السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4076. -- باب: التحفظ في الشهادة والعلم بها
-- باب: گواہی کو محفوظ رکھنے اور اس کا پختہ علم ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q20578
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا} وَقَالَ: {إِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ} [الزخرف: 86] وَقَالَ فِي قِصَّةِ إِخْوَةِ يُوسُفَ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: {وَمَا شَهِدْنَا إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَافِظِينَ} [يوسف: 81] ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَلَا يَسَعُ شَاهِدًا أَنْ يَشْهَدَ إِلَّا بِمَا عَلِمَ".
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا﴾ ”اور جس بات کا تمہیں علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو، بے شک کان، آنکھ اور دل، ان سب کے بارے میں باز پرس ہو گی۔“ [سورة الإسراء: 36]
اور فرمایا: ﴿إِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ﴾ ”سوائے ان کے جنہوں نے حق کی گواہی دی اور وہ جانتے بھی ہوں۔“ [سورة الزخرف: 86]
اور یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے واقعے میں فرمایا: ﴿وَمَا شَهِدْنَا إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَافِظِينَ﴾ ”اور ہم نے وہی گواہی دی ہے جو ہمیں معلوم ہے، اور ہم غیب کی نگہبانی کرنے والے نہ تھے۔“ [سورة يوسف: 81]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور کسی گواہ کے لیے جائز نہیں کہ وہ گواہی دے مگر اسی بات کی جس کا اسے علم ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: Q20578]
اور فرمایا: ﴿إِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ﴾ ”سوائے ان کے جنہوں نے حق کی گواہی دی اور وہ جانتے بھی ہوں۔“ [سورة الزخرف: 86]
اور یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے واقعے میں فرمایا: ﴿وَمَا شَهِدْنَا إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَافِظِينَ﴾ ”اور ہم نے وہی گواہی دی ہے جو ہمیں معلوم ہے، اور ہم غیب کی نگہبانی کرنے والے نہ تھے۔“ [سورة يوسف: 81]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور کسی گواہ کے لیے جائز نہیں کہ وہ گواہی دے مگر اسی بات کی جس کا اسے علم ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: Q20578]
حدیث نمبر: 20578
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟ الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ"، قَالَ: وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ وَقَالَ:" وَشَهَادَةُ الزُّورِ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ"، أَوْ:" قَوْلُ الزُّورِ"، فَمَا زَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا: لَيْتَهُ سَكَتَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قَيْسِ بْنِ حَفْصٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ، كِلَاهُمَا عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکرہ اپنے والد (سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں سب سے بڑے کبیرہ گناہوں کے بارے میں بیان نہ کروں: 1 اللہ کے ساتھ شرک کرنا، 2 والدین کی نافرمانی کرنا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا: ”3 جھوٹی گواہی، جھوٹی گواہی، جھوٹی گواہی“، یا (فرمایا): ”جھوٹی بات۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو بار بار دہراتے رہے، یہاں تک کہ ہم نے کہا کہ کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو جائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20578]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20579
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ الْمَكِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ الْمَكِّيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يَشْهَدُ بِشَهَادَةٍ، فَقَالَ:" أَمَّا أَنْتَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَلَا تَشَهَدْ إِلَّا عَلَى أَمْرٍ يُضِيءُ لَكَ كَضِيَاءِ هَذِهِ الشَّمْسِ"، وَأَوْمَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّمْسِ". ⦗٢٦٤⦘ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ هَذَا تَكَلَّمَ فِيهِ الْحُمَيْدِيُّ، وَلَمْ يُرْوَ مِنْ وَجْهٍ يُعْتَمَدُ عَلَيْهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
طاؤس، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک گواہی دینے والے آدمی کا تذکرہ کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن عباس! تم کسی کام پر گواہی نہ دینا، لیکن ایسا معاملہ جو تمہارے لیے اس سورج کی طرح روشن ہو“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے سورج کی طرف اشارہ کیا۔
اس محمد بن سلیمان بن مسمول پر حمیدی نے کلام کیا ہے، اور یہ کسی قابلِ اعتماد سند سے مروی نہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20579]
اس محمد بن سلیمان بن مسمول پر حمیدی نے کلام کیا ہے، اور یہ کسی قابلِ اعتماد سند سے مروی نہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20579]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20580
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: إِنَّ نَاسًا يَدْعُونَنِي، يُشْهِدُونَنِي، وَأَكْرَهُ ذَاكَ، قَالَ:" اشْهَدْ بِمَا تَعْلَمُ".
ابومجلز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ لوگ مجھے گواہی کے لیے بلاتے ہیں اور میں ناپسند کرتا ہوں، فرمایا: اس پر گواہی دے جس کو تو جانتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20580]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح