🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

4006. -- باب: ما يستحب للقاضي من أن يقضي في موضع بارز للناس، لا يكون دونه حجاب، وأن يكون متوسط المصر
-- باب: قاضی کے لیے مستحب ہونے کا بیان کہ وہ لوگوں کے سامنے کھلی جگہ پر فیصلے کرے، اس کے اور لوگوں کے درمیان کوئی پردہ (رکاوٹ) نہ ہو، اور وہ شہر کے وسط میں ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20256
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ لِبَعْضِ أَهْلِهِ: أَتَعْرِفِينَ فُلَانَةَ؟ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهَا وَهِيَ عِنْدَ قَبْرٍ تَبْكِي، فَقَالَ لَهَا:" اتَّقِي اللهَ وَاصْبِرِي"، فَقَالَتْ: إِلَيْكَ عَنِّي، فَإِنَّكَ لَا تُبَالِي بِمُصِيبَتِي فَقِيلَ لَهَا: إِنَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَهَا مِثْلُ الْمَوْتِ، فَانْتَهَتْ إِلَى بَابِهِ، فَلَمْ تَجِدْ بَوَّابِينَ، فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي لَمْ أَعْرِفْكَ، فَقَالَ لَهَا:" الصَّبْرُ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ". ⦗١٧٤⦘ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ شُعْبَةَ.
ثابت فرماتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ اپنے گھر والوں سے کہہ رہے تھے: کیا تم فلاں عورت کو جانتے ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے، وہ قبر کے پاس رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے ڈر اور صبر کر۔“ کہنے لگی: اپنے آپ کو لازم پکڑو، میرے جیسی مصیبت آپ کو نہیں پہنچی۔ اس عورت سے کہا گیا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، تو اس پر موت جیسی کیفیت طاری ہو گئی، وہ آپ کے دروازے تک پہنچی۔ کوئی دربان نہ پا کر اندر داخل ہوئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں پہچان نہ سکی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بی بی! صبر صدمہ کی ابتدا میں ہوتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20256]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20257
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الْحَسَنِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُغْلَقُ دُونَهُ الْأَبْوَابُ، وَلَا يَقُومُ دُونَهُ الْحَجَبَةُ، وَلَا يُغْدَى عَلَيْهِ بِالْجِفَانِ وَلَا يُرَاحُ عَلَيْهِ بِهَا، كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَارِزًا، مَنْ أَرَادَ أَنْ يَلْقَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ، كَانَ يَجْلِسُ بِالْأَرْضِ، وَيُوضَعُ طَعَامُهُ بِالْأَرْضِ، وَيَلْبَسُ الْغَلِيظَ، وَيَرْكَبُ الْحِمَارَ، وَيُرْدِفُ خَلْفَهُ وَيَلْعَقُ وَاللهِ يَدَهُ".
حضرت حسن رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے بند نہیں کیے جاتے تھے، کوئی دربان نہیں بیٹھتا تھا، صبح اور شام کا کھانا سامنے نہیں لایا جاتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سامنے ہوتے، جس کا دل چاہتا ملاقات کر لیتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کھانا زمین پر رکھا جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم موٹا لباس پہنتے، گدھے کی سواری فرماتے، اپنے پیچھے کسی کو بٹھا لیتے اور اللہ کی قسم! اپنا ہاتھ چاٹ لیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20257]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20258
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُبَارَكٍ، ثنا صَدَقَةُ، وَيَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ يُكْنَى أَبَا مَرْيَمَ مِنَ الْأُسْدِ قَدِمَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: مَا أَقْدَمَكَ؟ قَالَ: حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَيْتُ مَوقِفَكَ جِئْتُ أُخْبِرُكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ وَلَّاهُ اللهُ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا، فَاحْتَجَبَ عَنْ حَاجَاتِهِمْ وَخَلَّتِهِمْ وَفَاقَتِهِمْ احْتَجَبَ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْ حَاجَتِهِ وَخَلَّتِهِ وَفَاقَتِهِ"..
قاسم بن مخیمرہ فلسطین کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں جن کی کنیت ابو مریم تھی اور اسد قبیلہ سے تعلق تھا، وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے پوچھا: کون سی چیز آپ کو لے کر آئی ہے؟ اس نے کہا: میں نے ایک حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی، جب میں نے آپ کا منصب دیکھا تو آپ کو خبر دینے آیا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”جس کو اللہ لوگوں کے امور کا والی بنائے، تو وہ ان کی ضروریات، ملاقات اور ان کے فاقوں سے دربان بٹھا لے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی حاجات و ضروریات اور فاقوں سے دربان بٹھا دے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20258]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں