السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3884. -- باب: ما جاء في وقت الحجامة
-- باب: پچھنے لگانے کے وقت کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19535
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ احْتَجَمَ لِسَبْعَ عَشْرَةَ وَتِسْعَ عَشْرَةَ وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ كَانَ شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سترہ، انیس اور اکیس تاریخ کو سینگی لگوائی تو اسے ہر بیماری سے شفا مل جائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19535]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19536
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَيْرُ مَا تَحْتَجِمُونَ فِيهِ سَبْعَ عَشْرَةَ وَتِسْعَ عَشْرَةَ وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ". وَرَوَاهُ أَيْضًا الزُّهْرِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین تاریخیں سترہ، انیس اور اکیس ہیں جس میں سینگی لگوائی جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19536]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19537
وَرَوَى سَلَّامُ بْنُ سَلْمٍ الطَّوِيلُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ احْتَجَمَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ لِسَبْعَ عَشْرَةَ مِنَ الشَّهْرِ كَانَ دَوَاءً لَدَاءِ السَّنَةِ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا سَلَّامٌ الطَّوِيلُ فَذَكَرَهُ.
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جس نے منگل کے دن سترہ تاریخ کو سینگی لگوائی اس کے لیے سال کی بیماریوں سے دوا بن جائے گی۔“
اس کے راوی سلام بن سلم طویل متروک ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19537]
اس کے راوی سلام بن سلم طویل متروک ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19537]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19538
وَرُوِيَ عَنْ زَيْدٍ، كَمَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَنَسٍ، رَفَعَهُ، قَالَ:" مَنِ احْتَجَمَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ لِسَبْعَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنَ الشَّهْرِ أَخْرَجَ اللهُ مِنْهُ دَاءَ سَنَةٍ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں کہ: ”جس نے منگل کے دن سترہ تاریخ کو سینگی لگوائی، اللہ تعالیٰ اس سے سال کی بیماریاں ختم کر دیتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19538]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19539
ورَوَاهُ أَبُو جُرَيٍّ نَصْرُ بْنُ طَرِيفٍ بِإِسْنَادَيْنِ لَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا، وَهُوَ مَتْرُوكٌ لَا يَنْبَغِي ذِكْرُهُ، أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ قَالَ: وَحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السِّيرَافِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ الْمِنْقَرِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ أَبُو سَلَمَةَ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخْبَرَتْنِي عَمَّتِي وَهِيَ كَبْشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ أَبَاهَا كَانَ يَنْهَى أَهْلَهُ عَنِ الْحِجَامَةِ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، وَيَزْعُمُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ يَوْمُ الدَّمِ وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يَرْقَأُ. لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ، وَرِوَايَةُ ابْنِ عَبْدَانَ بِمَعْنَاهُ. النَّهْيُ الَّذِي فِيهِ مَوْقُوفٌ غَيْرُ مَرْفُوعٍ وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَاللهُ أَعْلَمُ.
کبشہ بنت ابی بکرہ رحمہا اللہ کے والد (سیدنا ابی بکرہ رضی اللہ عنہ) اپنے گھر والوں کو منگل کے دن سینگی لگوانے سے منع فرماتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ان کا یہ گمان تھا کہ منگل کا دن خون کا دن ہے اور اس دن ایک ایسی گھڑی ہے جس میں خون بند نہیں ہوتا۔
اس میں جو ممانعت ہے وہ موقوف ہے، مرفوع نہیں، اور اس کی سند قوی نہیں ہے۔ ابو جری نصر بن طریف نے اسے اپنی دو سندوں سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے، لیکن وہ متروک ہے، اس کا ذکر مناسب نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19539]
اس میں جو ممانعت ہے وہ موقوف ہے، مرفوع نہیں، اور اس کی سند قوی نہیں ہے۔ ابو جری نصر بن طریف نے اسے اپنی دو سندوں سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے، لیکن وہ متروک ہے، اس کا ذکر مناسب نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19539]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19540
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ ⦗٥٧٣⦘ أَيُّوبَ بْنِ مَاسِيٍّ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ الْكَجِّيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ احْتَجَمَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ وَيَوْمَ السَّبْتِ فَرَأَى وَضَحًا فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ". سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ ضَعِيفٌ، وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ سَمْعَانَ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الزُّهْرِيِّ كَذَلِكَ أَيْضًا مَوْصُولًا، وَهُوَ أَيْضًا ضَعِيفٌ، وَرُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الصَّلْتِ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا، وَهُوَ أَيْضًا ضَعِيفٌ، وَالْمَحْفُوظُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْقَطِعًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بدھ اور ہفتہ کے دن سینگی لگوائی جس کی وجہ سے اسے پھل بہری کی بیماری لاحق ہوگئی تو وہ اپنے سوا کسی اور کو ملامت نہ کرے۔“
سلیمان بن ارقم ضعیف ہے۔ ابن سمعان اور سلیمان بن یزید نے بھی زہری سے اسی طرح موصولاً روایت کیا ہے اور وہ بھی ضعیف ہے، اور حسن بن صلت نے ابن مسیب کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور وہ بھی ضعیف ہے۔ زہری سے محفوظ روایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقطع ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19540]
سلیمان بن ارقم ضعیف ہے۔ ابن سمعان اور سلیمان بن یزید نے بھی زہری سے اسی طرح موصولاً روایت کیا ہے اور وہ بھی ضعیف ہے، اور حسن بن صلت نے ابن مسیب کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور وہ بھی ضعیف ہے۔ زہری سے محفوظ روایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقطع ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19540]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 19541
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ بْنِ سَهْلٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَمَّادٍ الْآمُلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يَحْتَجِمُ فِيهَا مُحْتَجِمٌ إِلَّا عَرَضَ لَهُ دَاءٌ لَا يُشْفَى مِنْهُ". عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ ضَعِيفٌ، وَرَوَى يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ الرَّازِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ بِإِسْنَادٍ لَهُ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ فِيهِ حَدِيثًا مَرْفُوعًا وَلَيْسَ بِشَيْءٍ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی ہے کہ اس میں جو بھی سینگی لگواتا ہے اسے ایسی بیماری لاحق ہو جاتی ہے جس سے وہ شفا نہیں پاتا۔“
عطاف بن خالد ضعیف ہے، اور یحییٰ بن علاء رازی نے، جو متروک ہے، اپنی ایک سند سے حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں ایک مرفوع حدیث روایت کی ہے، اور وہ کچھ بھی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19541]
عطاف بن خالد ضعیف ہے، اور یحییٰ بن علاء رازی نے، جو متروک ہے، اپنی ایک سند سے حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں ایک مرفوع حدیث روایت کی ہے، اور وہ کچھ بھی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19541]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف