🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3903. -- باب: ما جاء فيمن مر بحائط إنسان أو ماشيته
-- باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جو کسی کے باغ یا اس کے مویشیوں کے پاس سے گزرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19648
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: مَنْ مَرَّ لِرَجُلٍ بِزَرْعٍ أَوْ مَاشِيَةٍ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ مِنْ مَالِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ أَخْذُ شَيْءٍ مِنْهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ؛ لِأَنَّ هَذَا مِمَّا لَمْ يَأْتِ فِيهِ كِتَابٌ وَلَا سُنَّةٌ ثَابِتَةٌ بِإِبَاحَتِهِ، فَهُوَ مَمْنُوعٌ لِمَالِكِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ: وَقَدْ قِيلَ: مَنْ مَرَّ بِحَائِطٍ فَلْيَأْكُلْ وَلَا يَتَّخِذْ خُبْنَةً. وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ لَوْ كَانَ يَثْبُتُ مِثْلُهُ عِنْدَنَا لَمْ نُخَالِفْهُ، وَالْكِتَابُ وَالْحَدِيثُ الثَّابِتُ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ أَكْلُ مَالِ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ. قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا قَائِلُ هَذَا الْقَوْلِ فَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب کوئی کسی آدمی کی کھیتی، باغ، پھل یا مویشیوں کے پاس سے گزرے تو بغیر اجازت کے کچھ نہ لے۔ کیونکہ اس کے جائز ہونے کے بارے میں نہ قرآن میں کچھ آیا ہے اور نہ کوئی ثابت سنت۔ صرف مالک کی اجازت سے ممکن ہے، واللہ اعلم۔ فرماتے ہیں: یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو باغ کے پاس سے گزرے وہ کھا لے، لیکن جھولی بھر کر نہ لے جائے۔ اس بارے میں ایک حدیث بھی روایت کی گئی ہے، اگر اس جیسی حدیث ہمارے نزدیک ثابت ہوتی تو ہم اس کی مخالفت نہ کرتے، لیکن قرآن اور ثابت حدیث یہ بتاتے ہیں کہ کسی کا مال اس کی اجازت کے بغیر کھانا جائز نہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ بات کہنے والے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19648]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19649
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: مَنْ مَرَّ مِنْكُمْ بِحَائِطٍ فَلْيَأْكُلْ فِي بَطْنِهِ وَلَا يَتَّخِذْ خُبْنَةً.
ابو عیاض سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جو باغ سے گزرے اپنا پیٹ بھرے لیکن جھولی بھر کر نہ لے جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19649]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19650
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَأَمِّرُوا عَلَيْكُمْ وَاحِدًا مِنْكُمْ، فَإِذَا مَرَرْتُمْ بِرَاعِي الْإِبِلِ فَنَادُوا: يَا رَاعِيَ الْإِبِلِ، فَإِنْ أَجَابَكُمْ فَاسْتَسْقُوهُ، وَإِنْ لَمْ يُجِبْكُمْ فَأْتُوهَا فُحُلُّوهَا وَاشْرَبُوا ثُمَّ صُرُّوهَا. ⦗٦٠٣⦘ هَذَا عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَحِيحٌ بِإِسْنَادَيْهِ جَمِيعًا، وَهُوَ عِنْدَنَا مَحْمُولٌ عَلَى حَالِ الضَّرُورَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
زید بن وہب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تم تین ہو تو ایک کو امیر مقرر کر لیا کرو اور جب تم اونٹوں کے چرواہے کے پاس سے گزرو تو آواز دیا کرو: اے اونٹوں کے چرواہے! اگر وہ تمہاری آواز سن کر آ جائے تو دودھ پینے کا مطالبہ کر دو، وگرنہ دودھ دوہ کر پی لو اور اونٹنی کے تھن پھر بند کر دو، لیکن یہ بوقتِ ضرورت ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ روایت دونوں سندوں کے ساتھ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19650]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19651
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي رُوِيَ فَفِيمَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ دَخَلَ حَائِطًا فَلْيَأْكُلْ وَلَا يَتَّخِذْ خُبْنَةً". أَخْبَرَنَاهُ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَّازُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ فَذَكَرَهُ..
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں: ”جو شخص باغ میں داخل ہو، پھل توڑ کر کھا لے، لیکن جھولی بھر کر نہ لے جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19651]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19652
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ، قَالَ: وَذُكِرَ لِأَبِي زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، فِي الرَّجُلِ يَمُرُّ بِالْحَائِطِ فَيَأْكُلُ مِنْهُ، قَالَ: هَذَا غَلَطٌ. وَقَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ يَرْوِي أَحَادِيثَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ يَهِمُ فِيهَا. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ لَيْسَتْ بِقَوِيَّةٍ.
ابو زکریا یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کے سامنے یحییٰ بن سلیم طائفی کی وہ حدیث ذکر کی گئی جو وہ عبیداللہ سے ایسے شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو باغ کے پاس سے گزرتا ہے اور اس میں سے کھا لیتا ہے، تو انہوں نے فرمایا: ”یہ غلط ہے۔“ امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل (بخاری) رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یحییٰ بن سلیم، عبیداللہ سے ایسی احادیث روایت کرتے ہیں جن میں انہیں وہم ہو جاتا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی مروی ہے جو قوی نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19652]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ لابن معين»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19653
فَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ الضَّالَّةِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ: ثُمَّ سَأَلَهُ عَنِ الثِّمَارِ يُصِيبُهُ الرَّجُلُ، قَالَ:" مَا أَخَذَ فِي أَكْمَامِهِ - يَعْنِي رُءُوسَ النَّخْلِ - فَاحْتَمَلَهُ فَثَمَنُهُ وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَضَرْبٌ نَكَالٌ، وَمَا كَانَ فِي أَجْرَانِهِ فَأَخَذَ فَفِيهِ الْقَطْعُ إِذَا بَلَغَ ذَلِكَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ، وَإِنْ أَكَلَ بِفِيهِ وَلَمْ يَأْخُذْ فَيَتَّخِذْ خُبْنَةً فَلَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ". وَهَذَا إِنْ صَحَّ فَمَحْمُولٌ عَلَى أَنْ لَيْسَ عَلَيْهِ فِيهِ قَطْعٌ حِينَ لَمْ يُخْرِجْهُ مِنَ الْحِرْزِ.
مزینہ قبیلے کے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا جو باغ کے پھل توڑ لیتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کھجور سے توڑ کر ساتھ لے لیا تو اس کی قیمت اور اتنی ہی مزید ادا کرنا ہوگی اور عبرت ناک سزا دینا ہوگی۔ جس نے ڈھیر سے اٹھا لیا، اگر وہ ڈھال کی قیمت جتنا ہوا تو ہاتھ کاٹا جائے گا، لیکن اگر اس نے صرف کھایا، ساتھ نہیں لیا اس پر کوئی حد نہیں۔“
شیخ فرماتے ہیں: اگر یہ حدیث صحیح ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں، کیونکہ اس نے پھل کو محفوظ جگہ سے نہیں نکالا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19653]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19654
وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّقَّامُ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى مَاشِيَةٍ فَإِنْ كَانَ فِيهَا صَاحِبُهَا فَلْيَسْتَأْذِنْهُ، فَإِنْ أَذِنَ لَهُ فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا فَلْيُصَوِّتْ ثَلَاثًا، فَإِنْ أَجَابَهُ فَلْيَسْتَأْذِنْهُ، وَإِلَّا فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلَا يَحْمِلْ. قَالَ الشَّيْخُ: أَحَادِيثُ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ لَا يُثْبِتُهَا بَعْضُ الْحُفَّاظِ، وَيَزْعُمُ أَنَّهَا مِنْ ⦗٦٠٤⦘ كِتَابٍ غَيْرَ حَدِيثِ الْعَقِيقَةِ الَّذِي قَدْ ذُكِرَ فِيهِ السَّمَاعُ، وَإِنْ صَحَّ فَهُوَ مَحْمُولٌ عَلَى حَالِ الضَّرُورَةِ.
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جانور کے پاس آؤ، وہاں ان کا مالک ہو تو اجازت لے کر دودھ دوہ کر پی لو۔ اگر مالک نہ ہو تو تین آوازیں لگاؤ۔ اگر مالک آجائے تو اجازت لے لو، وگرنہ دودھ دوہ کر پی لو، ساتھ نہ لے جاؤ۔“
شیخ فرماتے ہیں: حسن کی سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ احادیث کو بعض حفاظ ثابت نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ یہ ایک کتاب سے لی گئی ہیں، سوائے عقیقہ والی حدیث کے جس میں سماع کا ذکر ہے۔ اگر یہ حدیث صحیح ہو تب یہ بوقتِ ضرورت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19654]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19655
وَمِنْهَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى رَاعٍ فَلْيُنَادِ: يَا رَاعِيَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا، فَإِنْ أَجَابَهُ وَإِلَّا فَلْيَحْلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلَا يَحْمِلَنَّ، وَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى حَائِطٍ فَلْيُنَادِ ثَلَاثًا: يَا صَاحِبَ الْحَائِطِ، فَإِنْ أَجَابَهُ وَإِلَّا فَلْيَأْكُلْ وَلَا يَحْمِلَنَّ". تَفَرَّدَ بِهِ سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيُّ وَهُوَ مِنَ الثِّقَاتِ إِلَّا أَنَّهُ اخْتَلَطَ فِي آخِرِ عُمْرِهِ، وَسَمَاعُ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ عَنْهُ بَعْدَ اخْتِلَاطِهِ. وَرَوَاهُ أَيْضًا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخِلَافِ ذَلِكَ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اونٹوں کے چرواہوں کے پاس آؤ تو تین آوازیں دو، اگر کوئی جواب ملے تو درست، وگرنہ دوہ لو، پی لو اور ساتھ نہ لے جاؤ؛ اور جب تم کسی کے باغ میں آؤ تو تین آوازیں لگا لیا کرو، اگر جواب مل جائے تو درست ہے، وگرنہ باغ کا پھل کھا لینے کی اجازت ہے، لیکن ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں سعید بن ایاس جریری منفرد ہیں، وہ ثقہ راویوں میں سے ہیں مگر آخری عمر میں ان کا حافظہ خلط ملط ہو گیا تھا اور یزید بن ہارون نے ان سے اختلاط کے بعد سنا ہے۔ اسے حماد بن سلمہ نے بھی جریری سے روایت کیا ہے اور یہ قوی نہیں ہے، اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کے خلاف روایت بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19655]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19656
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَحُلَّ صِرَارَ نَاقَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ أَهْلِهَا، فَإِنَّ خَاتَمَ أَهْلِهَا عَلَيْهَا. فَقِيلَ لِشَرِيكٍ: أَرَفَعَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا يوَافِقُ الْحَدِيثَ الثَّابِتَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّهْيِ عَنْ ذَلِكَ، وَقَدْ مَضَى فِي الْبَابِ قَبْلَهُ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): ”کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ گھر والوں کی اجازت کے بغیر اونٹنی کے دودھ دوہنے کے لیے تھن کھولے؛ کیونکہ اس کے گھر والوں نے اس پر مہر ثبت کر رکھی ہوئی ہے۔“ جب شریک سے کہا گیا: ”کیا آپ اس کو مرفوع بیان کرتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، مرفوع بیان کرتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19656]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19657
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَإِنَّمَا يُوَجَّهُ هَذَا الْحَدِيثُ يَعْنِي حَدِيثَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ فِي الرُّخْصَةِ أَنَّهُ رَخَّصَ فِيهِ لِلْجَائِعِ الْمُضْطَرِّ الَّذِي لَا شَيْءَ مَعَهُ يَشْتَرِي بِهِ، وَهُوَ مُفَسَّرٌ فِي حَدِيثٍ آخَرَ حَدَّثَنَاهُ الْأَنْصَارِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: رَخَّصَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْجَائِعِ الْمُضْطَرِّ إِذَا مَرَّ بِالْحَائِطِ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ، وَلَا يَتَّخِذَ خُبْنَةً. ⦗٦٠٥⦘ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَمِمَّا يبَيِّنُ ذَلِكَ حَدِيثُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْأَنْصَارِ الَّذِينَ مَرُّوا بِحَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ فَسَأَلُوهُمُ الْقِرَى فَأَبَوْا، فَسَأَلُوهُمُ الشِّرَى فَأَبَوْا، فَضَبَطُوهُمْ فَأَصَابُوا مِنْهُمْ، فَأَتَوْا عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَهَمَّ بِالْأَعْرَابِ، وَقَالَ: ابْنُ السَّبِيلِ أَحَقُّ بِالْمَاءِ مِنَ التَّانِئِ عَلَيْهِ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: حَدَّثَنَاهُ حَجَّاجٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: فَهَذَا مُفَسَّرٌ إِنَّمَا هُوَ لِمَنْ لَمْ يَقْدِرْ عَلَى قِرًى وَلَا شِرًى. وَكَذَلِكَ قَالَ فِي الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ: لِيُصَوِّتْ، يَا رَاعِيَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا؛ لِيَكُونَ طَلَبُ الْقِرَى قَبْلُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي مِثْلِ هَذَا مَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَوَّلٍ الْبَهْزِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، الْإِبِلُ نَلْقَاهَا وَنَحْنُ مُحْتَاجُونَ وَهِيَ مُصَرَّاةٌ. قَالَ:" تُنَادِي يَا صَاحِبَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا، فَإِنْ أَجَابَكَ، وَإِلَّا فَاحْلُبْ ثُمَّ دَعْ لِلَّبَنِ دَوَاعِيَهُ". زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ: وَاحْلُبْ ثُمَّ صُرَّ وَبَقِّ لِلَّبَنِ دَوَاعِيَهُ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور عمرو بن شعیب کی احادیث میں رخصت ہے، ایسا انسان جو کچھ خرید نہیں سکتا اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب باغ کے پاس سے گزرے تو کھا لے لیکن جھولی بھر کر نہ لے جائے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ انصار ایک عرب قبیلہ کے پاس سے گزرے، جب ان سے مہمانی کا مطالبہ کیا تو انہوں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے ان سے کچھ مال لے لیا۔ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا تو انہوں نے دیہاتی لوگوں کا قصد کیا اور فرمایا: مسافر لوگ جس پانی کے چشمہ پر واقع ہوں اس کے زیادہ حق دار ہوتے ہیں۔ ابو عبید رحمہ اللہ نے اس کی تفسیر یہ بیان کی، جو مہمان نوازی اور کچھ خریدنے کی طاقت نہ رکھے۔ وہ چرواہے کو تین آوازیں لگائے تاکہ وہ اس سے مہمانی کا مطالبہ کر سکے۔
شیخ فرماتے ہیں: قاسم بن مخول اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ہم اونٹوں سے ملتے ہیں ہمیں دودھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ انہوں نے دودھ روکا ہوتا ہے تو ”چرواہے کو تین آوازیں دو۔ اگر جواب ملے تو درست وگرنہ دودھ دوہ لیا کرو۔ پھر دوہنے والوں کے لیے چھوڑ دیا کرو۔ پھر دودھ اور دودھ روک دے تاکہ چرواہے دودھ دوہ سکیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19657]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں