السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3934. -- باب: كراهية الحلف بغير الله عز وجل
-- باب: اللہ عزوجل کے سوا کسی اور کی قسم کھانے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 19830
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ هُوَ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقُمْتُ، وَتَرَكْتُ رَجُلًا عِنْدَهُ مِنْ كِنْدَةَ، فَأَتَيْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ قَالَ: فَجَاءَ الْكِنْدِيُّ فَزِعًا، فَقَالَ: جَاءَ ابْنَ عُمَرَ رَجُلٌ، فَقَالَ: احْلِفْ بِالْكَعْبَةِ، قَالَ: لَا، وَلَكِنِ أَحْلِفُ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ، فَإِنَّ عُمَرَ كَانَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحْلِفْ بِأَبِيكَ، فَإِنَّهُ مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللهِ، فَقَدْ أَشْرَكَ".
سعد بن عبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، میں کھڑا ہوا اور میں نے ان کے پاس ایک کندی آدمی چھوڑا، میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے پاس آیا اور راوی کہتے ہیں کہ کندی آدمی گھبرایا ہوا آیا، اس نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے کہا: ”میں نے کعبہ کی قسم اٹھانی ہے، اٹھا لوں؟“ انہوں نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ربِ کعبہ کی قسم اٹھاؤ، کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ کی قسم اٹھائی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے باپ کی قسم نہ اٹھاؤ، جس نے غیر اللہ کی قسم اٹھائی اس نے شرک کیا۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19830]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19831
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ مُوسَى بْنُ عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ:" سَابَقَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَبَقْتُهُ"، فَقُلْتُ:" سَبَقْتُكَ وَالْكَعْبَةِ"، ثُمَّ سَبَقَنِي، فَقَالَ:" سَبَقْتُكَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ"، فَلَمَّا نَزَلَ أَرَادَ ضَرْبِي، وَقَالَ:" أَتَحْلِفُ بِالْكَعْبَةِ. وَأَمَّا الَّذِي رُوِّينَا فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ فِي قِصَّةِ الْأَعْرَابِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَفْلَحَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ"، فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ هَذَا الْقَوْلُ مِنْهُ قَبْلَ النَّهْيِ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ جَرَى ذَلِكَ مِنْهُ عَلَى عَادَةِ الْكَلَامِ الْجَارِي عَلَى الْأَلْسُنِ، وَهُوَ لَا يَقْصِدُ بِهِ الْقَسَمَ، كَلَغْوِ الْيَمِينِ الْمَعْفُوِّ عَنْهُ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ النَّهْيُ إِنَّمَا وَقَعَ عَنْهُ إِذَا كَانَ مِنْهُ عَلَى وَجْهِ التَّوْقِيرِ لَهُ، وَالتَّعْظِيمِ لِحَقِّهِ، دُونَ مَا كَانَ بِخِلَافِهِ، وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ مِنْهُ عَلَى وَجْهِ التَّعْظِيمِ، بَلْ كَانَ عَلَى وَجْهِ التَّوْكِيدِ، وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ كَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَضْمَرَ فِيهِ اسْمَ اللهِ تَعَالَى، كَأَنَّهُ قَالَ:" لَا وَرَبِّ أَبِيهِ" وَغَيْرُهُ لَا يُضْمِرُ، بَلْ يَذْهَبُ فِيهِ مَذْهَبَ التَّعْظِيمِ لِأَبِيهِ.
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے دوڑ میں مقابلہ کیا، میں جیت گیا۔ میں نے کہا: کعبہ کی قسم! میں جیت گیا۔ پھر انہوں نے میرے ساتھ مقابلہ کیا۔ فرماتے ہیں: میں جیت گیا رب کعبہ کی قسم! جب وہ نیچے اترے تو مجھے مارنے کا ارادہ کیا، فرمایا: ”تو کعبہ کی قسم اٹھاتا ہے!“
(ب) طلحہ بن عبداللہ ایک دیہاتی کا قصہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَفْلَحَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ» ”وہ کامیاب ہو گیا، اس کے باپ کی قسم! اگر اس نے سچ کہا۔“ یہ قول نہی سے پہلے کا ہے یا اس سے مراد عام کلام ہے، قسم مراد نہیں ہے یا اس سے مراد تعظیم نہیں جس کے لیے قسم اٹھائی جاتی ہے بلکہ تاکید کے لیے ہے یا یہاں پر لفظِ رب محذوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19831]
(ب) طلحہ بن عبداللہ ایک دیہاتی کا قصہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَفْلَحَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ» ”وہ کامیاب ہو گیا، اس کے باپ کی قسم! اگر اس نے سچ کہا۔“ یہ قول نہی سے پہلے کا ہے یا اس سے مراد عام کلام ہے، قسم مراد نہیں ہے یا اس سے مراد تعظیم نہیں جس کے لیے قسم اٹھائی جاتی ہے بلکہ تاکید کے لیے ہے یا یہاں پر لفظِ رب محذوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19831]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن