السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3828. -- باب: قول المضحي: اللهم منك وإليك فتقبل مني، وقول المضحي عن غيره: اللهم تقبل من فلان
-- باب: قربانی کرنے والے کا یہ کہنا: ”اے اللہ! یہ تیری ہی طرف سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے، پس تو اسے میری طرف سے قبول فرما“، اور دوسرے کی طرف سے قربانی کرنے والے کا یہ کہنا: ”اے اللہ! اسے فلاں کی طرف سے قبول فرما“۔
حدیث نمبر: 19181
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ حَمَّادٍ يَقُولُ: قَالَ السَّعْدِيُّ، وَهُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ: سُلَيْمَانُ بْنُ عِيسَى الَّذِي يَرْوِي آدَابَ سُفْيَانَ كَذَّابٌ مُصَرِّحٌ.
سعدی یعنی ابراہیم بن یعقوب جوزجانی کہتے ہیں: سلیمان بن عیسیٰ جو سفیان کے آداب روایت کرتا ہے، کھلا جھوٹا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19181]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19182
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا حَرْمَلَةُ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ⦗٤٨٢⦘ قَالَ: قَالَ حَيْوَةُ: أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ، يَطَأُ فِي سَوَادٍ، وَيَبْرُكُ فِي سَوَادٍ، وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ، فَأُتِيَ بِهِ لِيُضَحِّيَ بِهِ، قَالَ:" يَا عَائِشَةُ هَلُمِّي الْمُدْيَةَ اشْحَذِيهَا بِحَجَرٍ". فَفَعَلْتُ، ثُمَّ أَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ فَأَضْجَعَهُ ثُمَّ ذَبَحَهُ ثُمَّ قَالَ:" بِسْمِ اللهِ، اللهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ". ثُمَّ ضَحَّى بِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہ پاؤں، سیاہ پیٹ اور سیاہ آنکھوں والا سینگوں والا مینڈھا لانے کا حکم دیا، وہ قربانی کے لیے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! چھری لاؤ اور اسے پتھر پر تیز کرو۔“ میں نے ایسا ہی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی اور مینڈھے کو پکڑ کر لٹایا اور ذبح کرنے لگے، پھر فرمایا: «بِسْمِ اللّٰهِ، اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ، وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ» ”اللہ کے نام سے، اے اللہ! محمد، آلِ محمد اور امتِ محمد کی جانب سے قبول فرما۔“ پھر اس کی قربانی کر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19182]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19183
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْقَطَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: شَهِدْتُ أَضْحًى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا قَضَى خُطْبَتَهُ وَنَزَلَ عَنْ مِنْبَرِهِ أُتِيَ بِكَبْشِهِ فَذَبَحَهُ وَقَالَ:" بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں عید الاضحی کے موقع پر عید گاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ سے فارغ ہو کر منبر سے اترے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مینڈھا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ذبح کیا اور فرمایا: «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام سے اور اللہ سب سے بڑا ہے“، ”یہ میری جانب سے اور میری امت کے ان لوگوں کی جانب سے ہے جنہوں نے قربانی نہیں کی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19183]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم برقم ١٩٠٣٣»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19184
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، ثنا عِيسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: ذَبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الذَّبْحِ كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مُوجَأَيْنِ، فَلَمَّا وَجَّهَهُمَا قَالَ:" {إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ}، عَلَى مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ، وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ، بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ". ثُمَّ ذَبَحَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. لَفْظُ حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، وَفِي رِوَايَةِ الْوَهْبِيِّ: ذَبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبْشَيْنِ يَوْمَ الْعِيدِ، فَلَمَّا وَجَّهَهُمَا قَالَ: فَذَكَرَ الدُّعَاءَ، ثُمَّ قَالَ:" اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ". وَسَمَّى وَذَبَحَ. وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: وَجَّهَهُمَا إِلَى الْقِبْلَةِ حِينَ ذَبَحَ، ⦗٤٨٣⦘ وَقِيلَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَجْهٍ لَا يَثْبُتُ مِثْلُهُ أَنَّهُ ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ، فَقَالَ فِي أَحَدِهِمَا بَعْدَ ذِكْرِ اللهِ:" اللهُمَّ عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ"، وَفِي الْآخَرِ:" اللهُمَّ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّةِ مُحَمَّدٍ".
ابو عیاش، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن دو چتکبرے، سینگوں والے خصی مینڈھے ذبح کیے۔ جب ان کو قبلہ رخ کیا تو فرمایا: ” ﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ﴾ [سورة الأنعام: 79] میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی جانب متوجہ کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا، ملت ابراہیم پر یکسو ہو کر، اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔ ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] یقیناً میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے، اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ «اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ» ”اے اللہ! یہ تیری طرف سے ہے اور تیرے لیے ہے، محمد اور ان کی امت کی جانب سے۔“ «بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام سے اور اللہ سب سے بڑا ہے۔““ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح کیا۔
(ب) وہبی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن دو مینڈھے ذبح فرمائے، جب انہیں قبلہ رخ کیا تو دعا پڑھی، پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ» ”اے اللہ! یہ تیری طرف سے ہے اور تیرے لیے ہے، محمد اور ان کی امت کی جانب سے۔“ اور اللہ کا نام لے کر ذبح کیا۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی سند سے مروی ہے جس جیسی سند ثابت نہیں ہوتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھے قربان کیے، ان میں سے ایک پر اللہ کے ذکر کے بعد فرمایا: ”اے اللہ! محمد اور آلِ محمد کی جانب سے“ اور دوسرے پر فرمایا: ”اے اللہ! محمد اور امتِ محمد کی جانب سے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19184]
(ب) وہبی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن دو مینڈھے ذبح فرمائے، جب انہیں قبلہ رخ کیا تو دعا پڑھی، پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ» ”اے اللہ! یہ تیری طرف سے ہے اور تیرے لیے ہے، محمد اور ان کی امت کی جانب سے۔“ اور اللہ کا نام لے کر ذبح کیا۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی سند سے مروی ہے جس جیسی سند ثابت نہیں ہوتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھے قربان کیے، ان میں سے ایک پر اللہ کے ذکر کے بعد فرمایا: ”اے اللہ! محمد اور آلِ محمد کی جانب سے“ اور دوسرے پر فرمایا: ”اے اللہ! محمد اور امتِ محمد کی جانب سے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19184]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19185
قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا أَرَادَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنِي جَامِعُ بْنُ سَوَادَةَ، ثنا أَبُو حَازِمٍ الْحُسَيْنُ بْنُ دِينَارٍ، ثنا سُفْيَانُ، ح وأنبأ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ مُوجَأَيْنِ، فَيَبْدَأُ بِأَحَدِهِمَا فَيَقُولُ:" بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ مَنْ شَهِدَ لَكَ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لِي بِالْبَلَاغِ"، وَيَذْبَحُ الْآخَرَ وَيَقُولُ:" بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ". لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بِشْرَانَ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَانَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ضَحَّى اشْتَرَى كَبْشَيْنِ سَمِينَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مُوجَأَيْنِ، فَذَبَحَ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ مَنْ شَهِدَ لَهُ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ، وَالْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ. هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَرَوَاهُ زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَعَلَّهُ سَمِعَ مِنْ هَؤُلَاءِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَفِيمَا ذَكَرْنَا قَبْلَ حَدِيثِهِ كِفَايَةٌ.
سیدہ عائشہ یا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو سینگوں والے، خصی مینڈھے قربان کیا کرتے تھے، ایک سے شروع کرتے تو فرماتے: «بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے“، ”اے اللہ! یہ تیری ہی عطا ہے اور تیرے ہی لیے ہے، محمد اور ان کی امت کی جانب سے، جنہوں نے تیری توحید کی گواہی دی اور میرے (دین) پہنچانے کی گواہی دی۔“ اور دوسرے کو ذبح کرتے ہوئے فرماتے: «بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے“، ”اے اللہ! یہ تیری ہی عطا ہے اور تیرے ہی لیے ہے، محمد اور آلِ محمد کی جانب سے۔“
(ب) ابنِ عبدان کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کرتے تو دو موٹے تازے، سینگوں والے، چتکبرے، خصی مینڈھے خریدتے، ایک اپنی امت میں سے توحید کی گواہی دینے والوں اور (دین) پہنچانے کی گواہی دینے والوں کی جانب سے ذبح کرتے، اور دوسرا محمد اور آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19185]
(ب) ابنِ عبدان کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کرتے تو دو موٹے تازے، سینگوں والے، چتکبرے، خصی مینڈھے خریدتے، ایک اپنی امت میں سے توحید کی گواہی دینے والوں اور (دین) پہنچانے کی گواہی دینے والوں کی جانب سے ذبح کرتے، اور دوسرا محمد اور آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19185]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم برقم ١٤٠٠٩»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19186
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قُلْتُ لَهُ: قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ لَكُمْ فِيهَا ⦗٤٨٤⦘ خَيْرٌ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ} [الحج: ٣٦] قَالَ: إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَنْحَرَ الْبَدَنَةَ فَأَقِمْهَا ثُمَّ قُلِ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، ثُمَّ سَمِّ، ثُمَّ انْحَرْهَا. قَالَ: قُلْتُ: وَأَقُولُ ذَلِكَ فِي الْأُضْحِيَّةِ؟ قَالَ: وَالْأُضْحِيَّةُ.
ابو ظبیان حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں پوچھا: ﴿وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ﴾ [سورة الحج: 36] ”اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں میں سے بنایا ہے، ان میں تمہارے لیے بھلائی ہے، تو انہیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو۔“ فرمایا: جب تم اونٹ کو نحر کرنا چاہو تو اسے کھڑا کرو، پھر کہو: «اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ! یہ تیری طرف سے ہے اور تیرے لیے ہے“، پھر اللہ کا نام لو، پھر اسے نحر کر دو۔ میں نے پوچھا: کیا قربانی (اضحیہ) میں بھی یہی کہوں؟ فرمایا: قربانی میں بھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19186]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19187
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ شَرِيبٍ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ النَّحْرِ بِكَبْشٍ فَذَبَحَهُ وَقَالَ: بِسْمِ اللهِ، اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ وَمِنْ مُحَمَّدٍ لَكَ. ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَتَصَدَّقَ بِهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِكَبْشٍ آخَرَ فَذَبَحَهُ فَقَالَ: بِسْمِ اللهِ، اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، وَمِنْ عَلِيٍّ لَكَ. قَالَ: ثُمَّ قَالَ: ائْتِنِي بِطَابِقٍ مِنْهُ وَتَصَدَّقْ بِسَائِرِهِ.
عاصم بن شریب فرماتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس قربانی کے دن ایک مینڈھا لایا گیا، انہوں نے اسے ذبح کیا اور کہا: «بِسْمِ اللّٰهِ، اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ وَمِنْ مُحَمَّدٍ لَكَ» ”اللہ کے نام سے، اے اللہ! یہ تیری طرف سے ہے اور تیرے لیے ہے، اور محمد کی جانب سے تیرے لیے ہے۔“ پھر اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے صدقہ کر دیا گیا۔ پھر دوسرا مینڈھا لایا گیا تو اسے ذبح کیا اور کہا: «بِسْمِ اللّٰهِ، اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ وَمِنْ عَلِيٍّ لَكَ» ”اللہ کے نام سے، اے اللہ! یہ تیری طرف سے ہے اور تیرے لیے ہے، اور علی کی جانب سے تیرے لیے ہے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے کہا: اس میں سے ایک ٹکڑا میرے پاس لاؤ اور باقی صدقہ کر دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19187]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19188
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ حَنَشِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُضَحِّي بِكَبْشٍ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِكَبْشٍ عَنْ نَفْسِهِ، قُلْنَا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ تُضَحِّي عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ أَبَدًا؛ فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ أَبَدًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، تَفَرَّدَ بِهِ شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بِإِسْنَادِهِ وَهُوَ إِنْ ثَبَتَ يَدُلُّ عَلَى جَوَازِ التَّضْحِيَةِ عَمَّنْ خَرَجَ مِنْ دَارِ الدُّنْيَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَّا عَنِ الْحَمْلِ فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ: لَا يُضَحَّى عَمَّا فِي الْبَطْنِ.
حنش بن حارث فرماتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ایک مینڈھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے اور ایک اپنی جانب سے قربانی کرتے تھے۔ ہم نے پوچھا: اے امیر المؤمنین! آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے قربانی کرتے ہیں؟ فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہمیشہ اپنی جانب سے قربانی کرنے کا حکم دیا تھا، اس لیے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے ہمیشہ قربانی کرتا ہوں۔“
اس سند کے ساتھ اسے صرف شریک بن عبداللہ نے روایت کیا ہے۔ اگر یہ ثابت ہو تو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دنیا سے رخصت ہو جانے والے مسلمانوں کی جانب سے قربانی کرنا جائز ہے۔ رہا پیٹ کے بچے کی جانب سے قربانی کرنا، تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو پیٹ میں ہو اس کی جانب سے قربانی نہیں کی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19188]
اس سند کے ساتھ اسے صرف شریک بن عبداللہ نے روایت کیا ہے۔ اگر یہ ثابت ہو تو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دنیا سے رخصت ہو جانے والے مسلمانوں کی جانب سے قربانی کرنا جائز ہے۔ رہا پیٹ کے بچے کی جانب سے قربانی کرنا، تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو پیٹ میں ہو اس کی جانب سے قربانی نہیں کی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19188]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف