السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3894. -- باب: الاستغسال للمعين
-- باب: جسے نظر لگی ہو اس کے لیے نظر لگانے والے سے غسل کا پانی مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19614
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ح. قَالَ: وَأنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، قَالَا: ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْعَيْنُ حَقٌّ، وَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابِقَ الْقَدَرِ سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ، وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيِّ، وَحَجَّاجِ بْنِ الشَّاعِرِ، وَأَحْمَدَ بْنِ خِرَاشٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ” «الْعَيْنُ حَقٌّ» ”نظر حق ہے،“ اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت لے جاتی تو وہ نظر ہوتی اور جب تم سے غسل کا مطالبہ کیا جائے تو غسل کر دیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19614]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ٢١٨٨»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19615
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ يُؤْمَرُ الْعَائِنُ فَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ الْمَعِينُ.
اسود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ”نظر لگانے والے کو وضو کا حکم دیا جائے گا اور اس پانی سے نظر لگنے والے انسان کو غسل کرایا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19615]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19616
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: مَرَّ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَلَى سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ وَهُوَ يَغْتَسِلُ فَقَالَ: لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ، فَمَا لَبِثَ أَنْ لُبِطَ بِهِ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ: أَدْرِكْ سَهْلًا صَرِيعًا. فَقَالَ:" مَنْ تَتَّهِمُونَ بِهِ؟" قَالُوا: عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ. فَقَالَ:" عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ؟ إِذَا رَأَى مَا يُعْجِبُهُ فَلْيَدْعُ بِالْبَرَكَةِ". وَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ وَيَغْسِلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى مِرْفَقَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَدَاخِلَةَ إِزَارِهِ وَيَصُبَّ الْمَاءَ عَلَيْهِ. قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَيَكْفَأُ الْإِنَاءَ مِنْ خَلْفِهِ. قَالَ سُفْيَانُ: حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ مَعْمَرٌ وَزَادَ فِيهِ هَذَا..
سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ، سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کے غسل کرنے کے موقع پر ان کے پاس سے گزرے، انہوں نے کہا: میں نے آج تک پوشیدہ رہنے والی لڑکی کا جسم بھی ایسا نہیں دیکھا۔ اتنی بات سے سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ زمین پر گر پڑے۔ انہیں اٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اور عرض کیا گیا کہ سہل اچانک گرا دیے گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم کس کو (اس کا) ملزم ٹھہراتے ہو؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ عامر بن ربیعہ گزرے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اپنے بھائی کو قتل کرو گے؟ جب کوئی اچھی چیز دیکھے تو اس کے لیے برکت کی دعا کیوں نہ کرے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کو وضو کا حکم دیا کہ وہ اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئیں اور پاؤں گھٹنوں تک اور چادر کا اندرونی حصہ دھو کر سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ پر پانی ڈالا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19616]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19617
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، فَذَكَرَ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَدَعَا عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ وَقَالَ لَهُ: عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، أَلَا تُبَرِّكُ؟ اغْتَسِلْ لَهُ". فَاغْتَسَلَ لَهُ عَامِرٌ فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ الرَّكْبِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: الْغُسْلُ الَّذِي أَدْرَكْنَا عُلَمَاءَنَا يَصِفُونَهُ أَنْ يُؤْتَى الرَّجُلُ الَّذِي يُعِينُ صَاحِبَهُ بِالْقَدَحِ فِيهِ الْمَاءُ فَيُمْسَكُ لَهُ مَرْفُوعًا مِنَ الْأَرْضِ فَيُدْخِلُ الَّذِي يُعِينُ صَاحِبَهُ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْمَاءِ فَيَصُبُّ عَلَى وَجْهِهِ صَبَّةً وَاحِدَةً فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ فَيُمَضْمِضُ، ⦗٥٩٢⦘ ثُمَّ يَمُجُّهُ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى فَيَغْتَرِفُ مِنَ الْمَاءِ فَيَصُبُّهُ فِي الْمَاءِ، فَيَغْسِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ بِيَدِهِ الْيُسْرَى صَبَّةً وَاحِدَةً فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَيْهِ جَمِيعًا فِي الْمَاءِ صَبَّةً وَاحِدَةً فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ فَيُمَضْمِضُ ثُمَّ يَمُجُّهُ فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى فَيَغْتَرِفُ مِنَ الْمَاءِ فَيَصُبُّهُ عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُمْنَى صَبَّةً وَاحِدَةً فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى فَيَصُبُّ عَلَى مِرْفَقِ يَدِهِ الْيُمْنَى صَبَّةً وَاحِدَةً فِي الْقَدَحِ وَهُوَ ثَانٍ يَدَهُ إِلَى عُنُقِهِ، ثُمَّ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي مِرْفَقِ يَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي ظَهْرِ قَدَمِهِ الْيُمْنَى مِنْ عِنْدِ الْأَصَابِعِ وَالْيُسْرَى كَذَلِكَ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى فَيَصُبُّ عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَفْعَلُ بِالْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَغْمِسُ دَاخِلَةَ إِزَارِهِ الْيُمْنَى فِي الْمَاءِ ثُمَّ يَقُومُ الَّذِي فِي يَدِهِ الْقَدَحُ بِالْقَدَحِ فَيَصُبُّهُ عَلَى رَأْسِ الْمَعْيُونِ مِنْ وَرَائِهِ، ثُمَّ يَكْفَأُ الْقَدَحَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مِنْ وَرَائِهِ. وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَقَالَ: يُؤْتَى الرَّجُلُ الْعَائِنُ بِقَدَحٍ فَيُدْخِلُ كَفَّهُ فِيهِ فَيَتَمَضْمَضُ ثُمَّ يَمُجُّهُ فِي الْقَدَحِ ثُمَّ يَغْسِلُ وَجْهَهُ فِي الْقَدَحِ ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى فَيَصُبُّ عَلَى كَفِّهِ الْيمْنَى، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى فَيَصُبُّ عَلَى كَفِّهِ الْيُسْرَى ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى فَيَصُبُّ عَلَى مِرْفَقِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يُدْخِلُ الْيُمْنَى فَيَصُبُّ عَلَى مِرْفَقِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى فَيَصُبُّ عَلَى قَدَمِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيمْنَى فَيَصُبُّ عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى فَيَصُبُّ عَلَى رُكْبَتِهِ الْيمْنَى، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى فَيَصُبُّ عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى فَيَصُبُّ عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ يَغْسِلُ دَاخِلَةَ إِزَارِهِ، وَلَا يُوضَعُ الْقَدَحُ بِالْأَرْضِ، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِ الرَّجُلِ الَّذِي أُصِيبَ بِالْعَيْنِ مِنْ خَلْفِهِ صَبَّةً وَاحِدَةً. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ إِنَّمَا أَرَادَ بِدَاخِلَةِ إِزَارِهِ طَرَفَ إِزَارِهِ الدَّاخِلَ الَّذِي يَلِي جَسَدَهُ. وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، زَادَ فِيهِ: ثُمَّ يُعْطِي ذَلِكَ الرَّجُلَ الَّذِي أَصَابَهُ الْقَدَحَ قَبْلَ أَنْ يَضَعَهُ فِي الْأَرْضِ فَيَحْسُو مِنْهُ وَيَتَمَضْمَضُ وَيُهَرِيقُ عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ يُكْفِئُ الْقَدَحَ عَلَى ظَهْرِهِ.
ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے اس کی مثل حدیث ذکر کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کو بلا کر ڈانٹا اور فرمایا: ”کیا تو اپنے بھائی کو قتل کرے گا؟“ فرمایا: ”غسل کر کے پانی مہیا کرو۔“ تو عامر رضی اللہ عنہ نے غسل کر کے پانی سہل رضی اللہ عنہ پر چھڑکا تو وہ قافلے کے ساتھ چل پڑے۔
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس کی نظر لگ جائے اس سے غسل کروانے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک شخص پیالہ پکڑ کر کھڑا ہو جائے تو نظر لگانے والا شخص اپنے دائیں ہاتھ سے پانی لے کر اسی پیالے میں اپنا ایک مرتبہ چہرہ دھوئے، پھر اپنا بایاں ہاتھ پانی میں داخل کر کے اپنا دایاں ہاتھ کہنی تک اپنے بائیں ہاتھ کے ساتھ پیالے میں دھوئے، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے پیالے سے پانی لے کر بایاں ہاتھ کہنی تک پیالے میں دھوئے، پھر اپنے دونوں ہاتھ پیالے میں ایک بار داخل کرے، پھر اپنے ہاتھ سے کلی کر کے پیالے میں ڈال دے، پھر الٹے ہاتھ سے پانی کا چلو لے کر دائیں ہاتھ کی الٹی جانب ڈال کر پانی پیالے میں داخل کر دے، پھر اپنا بایاں ہاتھ پیالے میں داخل کر کے پانی دائیں ہاتھ کی کہنی تک ڈالتے ہوئے پیالے میں داخل کرے اور پھر اپنے دوسرے ہاتھ کو گردن تک دھوئے، پھر اسی طرح اپنے الٹے ہاتھ کے ساتھ کرے، پھر اپنے دائیں پاؤں کے اوپر والا حصہ انگلیوں کے نزدیک سے دھوئے اور الٹے پاؤں کے ساتھ بھی ایسے کرے، پھر وہ اپنا بایاں ہاتھ پیالے میں داخل کر کے پانی بائیں گھٹنے پر ڈالے، پھر اس طرح بائیں گھٹنے کے ساتھ کیا جائے، پھر چادر کی دائیں جانب پانی میں ڈال کر نکال لی جائے، پھر وہ شخص پیالہ لے کر نظر لگے ہوئے شخص کی پچھلی جانب سے اس کے چہرے اور سر پر پانی ڈالے۔
(ب) ابن ابی ذئب رحمہ اللہ، زہری رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نظر لگانے والے شخص کو پیالہ لانے کا حکم دیا جائے تو وہ اپنے دائیں ہاتھ سے پانی لے کر اس میں کلی کرے اور اپنا چہرہ دھوئے، پھر الٹے ہاتھ سے پانی لے کر دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر ڈالے، پھر دائیں ہاتھ سے پانی لے کر الٹے ہاتھ کی ہتھیلی پر ڈالے، پھر الٹے ہاتھ سے پانی لے کر دائیں ہاتھ کی کہنی پر ڈالے، پھر دائیں ہاتھ سے پانی لے کر الٹے پاؤں پر ڈالے، پھر سیدھے اور الٹے ہاتھ سے پانی لے کر دایاں اور بایاں گھٹنا دھوئے اور پھر پیالے میں چادر کے ایک کنارے کو دھویا جائے اور پیالہ زمین پر نہ رکھیں، پھر نظر لگے ہوئے شخص پر انڈیل دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19617]
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس کی نظر لگ جائے اس سے غسل کروانے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک شخص پیالہ پکڑ کر کھڑا ہو جائے تو نظر لگانے والا شخص اپنے دائیں ہاتھ سے پانی لے کر اسی پیالے میں اپنا ایک مرتبہ چہرہ دھوئے، پھر اپنا بایاں ہاتھ پانی میں داخل کر کے اپنا دایاں ہاتھ کہنی تک اپنے بائیں ہاتھ کے ساتھ پیالے میں دھوئے، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے پیالے سے پانی لے کر بایاں ہاتھ کہنی تک پیالے میں دھوئے، پھر اپنے دونوں ہاتھ پیالے میں ایک بار داخل کرے، پھر اپنے ہاتھ سے کلی کر کے پیالے میں ڈال دے، پھر الٹے ہاتھ سے پانی کا چلو لے کر دائیں ہاتھ کی الٹی جانب ڈال کر پانی پیالے میں داخل کر دے، پھر اپنا بایاں ہاتھ پیالے میں داخل کر کے پانی دائیں ہاتھ کی کہنی تک ڈالتے ہوئے پیالے میں داخل کرے اور پھر اپنے دوسرے ہاتھ کو گردن تک دھوئے، پھر اسی طرح اپنے الٹے ہاتھ کے ساتھ کرے، پھر اپنے دائیں پاؤں کے اوپر والا حصہ انگلیوں کے نزدیک سے دھوئے اور الٹے پاؤں کے ساتھ بھی ایسے کرے، پھر وہ اپنا بایاں ہاتھ پیالے میں داخل کر کے پانی بائیں گھٹنے پر ڈالے، پھر اس طرح بائیں گھٹنے کے ساتھ کیا جائے، پھر چادر کی دائیں جانب پانی میں ڈال کر نکال لی جائے، پھر وہ شخص پیالہ لے کر نظر لگے ہوئے شخص کی پچھلی جانب سے اس کے چہرے اور سر پر پانی ڈالے۔
(ب) ابن ابی ذئب رحمہ اللہ، زہری رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نظر لگانے والے شخص کو پیالہ لانے کا حکم دیا جائے تو وہ اپنے دائیں ہاتھ سے پانی لے کر اس میں کلی کرے اور اپنا چہرہ دھوئے، پھر الٹے ہاتھ سے پانی لے کر دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر ڈالے، پھر دائیں ہاتھ سے پانی لے کر الٹے ہاتھ کی ہتھیلی پر ڈالے، پھر الٹے ہاتھ سے پانی لے کر دائیں ہاتھ کی کہنی پر ڈالے، پھر دائیں ہاتھ سے پانی لے کر الٹے پاؤں پر ڈالے، پھر سیدھے اور الٹے ہاتھ سے پانی لے کر دایاں اور بایاں گھٹنا دھوئے اور پھر پیالے میں چادر کے ایک کنارے کو دھویا جائے اور پیالہ زمین پر نہ رکھیں، پھر نظر لگے ہوئے شخص پر انڈیل دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19617]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح