السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3798. -- باب: من كره أكل الطافي
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے پانی پر تیرنے والی (مردہ مچھلی) کھانے کو ناپسند کیا ہے۔
حدیث نمبر: 18988
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فَيْرُوزَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: مَا ضَرَبَ بِهِ الْبَحْرُ أَوْ جَزَرَ عَنْهُ أَوْ صِيدَ فِيهِ فَكُلْ، وَمَا مَاتَ فِيهِ ثُمَّ طَفَا فَلَا تَأْكُلْ. ⦗٤٢٩⦘ وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَغَيْرُهُمْ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ مَوْقُوفًا، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ، وَأَبُو عَاصِمٍ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَغَيْرُهُمْ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَخَالَفَهُمْ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرُ فَرَوَاهُ عَنِ الثَّوْرِيِّ مَرْفُوعًا وَهُوَ وَاهِمٌ فِيهِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: جس کو سمندر باہر پھینک دے، یا جس سے پانی ہٹ جائے، یا جو اس میں شکار کیا جائے اسے کھا لو، اور جو اس میں مر جائے پھر تیر آئے اسے نہ کھاؤ۔
کئی راویوں نے اسے ابو زبیر کے واسطے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کیا ہے، جبکہ ابو احمد زبیری نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ثوری سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور اس میں انہیں وہم ہوا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 18988]
کئی راویوں نے اسے ابو زبیر کے واسطے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کیا ہے، جبکہ ابو احمد زبیری نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ثوری سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور اس میں انہیں وہم ہوا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 18988]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18989
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا طَفَا السَّمَكُ عَلَى الْمَاءِ فَلَا تَأْكُلْهُ، وَإِذَا جَزَرَ عَنْهُ الْبَحْرُ فَكُلْهُ، وَمَا كَانَ عَلَى حَافَتِهِ فَكُلْهُ". قَالَ سُلَيْمَانُ: لَمْ يَرْفَعْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا أَبُو أَحْمَدَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مچھلی پانی پر تیر آئے تو اسے نہ کھاؤ، اور جب سمندر اس سے ہٹ جائے تو اسے کھا لو، اور جو اس کے کنارے پر ہو اسے کھا لو۔“
سلیمان (طبرانی) کہتے ہیں: اس حدیث کو سفیان سے ابو احمد کے سوا کسی نے مرفوعاً روایت نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 18989]
سلیمان (طبرانی) کہتے ہیں: اس حدیث کو سفیان سے ابو احمد کے سوا کسی نے مرفوعاً روایت نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 18989]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18990
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَلْقَى الْبَحْرُ أَوْ جَزَرَ عَنْهُ فَكُلُوهُ، وَمَا مَاتَ فِيهِ وَطَفَا فَلَا تَأْكُلُوهُ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَأَيُّوبُ وَحَمَّادٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ وَقَفُوهُ عَلَى جَابِرٍ. قَالَ: وَقَدْ أُسْنِدَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا مِنْ وَجْهٍ ضَعِيفٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ كَثِيرُ الْوَهْمِ سَيِّئُ الْحِفْظِ، وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ مَوْقُوفًا، ⦗٤٣٠⦘ وَرَوَاهُ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ يَزِيدَ الْكُوفِيِّ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا اصْطَدْتُمُوهُ وَهُوَ حَيٌّ فَكُلُوهُ، وَمَا وَجَدْتُمْ مَيِّتًا طَافِيًا فَلَا تَأْكُلُوهُ". قَالَ أَبُو عِيسَى: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: لَيْسَ هَذَا بِمَحْفُوظٍ، وَيُرْوَى عَنْ جَابِرٍ خِلَافُ هَذَا، وَلَا أَعْرِفُ لِابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ شَيْئًا. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رَوَاهُ أَيْضًا يَحْيَى بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ مَرْفُوعًا، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ مَتْرُوكٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَرَوَاه عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرٍ مَرْفُوعًا، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَرَوَاهُ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ مَرْفُوعًا، وَلَا يُحْتَجُّ بِمَا يَنْفَرِدُ بِهِ بَقِيَّةُ، فَكَيْفَ بِمَا يُخَالَفُ فِيهِ، وَقَوْلُ الْجَمَاعَةِ مِنَ الصَّحَابَةِ عَلَى خِلَافِ قَوْلِ جَابِرٍ مَعَ مَا رُوِّينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْبَحْرِ:" هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ". وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو سمندر باہر پھینک دے یا جس سے سمندر ہٹ جائے اسے کھا لو، اور جو اس میں مر جائے اور تیر آئے اسے نہ کھاؤ۔“
