانوں کے علاقے میں آ کر قیام کرتے ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر وہ چھ ماہ قیام کریں تو ان سے دسواں حصہ وصول کرو، اگر وہ سال بھر قیام کریں تو بیسواں حصہ وصول کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18771]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18772
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ، قَالَ: مَا كُنَّا نَعْشُرُ مُسْلِمًا وَلَا مُعَاهَدًا. قَالَ: قُلْتُ: فَمَنْ كُنْتُمْ تَعْشُرُونَ؟ قَالَ: تُجَّارَ أَهْلِ الْحَرْبِ كَمَا يَعْشُرُونَنَا إِذَا أَتَيْنَاهُمْ.
زیاد بن حدیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم مسلمان اور معاہد سے دسواں حصہ وصول نہ کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: تم کن سے عشر وصول کرتے تھے؟ کہتے ہیں کہ حربی تاجروں سے دسواں حصہ وصول کرتے تھے؛ کیونکہ جب ہم ان کے پاس جاتے تھے تو وہ بھی ہم سے دسواں حصہ وصول کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18772]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں