السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3802. -- باب: الأضحية سنة نحب لزومها ونكره تركها
-- باب: قربانی ایک سنت ہے، ہم اس کی پابندی کو پسند کرتے ہیں اور اسے ترک کرنے کو ناپسند کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 19022
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ الْبَجَلِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ يَقُولُ:" مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُعِدْ مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ شُعْبَةَ.
جندب بن سفیان بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں قربانی والے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نماز ادا کرنے سے پہلے ذبح کرے وہ نماز پڑھنے کے بعد اس کی جگہ دوسرا جانور قربان کرے اور جس نے ابھی تک ذبح نہیں کیا وہ ذبح کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19022]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19023
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ الْحَرَشِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ خَالَهُ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا يَوْمٌ اللَّحْمُ فِيهِ مَكْرُوهٌ، وَإِنِّي عَجَّلْتُ نَسِيكَتِي لِأُطْعِمَ أَهْلِي وَجِيرَانِي وَأَهْلَ دَارِي. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعِدْ نُسُكًا". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ عِنْدِي عَنَاقًا لَهِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ. فَقَالَ:" هِيَ خَيْرُ نَسِيكَتِكَ، وَلَا تُجْزِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَاسْتَشْهَدَ بِهِ الْبُخَارِيُّ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے خالو سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذبح کرنے سے پہلے قربانی کر دی۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو گوشت کا دن ہے، اس لیے میں نے اپنی قربانی کو جلدی کیا ہے تاکہ اپنے گھر والوں اور ہمسایوں کو کھانا کھلا سکوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی دوبارہ کر۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس بکری کا ایک سالہ بچہ ہے جو گوشت کی دو بکریوں سے اچھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیری بہترین قربانی ہے، لیکن تیرے بعد «جَذَع» یعنی کھیرا جانور کسی کو بھی کفایت نہ کرے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19023]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19024
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗٤٤١⦘ سَخْتَوَيْهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْمُثَنَّى، أَنَّ مُسَدَّدًا حَدَّثَهُمْ قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ، أنبأ أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ النَّحْرِ:" مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ". فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ وَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ كَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَهُ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ. قَالَ: فَرَخَّصَ لَهُ، قَالَ: فَلَا أَدْرِي أَبَلَغَتِ الرُّخْصَةُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لَا.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فرمایا: ”جس نے نماز سے پہلے قربانی کر دی وہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے۔“ تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے جس میں گوشت کی چاہت کی جاتی ہے اور اس نے اپنے پڑوسیوں کی کچھ حاجت کا تذکرہ کیا۔ گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق کی اور اس نے کہا: میرے پاس کھیرا جانور ہے جو دو گوشت کی بکریوں سے مجھے زیادہ محبوب ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو رخصت دی، لیکن مجھے معلوم نہیں یہ رخصت اسی کو تھی یا اس کے علاوہ کسی اور کو بھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19024]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19025
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ زَادَ: ثُمَّ انْكَفَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا فَقَامَ النَّاسُ إِلَى غَنِيمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا أَوْ قَالَ: تَجَزَّعُوهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ صَدَقَةِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ بِطُولِهِ، وَعَنْ مُسَدَّدٍ مُخْتَصَرًا، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ.
ابنِ علیہ رحمہ اللہ نے اپنی سند سے ذکر کیا ہے، اس میں زیادتی ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف مڑے اور انھیں ذبح کر دیا، تو لوگ بکریوں کے ایک چھوٹے ریوڑ کی طرف اٹھے اور اسے آپس میں بانٹ لیا، یا فرمایا: اس کے حصے کر لیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19025]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19026
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنَ إِبْرَاهِي مَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، أَنَّ عُوَيْمِرَ بْنَ أَشْقَرَ ذَبَحَ ضَحِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ يَوْمَ الْأَضْحَى، وَأَنَّهُ ذَكَرَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ لِضَحِيَّةٍ أُخْرَى.
عباد بن تمیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عویمر بن اشعر رضی اللہ عنہ نے عید کی نماز پڑھنے سے پہلے قربانی کر دی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی جگہ دوسری قربانی کرنے کا حکم دیا۔
(ب) بشری بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی ذبح کرنے سے پہلے ذبح کر دی تو ان کا گمان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دوبارہ قربانی کرنے کا حکم فرمایا۔ ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس صرف جزعہ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر صرف تیرے پاس جزعہ ہے تو ذبح کر ڈال۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19026]
(ب) بشری بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی ذبح کرنے سے پہلے ذبح کر دی تو ان کا گمان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دوبارہ قربانی کرنے کا حکم فرمایا۔ ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس صرف جزعہ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر صرف تیرے پاس جزعہ ہے تو ذبح کر ڈال۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19026]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19027
ثُمَّ قَالَ: مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَاحْتُمِلَ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ لِضَحِيَّةٍ أَنَّ الضَّحِيَّةَ وَاجِبَةٌ، وَاحْتَمَلَ أَمْرُهُ أَنْ يَكُونَ أَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ إِنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ؛ لَأَنَّ الضَّحِيَّةَ قَبْلَ الْوَقْتِ لَيْسَتْ بِضَحِيَّةٍ تُجْزِيهِ فَيَكُونُ مِنْ عِدَادِ مَنْ ضَحَّى فَوَجَدْنَا الدَّلَالَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الضَّحِيَّةَ لَيْسَتْ بِوَاجِبَةٍ لَا يَحِلُّ تَرْكُهَا وَهِيَ سُنَّةٌ نُحِبُّ لُزُومَهَا وَنَكْرَهُ تَرْكَهَا لَا عَلَى إِيجَابِهَا، فَإِنْ قِيلَ: فَأَيْنَ السُّنَّةُ الَّتِي دَلَّتْ عَلَى أَنَّهَا لَيْسَتْ بِوَاجِبَةٍ، قِيلَ:.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شاید قربانی کے واجب ہونے کی وجہ سے اعادہ کا حکم فرمایا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اگر دوبارہ قربانی کا ارادہ ہو تو کر لے اور وقت سے پہلے والی قربانی کفایت نہ کرے گی۔ قربانی ایسی واجب نہیں کہ اس کا ترک کر دینا جائز نہ ہو، بلکہ یہ سنت ہے، اس کے لزوم کو ہم پسند کرتے ہیں اور ترک کو ناپسند کرتے ہیں، نہ کہ اسے واجب سمجھتے ہوئے۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ سنت کہاں ہے جو عدم وجوب پر دلالت کرتی ہے؟
(ب) ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عشرہ ذی الحج شروع ہو جائے تو قربانی کا ارادہ کرنے والا شخص اپنے جسم کے کسی حصہ سے بال نہ اکھاڑے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ قربانی واجب نہیں ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قربانی کا ارادہ کرے“ اگر قربانی واجب ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں نہ فرماتے بلکہ یہ کہہ دیتے کہ کوئی اپنے بال نہ کٹوائے یہاں تک کہ قربانی کر لے۔
شیخ فرماتے ہیں: براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ ارشاد فرمایا: ”اس دن سب سے پہلا کام نماز ادا کرنا ہے پھر قربانی کرنا۔ جس نے یہ کام کیا اس نے ہماری سنت کو پا لیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19027]
(ب) ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عشرہ ذی الحج شروع ہو جائے تو قربانی کا ارادہ کرنے والا شخص اپنے جسم کے کسی حصہ سے بال نہ اکھاڑے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ قربانی واجب نہیں ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قربانی کا ارادہ کرے“ اگر قربانی واجب ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں نہ فرماتے بلکہ یہ کہہ دیتے کہ کوئی اپنے بال نہ کٹوائے یہاں تک کہ قربانی کر لے۔
شیخ فرماتے ہیں: براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ ارشاد فرمایا: ”اس دن سب سے پہلا کام نماز ادا کرنا ہے پھر قربانی کرنا۔ جس نے یہ کام کیا اس نے ہماری سنت کو پا لیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19027]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19028
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَيَّاشٍ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ عَيَّاشَ بْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللهُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ". فَقَالَ الرَّجُلُ: فَإِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةَ أَبِي أَوْ شَاةَ أَبِي وَأَهْلِي وَمَنِيحَتَهُمْ أَذْبَحُهَا؟ قَالَ:" لَا، وَلَكِنْ قَلِّمْ أَظْفَارَكَ، وَقُصَّ شَارِبَكَ، وَاحْلِقْ عَانَتَكَ، فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ"..
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کا دن اللہ نے اس امت کے لیے عید کا دن مقرر فرمایا ہے۔“ تو اس شخص نے کہا: اگر اپنے بچوں اور گھر والوں کے دودھ والا جانور ذبح کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دودھ والا جانور ذبح نہ کر، لیکن اپنے ناخن کاٹ، مونچھیں مونڈ لے اور زیرِ ناف بالوں کی صفائی کر، اس طرح تجھے اللہ سے مکمل قربانی کا ثواب ملے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19028]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19029
وَأَنْبَانِي أَبُو عَبْدِ اللهِ إِجَازَةً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
ابن وہب رحمہ اللہ نے اسے اپنی سند سے اسی طرح ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19029]
حدیث نمبر: 19030
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو بَدْرٍ، ثنا أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، عَنْ ⦗٤٤٣⦘ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ثَلَاثٌ هُنَّ عَلَيَّ فَرَائِضُ وَلَكُمْ تَطَوُّعٌ: النَّحْرُ، وَالْوِتْرُ، وَرَكْعَتَا الضُّحَى".
عکرمہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں میرے اوپر فرض ہیں اور تمہارے لیے نفل: قربانی کرنا، وتر پڑھنا، اور چاشت کی دو رکعت ادا کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19030]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19031
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا ابْنُ بِنْتِ السُّدِّيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَبُو يَعْلَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، وَهُوَ ابْنُ بِنْتِ السُّدِّيِّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا رَفَعَهُ قَالَ:" كُتِبَ عَلَيَّ النَّحْرُ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ". زَادَ الْأَصْبَهَانِيُّ فِي رِوَايَتِهِ:" وَأُمِرْتُ بِصَلَاةِ الضُّحَى وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا" كَذَا قَالَا عَنْ سِمَاكٍ.
عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی میرے اوپر فرض ہے جبکہ تمہارے اوپر فرض نہیں ہے۔“ اصبہانی نے اپنی روایت میں زیادہ کیا ہے کہ ”مجھے نماز چاشت کا حکم دیا گیا ہے جبکہ تمہیں حکم نہیں دیا گیا۔“ [ضعیف] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19031]