امام ابوداؤد فرماتے ہیں: اس حدیث کو سفیان ثوری، ایوب اور حماد نے ابو زبیر سے روایت کیا اور اسے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ پر موقوف کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: یہ حدیث ایک ضعیف سند سے ابن ابی ذئب عن ابی الزبیر عن جابر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم مرفوعاً بھی مروی ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یحییٰ بن سلیم طائفی بہت وہم کرنے والے اور کمزور حافظے والے ہیں، اور دوسروں نے اسے اسماعیل بن امیہ سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی نے اسے ابن ابی ذئب کی حدیث سے، حسین بن یزید کوفی عن حفص بن غیاث عن ابن ابی ذئب عن ابی الزبیر عن جابر رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے تم زندہ حالت میں شکار کرو اسے کھا لو، اور جسے مردہ تیرتا ہوا پاؤ اسے نہ کھاؤ۔“ امام ابو عیسیٰ فرماتے ہیں: میں نے محمد یعنی امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ محفوظ نہیں ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف مروی ہے، اور میں ابن ابی ذئب کی ابو زبیر سے کوئی روایت نہیں جانتا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے یحییٰ بن ابی انیسہ نے بھی ابو زبیر سے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور یحییٰ بن ابی انیسہ متروک ہیں، ان سے دلیل نہیں لی جاتی۔ اور عبدالعزیز بن عبیداللہ نے وہب بن کیسان عن جابر سے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور عبدالعزیز ضعیف ہیں، ان سے دلیل نہیں لی جاتی۔ اور بقیہ بن ولید نے اوزاعی عن ابی الزبیر عن جابر سے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور بقیہ جس روایت میں منفرد ہوں اس سے دلیل نہیں لی جاتی، تو جس میں ان کی مخالفت کی گئی ہو اس سے کیسے لی جائے گی؟ نیز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت کا قول سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے قول کے خلاف ہے، اس کے ساتھ وہ بھی جو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے بارے میں فرمایا: ”اس کا پانی پاک اور اس کا مردار حلال ہے۔“ وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 18990]
امام ابوداؤد فرماتے ہیں: اس حدیث کو سفیان ثوری، ایوب اور حماد نے ابو زبیر سے روایت کیا اور اسے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ پر موقوف کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: یہ حدیث ایک ضعیف سند سے ابن ابی ذئب عن ابی الزبیر عن جابر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم مرفوعاً بھی مروی ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یحییٰ بن سلیم طائفی بہت وہم کرنے والے اور کمزور حافظے والے ہیں، اور دوسروں نے اسے اسماعیل بن امیہ سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی نے اسے ابن ابی ذئب کی حدیث سے، حسین بن یزید کوفی عن حفص بن غیاث عن ابن ابی ذئب عن ابی الزبیر عن جابر رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے تم زندہ حالت میں شکار کرو اسے کھا لو، اور جسے مردہ تیرتا ہوا پاؤ اسے نہ کھاؤ۔“ امام ابو عیسیٰ فرماتے ہیں: میں نے محمد یعنی امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ محفوظ نہیں ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف مروی ہے، اور میں ابن ابی ذئب کی ابو زبیر سے کوئی روایت نہیں جانتا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے یحییٰ بن ابی انیسہ نے بھی ابو زبیر سے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور یحییٰ بن ابی انیسہ متروک ہیں، ان سے دلیل نہیں لی جاتی۔ اور عبدالعزیز بن عبیداللہ نے وہب بن کیسان عن جابر سے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور عبدالعزیز ضعیف ہیں، ان سے دلیل نہیں لی جاتی۔ اور بقیہ بن ولید نے اوزاعی عن ابی الزبیر عن جابر سے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور بقیہ جس روایت میں منفرد ہوں اس سے دلیل نہیں لی جاتی، تو جس میں ان کی مخالفت کی گئی ہو اس سے کیسے لی جائے گی؟ نیز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت کا قول سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے قول کے خلاف ہے، اس کے ساتھ وہ بھی جو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے بارے میں فرمایا: ”اس کا پانی پاک اور اس کا مردار حلال ہے۔“ وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 18990]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر