🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3773. -- باب: المعلم يأكل من الصيد الذي قد قتل
-- باب: سدھائے ہوئے جانور کا اس شکار میں سے کھانے کا بیان جسے وہ مار چکا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18869
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نُرْسِلُ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ فَيُمْسِكْنَ عَلَيَّ وَأَذْكُرُ اسْمَ اللهِ، قَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ فَكُلْ". قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ؟ قَالَ:" وَإِنْ قَتَلْنَ مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ لَيْسَ مَعَهَا". قُلْتُ لَهُ: فَإِنِّي أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ الصَّيْدَ فَأُصِيبُ، قَالَ:" إِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ فَخَرَقَ فَكُلْهُ، وَإِنْ أَصَابَهُ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ مَنْصُورٍ.
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اپنے شکاری سکھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑتے ہیں، وہ شکار کو ہمارے لیے محفوظ کر لیتا ہے، کیا میں اس پر اللہ کا نام ذکر کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو اپنا سکھایا ہوا کتا چھوڑے اور تو نے «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام سے اور اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھا ہو تو کھاؤ۔“ میں نے پوچھا: اگر کتا شکار کو قتل کر دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اس کے ساتھ کوئی دوسرا کتا شامل نہ ہو تب وہ قتل بھی کر دے تو کھا لو۔“ پھر میں نے عرض کیا کہ میں پھالا مار کر شکار کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آپ پھالا مار کر شکار کریں اور وہ شکار کو سوراخ کر دے تو کھا لو، اگر اس کو چوڑائی کے بل لگے تو پھر نہ کھاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 18869]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18870
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبِرْتِيِّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ فَقَالَ:" مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ فَكُلْ فَإِنَّ أَخْذَهُ ذَكَاتُهُ، وَإِنْ أَصَبْتَ مَعَ كَلْبِكَ أَوْ كِلَابِكَ كَلْبًا غَيْرَهُ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى كِلَابِ غَيْرِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ.
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتے کے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تمہارے لیے روک لے کھا لو کیونکہ اس کا پکڑ لینا ہی ذبح کرنا ہے۔ اگر آپ اپنے شکاری کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا یا کتے پائیں تب نہ کھائیں، آپ نے اپنے شکاری کتے کو چھوڑتے ہوئے «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام سے اور اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھا ہے جب کہ دوسرے کتوں کے چھوڑتے ہوئے نہیں پڑھا گیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 18870]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18871
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عَارِمٌ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ الْبُنَانِيُّ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ الْأَزْرَقِ، سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَرَأَيْتَ إِذَا أَرْسَلْتُ كَلْبِي فَسَمَّيْتُ فَقَتَلَتِ الصَّيْدَ آكُلُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ نَافِعٌ: يَقُولُ اللهُ: {إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ} [المائدة: ٣] تَقُولُ أَنْتَ: وَإِنْ قَتَلَ. قَالَ: وَيْحَكَ يَا ابْنَ الْأَزْرَقِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَمْسَكَ عَلَى سِنَّورٍ فَأَدْرَكْتُ ذَكَاتَهُ كَانَ يَكُونُ ⦗٣٩٥⦘ عَلَيَّ بَأْسٌ؟ وَاللهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ فِي أِيِّ كِلَابٍ نَزَلَتْ، نَزَلَتْ فِي كِلَابِ بَنِي نَبْهَانَ مِنْ طَيِّئٍ، وَيْحَكَ يَا ابْنَ الْأَزْرَقِ وَلَيَكُونَنَّ لَكَ نَبَأٌ.
نافع بن ازرق نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے جب میں اپنے سکھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑوں پھر وہ شکار کو قتل کر دیتا ہے، کیا میں اس شکار کو کھا لوں؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کھا لو۔ نافع کہتے ہیں کہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ﴾ [سورة المائدة: 3] یعنی اس وقت کھاؤ جب تم ذبح کرو، آپ کہتے ہیں کہ اگر شکار قتل بھی کر دیا جائے تو بھی کھا لو، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اے ابن ازرق! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اس کو پکڑ کر ذبح کروں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ یہ آیت کن کتوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ بنو نبھان جو قبیلہ طئی سے ہیں، ان کے کتوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ اے ابن ازرق! تجھ پر افسوس، ضرور تیرے لیے کوئی خبر ہوگی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 18871]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں