السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3846. -- باب: ما يعق عن الغلام، وما يعق عن الجارية
-- باب: لڑکے اور لڑکی کی طرف سے کیا عقیقہ کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 19276
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِي، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ الْخُزَاعِيَّةِ وَهِي الْكَعْبِيَّةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْعَقِيقَةِ:" عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ، لَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَمْ إِنَاثًا". كَذَا قَالَهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِيهِ، وَذِكْرُ أَبِيهِ فِيهِ وَهْمٌ.
سیدہ ام کرز خزاعیہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عقیقہ کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا: ”بچے کی جانب سے دو ایک جیسی بکریاں اور بچی کی جانب سے ایک بکری، مذکر ہوں یا مؤنث، تمہیں کوئی نقصان نہ دے گا۔“
سفیان بن عیینہ نے اسے اسی طرح «عن أبيه» (اپنے والد سے) کہہ کر روایت کیا ہے، اور اس میں ان کے والد کا ذکر وہم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19276]
سفیان بن عیینہ نے اسے اسی طرح «عن أبيه» (اپنے والد سے) کہہ کر روایت کیا ہے، اور اس میں ان کے والد کا ذکر وہم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19276]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19277
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ:" عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مِثْلَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا هُوَ الْحَدِيثُ، وَحَدِيثُ سُفْيَانَ وَهْمٌ. قَالَ الْفَقِيهُ الْعَالِمُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرَوَاهُ الْمُزَنِيُّ فِي الْمُخْتَصَرِ عَنِ الشَّافِعِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، وَالْمُزَنِيُّ وَاهِمٌ فِيهِ فِي مَوْضِعَيْنِ، أَحَدُهُمَا أَنَّ سَائِرَ الرُّوَاةِ رَوَوْهُ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سِبَاعٍ، وَالْآخَرُ أَنَّهُمْ قَالُوا فِيهِ: سِبَاعُ بْنُ ثَابِتٍ، وَقَدْ رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ عَنِ الْمُزَنِيِّ فِي كِتَابِ السُّنَنِ فِي أَحَدِ الْمَوْضِعَيْنِ عَلَى الصَّوَابِ، كَمَا رَوَاهُ سَائِرُ النَّاسِ عَنْ سُفْيَانَ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ. ⦗٥٠٧⦘ وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ سِبَاعٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ كُرْزٍ أَخْبَرَتْهُ وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أُمِّ كُرْزٍ.
سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچے کی جانب سے ایک جیسی دو بکریاں اور بچی کی جانب سے ایک بکری۔“
ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی (صحیح) حدیث ہے اور سفیان کی حدیث وہم ہے۔ فقیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مزنی نے اسے مختصر میں امام شافعی سے، انہوں نے سفیان سے، انہوں نے عبیداللہ بن ابی یزید سے، انہوں نے سباع بن وہب سے، انہوں نے ام کرز سے روایت کیا ہے، اور مزنی کو اس میں دو جگہ وہم ہوا ہے: ایک یہ کہ باقی تمام راویوں نے اسے ابن عیینہ سے، عبیداللہ بن ابی یزید سے، ان کے والد سے، سباع سے روایت کیا ہے، اور دوسرا یہ کہ انہوں نے اس میں سباع بن ثابت کہا ہے۔ طحاوی نے اسے مزنی سے کتاب السنن میں ان دو جگہوں میں سے ایک جگہ درست روایت کیا ہے، جیسا کہ باقی سب لوگوں نے سفیان سے روایت کیا ہے، وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19277]
ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی (صحیح) حدیث ہے اور سفیان کی حدیث وہم ہے۔ فقیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مزنی نے اسے مختصر میں امام شافعی سے، انہوں نے سفیان سے، انہوں نے عبیداللہ بن ابی یزید سے، انہوں نے سباع بن وہب سے، انہوں نے ام کرز سے روایت کیا ہے، اور مزنی کو اس میں دو جگہ وہم ہوا ہے: ایک یہ کہ باقی تمام راویوں نے اسے ابن عیینہ سے، عبیداللہ بن ابی یزید سے، ان کے والد سے، سباع سے روایت کیا ہے، اور دوسرا یہ کہ انہوں نے اس میں سباع بن ثابت کہا ہے۔ طحاوی نے اسے مزنی سے کتاب السنن میں ان دو جگہوں میں سے ایک جگہ درست روایت کیا ہے، جیسا کہ باقی سب لوگوں نے سفیان سے روایت کیا ہے، وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19277]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19278
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ"..
ام کرز رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بچے کی جانب سے ایک جیسی دو بکریاں اور بچی کی جانب سے ایک بکری عقیقہ کیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19278]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19279
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ قُلْتُ يَعْنِي لِعَطَاءٍ: وَمَا الْمُكَافَأَتَانِ؟ قَالَ: الْمِثْلَانِ، وَالضَّأْنُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنَ الْمَعْزِ، وَذُكْرَانُهَا أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ إِنَاثِهَا، رَأْيٌ مِنْهُ. قَالَ إِنْسَانٌ لِعَطَاءٍ: أَرَأَيْتَ إِنْ ذَبَحْتُ مَكَانَهَا جَزُورًا؟ قَالَ: ابْدَأْ بِالَّذِي سَمَّى ثُمَّ اذْبَحْ بَعْدُ مَا شِئْتَ. قُلْتُ لَهُ: وَالسُّنَّةُ؟ قَالَ: وَالسُّنَّةُ.
ابن جریج رحمہ اللہ، عطا رحمہ اللہ سے اس حدیث کو بیان کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ «مُكَافَاتَانِ» کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”دونوں ایک جیسی ہوں“ اور بھیڑ، بکری سے زیادہ محبوب ہے اور مذکر، مؤنث سے زیادہ، یہ ان کی اپنی رائے ہے۔ عطا رحمہ اللہ سے کسی نے کہا کہ اگر میں اس کی جگہ اونٹ ذبح کر دوں؟ تو انہوں نے فرمایا: اس سے ابتدا کر جس کا نام لیا گیا ہے، اس کے بعد جو تیرا دل چاہے، میں نے ان سے کہا: کیا یہ سنت طریقہ ہے؟ فرمانے لگے: ہاں، یہ سنت طریقہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19279]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19280
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَرْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ: نُفِسَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ غُلَامٌ فَقِيلَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عُقِّي عَلَيْهِ، أَوْ قَالَ: عَنْهُ جَزُورًا، فَقَالَتْ: مَعَاذَ اللهِ وَلَكِنْ مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ".
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے گھر بچہ پیدا ہوا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا: ”اے مومنوں کی ماں! اس بچے کی جانب سے اونٹ کا عقیقہ کریں۔“ انہوں نے فرمایا: «مَعَاذَ اللّٰهِ» ”اللہ کی پناہ! لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ”دو ایک جیسی بکریاں“ ذبح کرنے کا فرمایا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19280]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بدون القصة»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19281
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ أَبُو إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَأَخْبَرَتْنَا، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكْفَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچے کی جانب سے دو ایک جیسی بکریاں اور بچی کی جانب سے ایک بکری عقیقہ کیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19281]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19282
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أنبأ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا أَبُو حَفْصٍ سَالِمُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْيَهُودَ تَعُقُّ عَنِ الْغُلَامِ وَلَا تَعُقُّ عَنِ الْجَارِيَةِ، فَعُقُّوا عَنِ الْغُلَامِ شَاتَيْنِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةً".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود بچے کی جانب سے عقیقہ کرتے ہیں جبکہ بچی کا عقیقہ نہیں کرتے۔ تم بچے کی جانب سے دو بکریاں اور بچی کی جانب سے ایک بکری عقیقہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19282]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف