🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

4082. -- باب:: ولا يضار كاتب ولا شهيد
-- باب: کسی کاتب اور کسی گواہ کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20602
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ} [البقرة: ٢٨٢] قَالَ:" أَنْ يَجِيءَ فَيَدْعُوَ الْكَاتِبَ وَالشَّهِيدَ، فَيَقُولَانِ: إِنَّا عَلَى حَاجَةٍ فَيُضَارَّ بِهِمَا، فَقَالَ: قَدْ أُمِرْتُمَا أَنْ تُجِيبَا، فَلَا يُضَارَّهُمَا".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے قول ﴿وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ﴾ [سورة البقرة: 282] ”کہ کاتب اور گواہ کو تکلیف نہ دی جائے“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ گواہ اور کاتب کو طلب کیا جائے تو وہ کہیں: ہم مصروف ہیں، وہ کہتا ہے کہ تم کو حکم دیا گیا ہے کہ جب تمہیں طلب کیا جائے تو ضرور آؤ۔ ان دونوں کو تنگ نہ کیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20602]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20603
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا} [البقرة: ٢٨٢] يَقُولُ:" مَنِ احْتِيجَ إِلَيْهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَدْ شَهِدَ عَلَى شَهَادَةٍ، أَوْ كَانَتْ عِنْدَهُ شَهَادَةٌ، فَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَأْبَى إِذَا مَا دُعِيَ"، ثُمَّ ⦗٢٧١⦘ قَالَ بَعْدَ هَذَا:" {وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ} [البقرة: ٢٨٢] ، وَالْإِضْرَارُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ وَهُوَ عَنْهُ غَنِيٌّ: إِنَّ اللهَ قَدْ أَمَرَكَ أَنْ لَا تَأْبَى إِذَا مَا دُعِيتَ، فَيُضَارَّهُ بِذَلِكَ وَهُوَ مَكْفِيٌّ بِغَيْرِهِ، فَنَهَاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَقَالَ: {وَإِنْ تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ فُسُوقٌ بِكُمْ} [البقرة: ٢٨٢] يَعْنِي بِالْفُسُوقِ الْمَعْصِيَةَ".
علی بن ابی طلحہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا﴾ [سورة البقرة: 282] ”گواہ انکار نہ کرے جب اس کو بلایا جائے“ کے متعلق فرماتے ہیں: جب مسلمانوں کو اس کی گواہی کی ضرورت ہو تب وہ گواہی سے انکار نہ کرے، اس کے بعد یہ فرمایا ﴿وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ﴾ [سورة البقرة: 282] ”کہ کاتب اور گواہ کو تنگ نہ کیا جائے۔“
نقصان پہنچانا یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے سے، حالانکہ اسے اس کی ضرورت نہیں ہوتی، کہتا ہے کہ اللہ کا حکم ہے کہ تو انکار نہ کرے جب گواہی کے لیے طلب کیا جائے۔ وہ اس کو تکلیف دیتا ہے، حالانکہ اس کے بغیر بھی کفایت ہو جاتی ہے تو اللہ نے اس کو منع کر دیا ﴿وَإِنْ تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ فُسُوقٌ بِكُمْ﴾ [سورة البقرة: 282] ”اگر تم نے ایسا کیا تو تم گناہ گار ہو جاؤ گے۔“ فسوق سے مراد نافرمانی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20603]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20604
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ ح وَأَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ فِرَاسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّيْبُلِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قَرَأَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: {وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ} [البقرة: ٢٨٢] قَالَ سُفْيَانُ:" هُوَ الرَّجُلُ يَأْتِي الرَّجُلَ فَيَقُولُ: اكْتُبْ لِي، فَيَقُولُ: أَنَا مَشْغُولٌ، انْظُرْ غَيْرِي، وَلَا يُضَارَّهُ، يَقُولُ: لَا أُرِيدُ إِلَّا أَنْتَ، لِيَنْظُرْ غَيْرَهُ، وَالشَّهِيدُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلَ يُشْهِدُهُ عَلَى الشَّيْءِ، فَيَقُولُ: إِنِّي مَشْغُولٌ، فَانْظُرْ غَيْرِي، فَلَا يُضَارَّهُ فَيَقُولُ: لَا أُرِيدُ إِلَّا أَنْتَ، لِيُشْهِدْ غَيْرَهُ". لَيْسَ فِي رِوَايَةِ ابْنِ قَتَادَةَ قَوْلُ سُفْيَانَ.
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ﴿وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ﴾ [سورة البقرة: 282] پڑھا: ”کہ کاتب اور گواہ کو پریشان نہ کیا جائے۔“ سفیان فرماتے ہیں کہ ایک آدمی دوسرے کے پاس آتا ہے، وہ کہتا ہے: ”مجھے لکھ دو۔“ وہ کہتا ہے: ”میں مصروف ہوں، میرے علاوہ کسی دوسرے کو تلاش کر لو۔“ تو وہ اسے یہ کہہ کر تکلیف نہ دے کہ: ”میں تو صرف تمہیں ہی چاہتا ہوں۔“ بلکہ کسی دوسرے کو تلاش کر لے۔ اور گواہ کے پاس کوئی آتا ہے کہ اسے کسی چیز پر گواہ بنائے، وہ کہتا ہے کہ: ”میں مصروف ہوں، کسی اور کو لے جاؤ۔“ تو وہ اسے یہ کہہ کر تکلیف نہ دے کہ: ”میں تو صرف تیری گواہی چاہتا ہوں۔“ بلکہ کسی اور کو گواہ بنا لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20604]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20605
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ:" لَا يُضَارَّ الْكَاتِبُ وَلَا الشَّهِيدُ، يَقُولُ:" يَأْتِيهِ فَيَشْغَلُهُ عَنْ ضَيْعَتِهِ، وَعَنْ سُوقِهِ"،.
حمید اَعْرَج، حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ﴿کاتب اور گواہ کو تنگ نہ کیا جائے﴾ [سورة البقرة: 282] جب وہ اپنی جاگیر اور بازار میں مصروف ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20605]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20606
قَالَ: وَأنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِهِ: {وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ} [البقرة: ٢٨٢] قَالَ:" لَا يُضَارَّ الْكَاتِبُ فَيَكْتُبَ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِهِ، وَلَا يُضَارَّ الشَّهِيدُ فَيَزِيدَ فِي شَهَادَتِهِ" قَالَ: وَأنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ بِمِثْلِ ذَلِكَ.
اسماعیل بن مسلم حضرت حسن رحمہ اللہ سے اللہ کے اس قول کے بارے میں فرماتے ہیں: ﴿وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ﴾ [سورة البقرة: 282] ”کہ کاتب اور گواہ نقصان نہ پہنچائیں۔“
کاتب ایسی چیز لکھ کر نقصان نہ پہنچائے جس کا اس کو حکم نہ دیا گیا ہو اور نہ ہی گواہ اپنی گواہی میں اضافہ کر کے نقصان پہنچائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20606]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں