السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3831. -- باب: ما جاء في ولد الأضحية ولبنها
-- باب: قربانی کے جانور کے بچے اور اس کے دودھ کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19191
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْأَلْثَغُ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنِ الْجَهْمِ بْنِ جَارُودٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُهْدِيَ بُخْتِيَّةً لَهُ قَدْ أُعْطِيَ بِهَا ثَلَاثَمِائَةِ دِينَارٍ فَأَرَادَ أَنْ يَبِيعَهَا وَيَشْتَرِيَ بِثَمَنِهَا بُدْنًا، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْحَرَهَا وَلَا يَبِيعَهَا. كَذَا قَالَ: بُخْتِيَّةً لَهُ.
سالم بن عبداللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ایک بختی اونٹ قربانی (ہدی) کے لیے مقرر کیا گیا، جس کی تین سو دینار قیمت لگ چکی تھی۔ انہوں نے اسے فروخت کر کے اس کی قیمت سے قربانی کے اونٹ خریدنا چاہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اسی کو نحر کریں اور اسے فروخت نہ کریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19191]