السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4074. -- باب:: من قال: لا تقبل شهادته
-- باب: جس نے کہا کہ: اس (قاذف) کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20568
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ آدَمَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ، وَلَا خَائِنَةٍ، وَلَا مَحْدُودٍ فِي الْإِسْلَامِ، وَلَا مَحْدُودَةٍ، وَلَا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ".
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیانت کرنے والے مرد یا عورت، اور اسلام میں جس کو حد لگائی گئی ہو اس مرد یا عورت، اور اپنے بھائی کے خلاف کینہ رکھنے والے کی شہادت قبول نہ کی جائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20568]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 20569
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَعْلَجَ السِّجْزِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ، ثنا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلَا خَائِنَةٍ، وَلَا مَوْقُوفٍ عَلَى حَدٍّ، وَلَا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ" آدَمُ بْنُ فَائِدٍ، وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ لَا يُحْتَجُّ بِهِمَا، وَرُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ ضَعِيفَةٍ، عَنْ عَمْرٍو، وَمَنْ رَوَى مِنَ الثِّقَاتِ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَمْرٍو لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْمَجْلُودَ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرِينَ ضَعِيفَيْنِ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خائن مرد یا عورت اور جس پر حد لگی ہو اور اپنے بھائی کے خلاف کینہ رکھنے والے کی گواہی قبول نہ کی جائے گی۔“
آدم بن فائد اور مثنیٰ بن صباح قابلِ حجت نہیں ہیں۔ یہ حدیث عمرو سے کئی ضعیف طرق سے بھی مروی ہے، اور جن ثقہ راویوں نے یہ حدیث عمرو سے روایت کی ہے انہوں نے اس میں حد کے کوڑے لگائے گئے شخص کا تذکرہ نہیں کیا، واللہ اعلم۔ یہ دو اور ضعیف طرق سے بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20569]
آدم بن فائد اور مثنیٰ بن صباح قابلِ حجت نہیں ہیں۔ یہ حدیث عمرو سے کئی ضعیف طرق سے بھی مروی ہے، اور جن ثقہ راویوں نے یہ حدیث عمرو سے روایت کی ہے انہوں نے اس میں حد کے کوڑے لگائے گئے شخص کا تذکرہ نہیں کیا، واللہ اعلم۔ یہ دو اور ضعیف طرق سے بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20569]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20570
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ، بِصُورَ، ثنا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ النَّصِيبِيُّ، ح، قَالَ: وَثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، قَالَ: وَثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، بِدِمَشْقَ، ثنا دُحَيْمٌ، قَالَا: ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ الدِّمَشْقِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلَا خَائِنَةٍ وَلَا مَجْلُودِ حَدٍّ، وَلَا ذِي غِمْرٍ لِأَخِيهِ، وَلَا مُجَرَّبٍ عَلَيْهِ شَهَادَةُ زُورٍ، وَلَا ظَنِينٍ فِي وَلَاءٍ، وَلَا قَرَابَةٍ". يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، وَيُقَالُ: ابْنُ زِيَادٍ الشَّامِيُّ هَذَا ضَعِيفٌ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیانت کرنے والا مرد اور عورت اور جس کو حد لگائی گئی ہو، اپنے بھائی کے خلاف کینہ پرور، جس پر جھوٹی گواہی کا تجربہ ہو، اور جس کی ولاء اور قرابت میں تہمت ہو، ان کی گواہی جائز نہیں۔“
یہ یزید بن ابی زیاد، جنہیں ابن زیاد شامی بھی کہا جاتا ہے، ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20570]
یہ یزید بن ابی زیاد، جنہیں ابن زیاد شامی بھی کہا جاتا ہے، ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20570]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20571
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ خَلَفٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا ⦗٢٦٢⦘ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ وَقَالَ:" أَلَا، لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ الْخَائِنِ، وَلَا الْخَائِنَةُ، وَلَا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ، وَلَا الْمَوْقُوفِ عَلَى حَدٍّ". قَالَ عَلِيٌّ: يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ هُوَ الْفَارِسِيُّ: مَتْرُوكٌ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ضَعِيفٌ، قَالَ الشَّيْخُ:" لَا يَصِحُّ فِي هَذَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ يُعْتَمَدُ عَلَيْهِ، وَيُرْوَى عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا: ”خیانت کرنے والا مرد ہو یا عورت، اپنے بھائی کے خلاف کینہ رکھنے والا، اور وہ جس کو حد کے لیے کھڑا کیا گیا ہو، (ان کی) گواہی جائز نہیں۔“
علی (دارقطنی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یحییٰ بن سعید فارسی ہیں جو متروک ہیں، اور عبدالاعلیٰ ضعیف ہیں۔ شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی قابلِ اعتماد چیز ثابت نہیں، اور یہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20571]
علی (دارقطنی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یحییٰ بن سعید فارسی ہیں جو متروک ہیں، اور عبدالاعلیٰ ضعیف ہیں۔ شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی قابلِ اعتماد چیز ثابت نہیں، اور یہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20571]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20572
حَدَّثَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: أَخْرَجَ إِلَيْنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ كِتَابًا فَقَالَ: هَذَا كِتَابُ عُمَرَ إِلَى أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَذَكَرَهُ. فَقَالَ فِيهِ:" وَالْمُسْلِمُونَ عُدُولٌ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، إِلَّا مَجْلُودًا فِي حَدٍّ، أَوْ مُجَرَّبًا فِي شَهَادَةِ زُورٍ، أَوْ ظَنِينًا فِي وَلَاءٍ أَوْ قَرَابَةٍ". وَهَذَا إِنَّمَا أَرَادَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَتُوبَ، فَقَدْ رُوِّينَا عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي بَكْرَةَ رَحِمَهُ اللهُ:" تُبْ تُقْبَلْ شَهَادَتُكَ"، وَهَذَا هُوَ الْمُرَادُ بِمَا عَسَى يَصِحُّ فِيهِ مِنَ الْأَخْبَارِ، كَمَا هُوَ الْمُرَادُ بِسَائِرِ مَنْ رَدَّ شَهَادَتَهُ مَعَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ادریس اودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن ابی بردہ رحمہ اللہ نے ہمارے سامنے ایک خط نکالا اور کہنے لگے: یہ خط سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے نام ہے۔ اس میں ہے کہ تمام مسلمان ایک دوسرے پر گواہی دیں گے لیکن جس کو حد میں کوڑے لگائے گئے ہوں، جس پر جھوٹی گواہی کا تجربہ ہو یا اس کی نسبت یا قرابت میں تہمت ہو۔ ان سے مراد توبہ سے پہلے ہے۔ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: توبہ کر لیں، آپ کی گواہی قبول کی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20572]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 20283»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20573
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ الْقَاذِفِ أَبَدًا، وَتَوْبَتُهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ".
شعبی رحمہ اللہ، قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ تہمت لگانے والے کی گواہی ہرگز قبول نہ کی جائے اور توبہ کا معاملہ اللہ اور بندے کے درمیان ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20573]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20574
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: وَأنبأ يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَا:" لَا تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ أَبَدًا، وَتَوْبَتُهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللهُ".
ابراہیم اور حضرت حسن رحمہما اللہ فرماتے ہیں: اس کی شہادت کبھی قبول نہ کی جائے گی، توبہ کا معاملہ بندے اور اللہ کے درمیان ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20574]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20575
قَالَ: وَثَنَا سَعِيدٌ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ:" تَوْبَتُهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ مِنَ الْعَذَابِ الْعَظِيمِ، وَلَا تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ".
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عذابِ عظیم سے (بچنے کے لیے) توبہ کا معاملہ اللہ رب العزت اور بندے کے درمیان ہے اور شہادت قبول نہ کی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20575]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20576
قَالَ: وَثَنَا سَعِيدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ عُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي الْقَاذِفِ:" إِذَا شَهِدَ قَبْلَ أَنْ يُجْلَدَ، فَشَهَادَتُهُ جَائِزَةٌ".
ابراہیم رحمہ اللہ تہمت لگانے والے کے بارے میں فرماتے ہیں: ”تہمت لگانے والے کو سزا ملنے سے قبل اس کی گواہی قابل قبول ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20576]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف