السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3817. -- باب: الذكاة بما أنهر الدم وفرى الأوداج والمذبح ولم يثرد، إلا الظفر والسن
-- باب: اس چیز سے ذبح کرنے کا بیان جو خون بہا دے، رگیں اور گلا کاٹ دے اور کچلے نہیں، سوائے ناخن اور دانت کے۔
حدیث نمبر: 19144
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا لَنَرْجُو أوْ نَخْشَى أَنْ نَلْقَى الْعَدُوَّ وَلَيْسَ مَعَنْا مُدًى أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ فَكُلُوهُ إِلَّا السِّنَّ وَالظُّفُرَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قَبِيصَةَ عَنْ سُفْيَانَ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى الْقَطَّانِ عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ہمیں امید ہے یا ہمیں دشمن سے لڑنے کا خوف ہے، ہمارے پاس چھریاں نہیں، کیا ہم سرکنڈے سے ذبح کرلیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چیز خون بہائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو کھالو لیکن دانت اور ناخن سے ذبح نہیں کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19144]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19145
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُرِّيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَجِدُ الصَّيْدَ فَلَا أَجِدُ مَا أَذْبَحُهُ بِهِ إِلَّا الْمَرْوَةَ وَالْعَصَا. قَالَ: أَمْرِرِ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ.
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! میں شکار کرتا ہوں لیکن ذبح کے لیے پتھر یا لاٹھی موجود ہوتی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خون بہا دے جس چیز سے بھی تو چاہے اور اللہ کا نام لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19145]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19146
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا حَجَّاجٌ هُوَ ابْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُرِيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَحَدَنَا إِذَا أَصَابَ صَيْدًا وَلَيْسَ مَعَهُ شَفْرَةٌ أَيُذَكِّي بِمَرْوَةٍ أَوْ شُقَّةِ الْعَصَا؟ قَالَ:" أَمْرِرِ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ".
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جب ہم شکار کریں اور ہمارے پاس ذبح کرنے کے لیے چھری موجود نہ ہو تو کیا پتھر یا لاٹھی کی ایک پھاڑ سے ذبح کیا جا سکتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خون بہاؤ جس سے چاہو اور اللہ کا نام لو، یعنی تکبیر پڑھو: «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19146]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19147
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ الْعَدَوِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ ⦗٤٧٣⦘ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَحَدَنَا يَصِيدُ الصَّيْدَ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ يُذَكِّيهِ بِهِ إِلَّا مَرْوَةٌ أَوْ شُقَّةُ عَصًا. فَقَالَ:" أَمْرِرِ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ".
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی شکار کرتا ہے، لیکن ذبح کرنے کے لیے پتھر یا لاٹھی کی ایک پھاڑ موجود ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خون بہاؤ جس سے چاہو اور اللہ کا نام لو یعنی تکبیر پڑھو «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» “۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19147]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19148
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ يُخْبِرُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّ جَارِيَةً لَهُمْ كَانَتْ تَرْعَى بِسَلْعٍ فَرَأَتْ شَاةً مِنْ غَنَمِهَا بِهَا مَوْتٌ فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ، فَقَالَ لِأَهْلِهِ: لَا تَأْكُلُوا مِنْهَا حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ أَوْ قَالَ: أُرْسِلَ إِلَيْهِ مَنْ يَسْأَلُهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ أَوْ رَسُولُهُ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ إِنَّ جَارِيَةً لَنَا كَانَتْ تَرْعَى بِسَلْعٍ فَأَبْصَرَتْ شَاةً مِنْ غَنَمِهَا بِهَا مَوْتٌ، فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَكْلِهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ.
ابن کعب بن مالک نے اپنے والد سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہوئے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بتایا کہ ان کی ایک لونڈی سلع پہاڑ پر بکریاں چراتی تھی، جب اس نے ایک بکری کو مرتے دیکھا تو پتھر توڑ کر اسے ذبح کر دیا، تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا: اتنی دیر نہ کھانا جتنی دیر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لوں، تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کسی کو پوچھنے کے لیے بھیجا، اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہماری ایک لونڈی سلع پہاڑ پر بکریاں چرا رہی تھی، جب اس نے ایک بکری کو مرتے دیکھا تو پتھر توڑ کر اسے ذبح کر ڈالا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کو کھانے کا حکم دے دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19148]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٢٣٠٤»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19149
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَعْقُوبُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَرْعَى لِقْحَةً بِشِعْبٍ مِنْ شِعَابِ أُحُدٍ فَأَخَذَهَا الْمَوْتُ، فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يَنْحَرُهَا بِهِ، فَأَخَذَ وَتِدًا فَوَجَأَ بِهِ فِي لَبَّتِهَا حَتَّى أُهْرِيقَ دَمُهَا، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا.
عطاء بن یسار رحمہ اللہ بنو حارثہ کے ایک شخص رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ احد کی پہاڑیوں میں سے کسی ایک پہاڑی پر اونٹنیاں چرا رہا تھا۔ اس نے ایک اونٹنی کو مرتے دیکھا تو نحر کے لیے کوئی چیز نہ پائی تو ایک کھونٹا پکڑ کر اونٹنی کے لبہ پر دے مارا، جس سے خون بہہ گیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آ کر بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کا حکم دے دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19149]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19150
وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ نَاقَةً كَانَتْ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي قِبَلِ أُحُدٍ فَعَرَضَ لَهَا، فَنَحَرَهَا بِوَتِدٍ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِهَا، فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، فَذَكَرَهُ. وَرَوَاهُ حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، زَادَ: فَقُلْتُ لَهُ: حَدِيدٌ؟ قَالَ: لَا، بَلْ خَشَبٌ. يَعْنِي الْوَتِدَ.
عطاء بن یسار، سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ احد پہاڑ کی جانب ایک انصاری شخص کی اونٹنی تھی، وہ مرنے لگی تو اس نے کھونٹے سے نحر کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے کھانے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھانے کی اجازت دے دی“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19150]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19151
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الذَّبِيحَةِ بِالْعُودِ، فَقَالَ: كُلُّ مَا أَفْرَى الْأَوْدَاجَ غَيْرَ مُثَرِّدٍ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَالَ أَبُو زِيَادٍ الْكِلَابِيُّ: التَّثْرِيدُ: أَنْ تُذْبَحَ الذَّبِيحَةُ بِشَيْءٍ لَا حَدَّ لَهُ فَلَا يُنْهِرَ الدَّمَ وَلَا يُسِيلُهُ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَقَوْلُهُ: مَا أَفْرَى الْأَوْدَاجَ يَعْنِي: مَا شَقَّقَهَا وَأَسَالَ مِنْهَا الدَّمَ. ⦗٤٧٤⦘ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَقَدْ تَأَوَّلَ بَعْضُ النَّاسِ هَذَا الْحَدِيثَ أَنَّ قَوْلَهُ: كُلْ مِنَ الْأَكْلِ، وَهَذَا خَطَأٌ وَلَوْ أَرَادَ مِنَ الْأَكْلِ لَوَقَعَ الْمَعْنَى عَلَى الشَّفْرَةِ؛ لِأَنَّ الشَّفْرَةَ هِيَ الَّتِي تُفْرِي، وَإِنَّمَا مَعْنَى الْحَدِيثِ أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ أَفْرَى الْأَوْدَاجَ مِنْ عُودٍ أَوْ حَجَرٍ بَعْدَ أَنْ يُفْرِيَهَا فَهُوَ ذَكِيٌّ.
عکرمہ رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ لکڑی سے ذبح کرنے کے بارے میں ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ہر وہ چیز جو رگیں کاٹ دے اور خون بہا دے لیکن ایسی چیز نہ ہو جو خون نہ بہائے۔
اور عبید کہتے ہیں: تثرید یعنی ایسا جانور جس کو ایسی چیز سے ذبح کیا جائے جو خون نہ بہائے، «مَا أَفْرَى الْأَوْدَاجَ» ”ایسی چیز جو رگیں کاٹ دے اور خون بہا دے۔“ ابو عبید کہتے ہیں: بعض لوگ کہتے ہیں اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ کھا لیں لیکن یہ درست نہیں ہے بلکہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جو چیز لکڑی یا پتھر رگوں کو کاٹ دے تو اس کو ذبح کے حکم میں مانا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19151]
اور عبید کہتے ہیں: تثرید یعنی ایسا جانور جس کو ایسی چیز سے ذبح کیا جائے جو خون نہ بہائے، «مَا أَفْرَى الْأَوْدَاجَ» ”ایسی چیز جو رگیں کاٹ دے اور خون بہا دے۔“ ابو عبید کہتے ہیں: بعض لوگ کہتے ہیں اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ کھا لیں لیکن یہ درست نہیں ہے بلکہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جو چیز لکڑی یا پتھر رگوں کو کاٹ دے تو اس کو ذبح کے حکم میں مانا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19151]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح