السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3872. -- باب: ما روي في القنفذ وحشرات الأرض
-- باب: ساہی اور زمین کے حشرات (کیڑے مکوڑوں) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19431
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو ثَوْرٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الْكَبِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ تُمَيْلَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَسُئِلَ عَنْ أَكْلِ الْقُنْفُذِ، فَتَلَا: {قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلِيَّ مُحَرَّمًا} [الأنعام: ١٤٥] ، الْآيَةَ، قَالَ شَيْخٌ عِنْدَهُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" خَبِيثَةٌ مِنَ الْخَبَائِثِ". فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: إِنْ كَانَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا فَهُوَ كَمَا قَالَ. هَذَا حَدِيثٌ لَمْ يُرْوَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَهُوَ إِسْنَادٌ فِيهِ ضَعْفٌ.
عیسیٰ بن نمیلہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سیہ کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے یہ آیت تلاوت کی ﴿قُلْ لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا﴾ [سورة الأنعام: 145] ان کے پاس موجود ایک بزرگ نے کہا: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا تذکرہ ہوا تو فرمایا: ”یہ خبیث چیزوں میں سے ہے۔“ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے تو وہ ایسا ہی ہے جیسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
یہ حدیث صرف اسی سند سے مروی ہے، اور اس سند میں ضعف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19431]
یہ حدیث صرف اسی سند سے مروی ہے، اور اس سند میں ضعف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19431]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19432
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا ⦗٥٤٨⦘ أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا عَوْفٌ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: جَاءَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ بِضَبٍّ وَقُنْفُذٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَتْهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَنَحَّاهُ وَلَمْ يَأْكُلْ. هَذَا مُرْسَلٌ، وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ جَعْفَرٍ أَبِي بِشْرٍ مَوْصُولًا دُونَ ذِكْرِ الْقُنْفُذِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ مَوْصُولًا دُونَ ذِكْرِ الْقُنْفُذِ، ثُمَّ هَذَا إِنْ صَحَّ لَمْ يَدُلَّ عَلَى التَّحْرِيمِ، وَكَأَنَّهُ عَافَهُ كَمَا عَافَ الضَّبَّ.
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام حفید رضی اللہ عنہا گوہ اور سیہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آگے سے ہٹا دیا، کھایا نہیں۔
یہ روایت مرسل ہے، اور یہ موصول سند سے بھی مروی ہے لیکن اس میں سیہ کا ذکر نہیں۔ اگر یہ حدیث صحیح بھی ہو تو حرمت پر دلالت نہیں کرتی، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی ایسے ہی ناپسند کیا جیسے گوہ کو ناپسند کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19432]
یہ روایت مرسل ہے، اور یہ موصول سند سے بھی مروی ہے لیکن اس میں سیہ کا ذکر نہیں۔ اگر یہ حدیث صحیح بھی ہو تو حرمت پر دلالت نہیں کرتی، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی ایسے ہی ناپسند کیا جیسے گوہ کو ناپسند کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19432]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19433
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا غَالِبُ بْنُ حُجْرَةَ، حَدَّثَنِي مِلْقَامُ بْنُ تَلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَحِبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَسْمَعْ لِحَشَرَةِ الْأَرْضِ تَحْرِيمًا. وَهَذَا إِنْ صَحَّ لَمْ يَدُلَّ عَلَى الْإِبَاحَةِ، وَمَا لَمْ يَسْمَعْهُ وَسَمِعَهُ غَيْرُهُ فَالْحُكْمُ لِلسَّامِعِ دُونَهُ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَلَّ عَلَى تَحْرِيمِ الْعَقْرَبِ وَالْحَيَّةِ، فَكَذَلِكَ مَا فِي مَعْنَاهُمَا مِمَّا يَسْتَخْبِثُهُ الْعَرَبُ وَلَا تَأْكُلُهُ فِي غَيْرِ الضَّرُورَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
ملقام بن تلب اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے حشرات الارض کی حرمت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا۔ اگر یہ صحیح بھی ہو تب بھی ان کی اباحت پر دلالت نہیں کرتا، لیکن سانپ اور بچھو کی حرمت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے اور عرب بھی بغیر ضرورت کے ان کا استعمال نہ کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19433]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف