السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4114. -- باب:: ما ترد به شهادة أهل الأهواء
-- باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
حدیث نمبر: Q20869
قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا: هُوَ إِظْهَارُ منْ أَظْهَرَ مِنْهُمْ نَفْيَ صِفَاتِ اللهِ تَعَالَى الَّتِي قَدْ وَرَدَ الْكِتَابُ بِهَا، وَدَلَّتِ السُّنَّةُ الْمُسْتَفِيضَةُ مَعَ إِجْمَاعِ سَلَفِ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى إِثْبَاتِهَا، نَحْوَ الْكَلَامِ وَالْقُدْرَةِ وَالْعِلْمِ وَالْمَشِيئَةِ، وَأَنَّ الْأَفْعَالَ كُلَّهَا لِلَّهِ تَعَالَى مَخْلُوقَةٌ، فَقَدْ جَاءَتِ الْأَخْبَارُ بِتَكْفِيرِ مُنْكِرِيهَا، وَتَبَرَّأَ سَلَفُ هَذِهِ الْأُمَّةِ مِنْ مَذْهَبِ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ فِيهَا.
ہمارے بعض اصحاب نے فرمایا: ”اس سے مراد ان میں سے اس شخص کا (علانیہ) اظہار ہے جو اللہ تعالیٰ کی ان صفات کی نفی کا اظہار کرے جن کے بارے میں کتاب اللہ وارد ہوئی ہے، اور سنت مستفیضہ نے اس امت کے سلف کے اجماع کے ساتھ مل کر ان کے اثبات پر دلالت کی ہے، جیسے کلام، قدرت، علم اور مشیت، اور (اسی طرح اس بات کا انکار) کہ تمام افعال اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ ہیں، کیونکہ ان کے منکرین کی تکفیر کے بارے میں روایات آئی ہیں، اور اس امت کے سلف نے ان امور میں اہل اہواء (بدعتیوں) کے مذہب سے براءت کا اظہار کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: Q20869]
حدیث نمبر: 20869
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً فِي جَامِعِ الْمَنْصُورِ، ثنا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْقَدَرِيَّةُ مَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ، إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ، وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ" أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ هَكَذَا.
ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”قدریہ اس امت کے مجوسی ہیں۔ اگر وہ بیمار ہو جائیں تو ان کی تیمارداری نہ کرو اور اگر وہ مر جائیں تو ان کی نماز جنازہ نہ پڑھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20869]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20870
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَرَ، مَوْلَى غُفْرَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ مَجُوسًا، وَإِنَّ مَجُوسَ هَذِهِ الْأُمَّةِ الَّذِينَ يَقُولُونَ: لَا قَدَرَ، فَمَنْ مَرِضَ مِنْهُمْ فَلَا تَعُودُوهُ، وَمَنْ مَاتَ مِنْهُمْ فَلَا تَشْهَدُوهُ، وَهُمْ شِيعَةُ الدَّجَّالِ، وَحَقٌّ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُلْحِقَهُمْ بِهِ" أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ وَالَّذِي رُوِيَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَحُذَيْفَةَ فِي تَكْفِيرِ الْقَدَرِيَّةِ نَصًّا مَوْجُودٌ دَلَالَةٌ ظَاهِرَةٌ فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَيْمَانِ، مَعَ تَبَرِّي ابْنِ عُمَرَ مِمَّنْ نَفَى الْقَدَرَ.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں اور اس امت کے مجوسی قدریہ (یعنی تقدیر کے منکر) ہیں، نہ ان کی تیمارداری کرو اور نہ ہی ان کے جنازے میں شامل ہو۔ یہ دجال کا گروہ ہے، اللہ کے ذمہ ہے کہ ان کو ان کے ساتھ ملا دے۔“
سیدنا ابن عمر اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہم سے قدریہ کی تکفیر کے بارے میں جو صراحتاً منقول ہے، اس پر واضح دلالت اس ثابت حدیث میں موجود ہے جو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان کے بارے میں روایت کرتے ہیں، نیز سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے تقدیر کا انکار کرنے والوں سے براءت کا اظہار کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20870]
سیدنا ابن عمر اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہم سے قدریہ کی تکفیر کے بارے میں جو صراحتاً منقول ہے، اس پر واضح دلالت اس ثابت حدیث میں موجود ہے جو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان کے بارے میں روایت کرتے ہیں، نیز سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے تقدیر کا انکار کرنے والوں سے براءت کا اظہار کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20870]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20871
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ بُرَيْدَةَ، يُحَدِّثُ أَنَّ يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ، قَالَ: كَانَ أَوَّلَ مَنْ قَالَ فِي الْقَدَرِ فِي الْبَصْرَةِ مَعْبَدٌ الْجُهَنِيُّ، فَانْطَلَقْنَا حُجَّاجًا أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا قُلْنَا: لَوْ لَقِينَا بَعْضَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَاهُ عَمَّا يَقُولُ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ فِي الْقَدَرِ قَالَ: فَوَافَقْنَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ فِي الْمَسْجِدِ، فَاكْتَنَفْتُهُ أَنَا وَصَاحِبِي، أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ، وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ، قَالَ يَحْيَى: فَظَنَنْتُ أَنَّ صَاحِبِي يَكِلُ الْكَلَامَ إِلِيَّ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّهُ ظَهَرَ قِبَلَنَا نَاسٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، وَيَعْرِفُونَ الْعِلْمَ، يَزْعُمُونَ أَنْ لَا قَدَرَ، إِنَّمَا الْأَمْرُ أُنُفٌ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَإِذَا لَقِيتُمْ أُولَئِكَ فَأَخْبِرُوهُمْ أَنِّي بَرِيءٌ مِنْهُمْ، وَأَنَّهُمْ مِنِّي بَرَاءٌ، وَالَّذِي يَحْلِفُ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، لَوْ أَنَّ لِأَحَدِهِمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فَأَنْفَقَهُ، مَا قَبِلَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ، خَيْرِهِ وَشَرِّهِ، ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، إِذْ طَلَعَ رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ، شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ، لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلَا نَعْرِفُهُ، حَتَّى جَلَسَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْنَدَ رُكْبَتَهُ إِلَى رُكْبَتِهِ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ ⦗٣٤٣⦘ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْإِسْلَامُ أَنَ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ السَّبِيلَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: صَدَقْتَ، قَالَ عُمَرُ: عَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ؟ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيمَانِ، مَا الْإِيمَانُ؟ فَقَالَ:" الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَالْقَدَرِ كُلِّهِ، خَيْرِهِ وَشَرِّهِ"، فَقَالَ: صَدَقْتَ، فَقَالَ: أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ، فَقَالَ:" الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ"، قَالَ: فَحَدِّثْنِي عَنِ السَّاعَةِ، مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ:" مَا الْمَسْئُولُ بِأَعْلَمَ بِهَا مِنَ السَّائِلِ"، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَتِهَا قَالَ:" أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبِنَاءِ"، ثُمَّ انْطَلَقَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَلَبِثْتُ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عُمَرُ مَا تَدْرِي مَنِ السَّائِلُ"؟ قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" ذَاكَ جِبْرَئِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ"..
عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ، یحییٰ بن یعمر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے بصرہ میں معبد جہنی نے تقدیر کا انکار کیا۔ میں اور حمید بن عبدالرحمن رحمہ اللہ حج کو چلے۔ جب ہم آئے تو ہم نے کہا: ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کے بارے میں سوال کریں گے جو تقدیر کا انکار کرتے ہیں۔ ہم نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو مسجد میں پا لیا تو ہم نے ان کو دائیں اور بائیں سے گھیر لیا، یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے ساتھیوں نے کلام کے لیے میرا انتخاب کیا۔ میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! ہمارے علاقے میں کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوئے ہیں، جو قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور علم کو جانتے ہیں اور تقدیر کے منکر ہیں اور (کہتے ہیں کہ) معاملہ نیا ہے (یعنی پہلے سے مقدر نہیں)۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب تم ان سے ملو تو کہہ دینا: میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں۔“ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے قسم کھا کر فرمایا: ”اگر ایسے لوگ احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کریں تو اللہ ان سے قبول نہ فرمائیں گے، یہاں تک کہ وہ اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہ لائیں۔“ فرماتے ہیں کہ مجھے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک سفید کپڑوں والا، سخت سیاہ بالوں والا، اس پر سفر کے نشانات بھی نہ تھے اور ہم میں سے کوئی اس کو جانتا بھی نہ تھا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں کے ساتھ گھٹنے ملا کر بیٹھ گیا اور اپنی ہتھیلیاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رانوں پر رکھ دیں، پھر کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اسلام کے بارے میں خبر دو، اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کر، زکوٰۃ ادا کر، رمضان کے روزے رکھ، اگر طاقت ہو تو بیت اللہ کا حج کر۔“ اس آدمی نے کہا: ”آپ نے سچ فرمایا۔“ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے تعجب کیا کہ خود سوال کرتا ہے پھر تصدیق بھی خود کرتا ہے، پھر اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے ایمان کے بارے میں خبر دو، ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پر، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، آخرت کے دن اور اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانا۔“ اس نے کہا: ”آپ نے سچ فرمایا۔“ پھر اس نے کہا: احسان کے بارے میں مجھے خبر دو۔ فرمایا: ”اللہ کی عبادت اس انداز سے کرنا گویا آپ اس کو دیکھ رہے ہو، اگر آپ اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ یقیناً آپ کو دیکھ رہا ہے۔“ اس نے کہا: مجھے قیامت کے بارے میں بیان کرو۔ فرمایا: ”جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سائل سے زیادہ نہیں جانتا۔“ اس نے کہا: اس کی علامات کے بارے میں بتاؤ۔ فرمایا: ”لونڈی اپنے آقا کو جنم دے گی اور آپ دیکھیں گے کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن، فقیر، بکریوں کے چرواہے وہ عمارتوں کے بنانے میں فخر کریں گے۔“ پھر وہ چلا گیا، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تین دن تک ٹھہرا رہا۔ پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! جانتے ہو سائل کون تھا؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں۔ فرمایا: ”یہ جبرائیل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20871]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20872
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ كَهْمَسٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ كَهْمَسٍ وَغَيْرِهِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَوَاهِدُهُ كَثِيرَةٌ مِنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ وَأَبِي ذَرٍّ وَغَيْرِهِمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سابقہ حدیث کی ایک اور سند ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20872]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20873
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ، ثنا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ شَرِيكٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْقَدَرِ وَلَا تُفَاتِحُوهُمْ" أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنِ الْمُقْرِئِ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قدریہ کے ساتھ نہ بیٹھو اور نہ تم ان سے فیصلہ جات کراؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20873]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20874
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنُ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ أَبُو سِنَانٍ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ الشَّيْبَانِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ خَالِدٍ الْحِمْصِيَّ يُحَدِّثُنَا، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ: وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنَ الْقَدَرِ، فَأَتَيْتُ أُبِيَّ بْنَ كَعْبٍ فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنَ الْقَدَرِ خِفْتُ أَنْ يَكُونَ فِيهِ هَلَاكُ دِينِي وَأَمْرِي، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ ⦗٣٤٤⦘ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ، لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ، وَلَوْ رَحِمَهُمْ لَكَانَتْ رَحْمَتُهُ لَهُمْ خَيْرًا مِنْ أَعْمَالِهِمْ، وَلَوْ أَنَّ لَكَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ مَا قَبِلَهُ اللهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَإِنَّكَ إِذَا مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا دَخَلْتَ النَّارَ، وَلَا عَلَيْكَ أَنْ تَأْتِيَ أَخِي عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَتَسْأَلَهُ، فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ إِسْحَاقُ: قَصَّ الْقِصَّةَ كُلَّهَا كَمَا قَالَ، غَيْرَ أَنِّي اخْتَصَرْتُهُ، وَقَالَ لِي: لَا عَلَيْكَ أَنْ تَأْتِيَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ فَتَسْأَلَهُ، فَأَتَيْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ فَسَأَلْتُهُ، وَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِكَ، وَقَالَ: ائْتِ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَلْهُ، فَأَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ، وَلَوْ رَحِمَهُمْ كَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ، وَلَوْ أَنَّ لَكَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ، مَا قَبِلَهُ اللهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَأَنَّهُ إِنْ مَاتَ عَلَى غَيْرِ هَذَا دَخَلَ النَّارَ". أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ. وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَسَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ وَغَيْرِهِمْ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
ابن دیلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تقدیر کے بارے میں میرے دل میں شک سا پیدا ہوا تو میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آگیا اور میں نے کہا: اے ابو منذر! میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ (وسوسہ) واقع ہوا، میں خطرہ محسوس کرتا ہوں کہ میرا دین برباد نہ ہو جائے، انہوں نے کہا: اے بھتیجے! اگر اللہ آسمانوں اور زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو وہ اس میں ظالم نہیں ہے، اور اگر وہ رحمت کرے تو اس کی رحمت سب سے زیادہ وسیع ہے، اگر آپ کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور آپ اس کو خرچ کر دیں تو اللہ اسے قبول نہ فرمائیں گے جب تک کہ آپ کا تقدیر پر ایمان نہ ہو اور آپ جان لیں کہ جو آپ کو پہنچنے والا ہے وہ پہنچ کر رہے گا اور جو نہیں ملنا وہ آپ کو نہیں مل سکے گا۔ اگر آپ تقدیر کے عقیدے کے بغیر مر گئے تو جہنم میں جاؤ گے اور جب میرے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آئیں تو ان سے سوال کر لینا۔ پھر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ان سے سوال کیا تو انہوں نے بھی ویسا ہی جواب دیا۔
اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر سوال کرنا۔ میں حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے بھی مجھے ایسا ہی جواب دیا اور وہ مجھ سے کہنے لگے: زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس جانا، میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں نے ان سے سوال کیا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”اگر اللہ آسمانوں اور زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو وہ اس میں ظالم نہ ہوگا، اور اگر وہ رحمت کرنا چاہے تو اس کی رحمت تمام اعمال سے بہتر ہے۔ اگر تیرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور آپ اسے خرچ کریں تو اللہ اسے قبول نہ فرمائیں گے جب تک آپ کا تقدیر پر ایمان نہ ہو۔ آپ جان لیں جو آپ کو پہنچنے والا ہے وہ پہنچ کر ہی رہے گا اور جو آپ سے خطا کر گیا وہ آپ کو نہ پہنچ سکے گا۔ اگر اس عقیدے کے علاوہ کسی اور عقیدے پر فوت ہوا تو جہنم میں جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20874]
اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر سوال کرنا۔ میں حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے بھی مجھے ایسا ہی جواب دیا اور وہ مجھ سے کہنے لگے: زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس جانا، میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں نے ان سے سوال کیا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”اگر اللہ آسمانوں اور زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو وہ اس میں ظالم نہ ہوگا، اور اگر وہ رحمت کرنا چاہے تو اس کی رحمت تمام اعمال سے بہتر ہے۔ اگر تیرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور آپ اسے خرچ کریں تو اللہ اسے قبول نہ فرمائیں گے جب تک آپ کا تقدیر پر ایمان نہ ہو۔ آپ جان لیں جو آپ کو پہنچنے والا ہے وہ پہنچ کر ہی رہے گا اور جو آپ سے خطا کر گیا وہ آپ کو نہ پہنچ سکے گا۔ اگر اس عقیدے کے علاوہ کسی اور عقیدے پر فوت ہوا تو جہنم میں جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20874]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20875
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، فِي كِتَابِ السُّنَنِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ الْهُذَلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ رَبَاحٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ أَبِي حَفْصَةَ، قَالَ: قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ لِابْنِهِ: يَا بُنِيَّ، إِنَّكَ لَنْ تَجِدَ طَعْمَ حَقِيقَةِ الْإِيمَانِ حَتَّى تَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَمَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ الْقَلَمُ، فَقَالَ لَهُ: اكْتُبْ، قَالَ: رَبِّ، وَمَاذَا أَكْتُبُ؟ قَالَ: اكْتُبْ مَقَادِيرَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ"، يَا بُنِيَّ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ مَاتَ عَلَى غَيْرِ هَذَا فَلَيْسَ مِنِّي".
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے سے فرماتے ہیں: اے میرے بیٹے! آپ ایمان کے ذائقے کو نہیں پا سکتے، یہاں تک کہ جو چیز آپ کو پہنچنے والی ہے، وہ پہنچ کر ہی رہے گی اور جو نہیں پہنچنی وہ کبھی نہ پہنچ سکے گی؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: ”اللہ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور فرمایا: لکھ۔ اس نے کہا: اے میرے رب! میں کیا لکھوں؟ فرمایا: قیامت تک ہر چیز کی تقدیر لکھ دو۔“
اے میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو اس عقیدہ کے بغیر مرا اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20875]
اے میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو اس عقیدہ کے بغیر مرا اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20875]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 22197»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20876
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْحَجَّاجِ الْأَزْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ، قَالَ: تَعْلَمُ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ".
ابوحجاج ازدی سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ ان سے تقدیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: تو جان لے کہ جو تجھے پہنچنے والا ہے، وہ پہنچ کر ہی رہے گا اور جو تجھے نہیں پہنچنا وہ کبھی نہ ملے گا۔ [ضعیف] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20876]
حدیث نمبر: 20877
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، أنبأ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنِ الْهَيْثَمِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ ⦗٣٤٥⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ خَطَبَ النَّاسَ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ فَقَالَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ".
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں منبر پر خطبہ ارشاد فرمایا: اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں جو اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہیں رکھتا۔ [ضعیف] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20877]