السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4117. -- باب:: الاختلاف في اللعب بالشطرنج
-- باب: شطرنج کھیلنے کے بارے میں اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: Q20922
قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِذَا كَانُوا هَكَذَا - يَعْنِي: أَهْلَ الْأَهْوَاءِ، فَاللَّاعِبُ بِالشِّطْرَنْجِ وَإِنْ كَرِهْنَا لَهُ، وَبِالْحَمَامِ، وَإِنْ كَرِهْنَا لَهُ، أَخَفُّ حَالًا مِنْ هَؤُلَاءِ بِمَا لَا يُحْصَى وَلَا يُقَدَّرُ. وَإِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ لِمَا فِيهِ أَيْضًا مِنَ اخْتِلَافِ الْعُلَمَاءِ..
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور جب وہ، یعنی اہل اہواء (بدعتی)، اس طرح (مقبول الشہادۃ) ہیں، تو شطرنج کھیلنے والا، اگرچہ ہم اسے اس کے لیے ناپسند کرتے ہیں، اور کبوتر بازی کرنے والا، اگرچہ ہم اسے اس کے لیے ناپسند کرتے ہیں، ان لوگوں کے مقابلے میں اتنا زیادہ ہلکے حال والا ہے جس کا نہ شمار کیا جا سکتا ہے اور نہ اندازہ۔“
اور امام شافعی رحمہ اللہ نے یہ بات اس لیے فرمائی کہ اس (شطرنج کے مسئلے) میں بھی علماء کا اختلاف ہے... [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: Q20922]
اور امام شافعی رحمہ اللہ نے یہ بات اس لیے فرمائی کہ اس (شطرنج کے مسئلے) میں بھی علماء کا اختلاف ہے... [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: Q20922]
حدیث نمبر: 20922
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ سُلَيْمَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ: لَعِبَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ بِالشِّطْرَنْجِ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ، فَيَقُولُ:" بِأَيْشْ دَفَعَ كَذَا؟ قَالَ: بِكَذَا، قَالَ: ادْفَعْ بِكَذَا".
ربیع بن سلمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ اپنی پیٹھ کے پیچھے (بساط کو دیکھے بغیر) شطرنج کھیل لیتے تھے اور کہتے: ”اس نے فلاں مہرہ کس سے چلا؟“ وہ کہتا: ”فلاں سے۔“ فرماتے: ”تم فلاں سے چلو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20922]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20923
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، إِجَازَةً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ:" كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ يَلْعَبَانِ بِالشِّطْرَنْجِ اسْتِدْبَارًا".
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محمد بن سیرین اور ہشام بن عروہ دونوں (بساط کی طرف) پیٹھ کر کے شطرنج کھیل لیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20923]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20924
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: قَالَ مَعْمَرٌ: بَلَغَنِي أَنَّ الشَّعْبِيَّ: كَانَ يَلْعَبُ بِالشِّطْرَنْجِ، وَيَلْبَسُ مِلْحَفَةً، وَيُرْخِي شَعْرَهُ، وَذَلِكَ أَنَّهُ كَانَ مُتَوَارِيًا مِنَ الْحَجَّاجِ".
معمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ شعبی رحمہ اللہ شطرنج کھیلتے، عورتوں کی چادر اوڑھ لیتے اور اپنے بالوں کو لٹکا لیتے تھے، اور یہ اس لیے تھا کہ وہ حجاج سے چھپے ہوئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20924]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20925
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا مَعْقِلُ بْنُ مَالِكٍ الْبَاهِلِيُّ، قَالَ: خَرَجْتُ مِنَ الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ فَإِذَا رَجُلٌ قَدْ قُرِّبَتْ إِلَيْهِ دَابَّةٌ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ: مَا كَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ فِي الشِّطْرَنْجِ؟ فَقَالَ:" كَانَ لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا، وَكَانَ يَكْرَهُ النَّرْدَشِيرَ"، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: ابْنُ عَوْنٍ، وَكَانَ مُضَبِّبَ الْأَسْنَانِ بِالذَّهَبِ".
معقل بن مالک باہلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں جامع مسجد سے نکلا، اچانک ایک آدمی کے سامنے سواری لائی گئی۔ اس سے کسی آدمی نے سوال کیا: کیا حسن رحمہ اللہ شطرنج کھیلا کرتے تھے؟ وہ کہنے لگا: وہ اس میں حرج محسوس نہ کرتے تھے، لیکن «نَرْدَشِير» ”نرد شیر“ کو ناپسند کرتے تھے۔ میں نے کہا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: ابن عون رحمہ اللہ۔ وہ سونے کے دانت لگاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20925]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 20926
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَطَّارُ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّلَّامَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، قَالَ:" أَتَيْتُ الْبَصْرَةَ فِي طَلَبِ الْحَدِيثِ، فَأَتَيْتُ بَهْزَ بْنَ حَكِيمٍ فَوَجَدْتُهُ مَعَ قَوْمٍ يَلْعَبُ بِالشِّطْرَنْجِ".
احمد بن بشیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حدیث کی طلب میں بصرہ آیا، میں بہز بن حکیم رحمہ اللہ کے پاس آیا تو میں نے انہیں ایک قوم کے ساتھ شطرنج کھیلتے ہوئے پایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20926]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20927
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ، أنبأ زَكَرِيَّا السَّاجِيُّ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الرَّمَادِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ يَقُولُ:" رَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيَّ وَكَانَ يَلْعَبُ بِالشِّطْرَنْجِ". فَجَعَلَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ اللَّعِبَ بِالشِّطْرَنْجِ مِنَ الْمَسَائِلِ الْمُخْتَلَفِ فِيهَا، فِي أَنَّهُ لَا يُوجِبُ رَدَّ الشَّهَادَةِ، فَأَمَّا كَرَاهِيَةُ اللَّعِبِ بِهَا فَقَدْ صَرَّحَ بِهَا فِيمَا قَدَّمْنَا ذِكْرَهُ، وَهُوَ الْأَشْبَهُ وَالْأُولَى بِمَذْهَبِهِ، فَالَّذِينَ كَرِهُوا أَكْثَرُ، وَمَعَهُمْ مَنْ يُحْتَجُّ بِقَوْلِهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سفیان فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم ہجری کو دیکھا، وہ شطرنج کھیلا کرتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے شطرنج کھیلنے کو اختلافی مسائل میں سے شمار کیا ہے، اس معنی میں کہ یہ گواہی کے رد ہونے کو واجب نہیں کرتا، رہی اس کے کھیلنے کی کراہت تو اس کی انہوں نے صراحت کی ہے جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، اور یہی ان کے مذہب کے زیادہ مشابہ اور اولیٰ ہے، ناپسند کرنے والے زیادہ ہیں اور ان کے ساتھ وہ لوگ بھی ہیں جن کے قول سے دلیل لی جاتی ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20927]
امام شافعی رحمہ اللہ نے شطرنج کھیلنے کو اختلافی مسائل میں سے شمار کیا ہے، اس معنی میں کہ یہ گواہی کے رد ہونے کو واجب نہیں کرتا، رہی اس کے کھیلنے کی کراہت تو اس کی انہوں نے صراحت کی ہے جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، اور یہی ان کے مذہب کے زیادہ مشابہ اور اولیٰ ہے، ناپسند کرنے والے زیادہ ہیں اور ان کے ساتھ وہ لوگ بھی ہیں جن کے قول سے دلیل لی جاتی ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20927]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20928
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" الشِّطْرَنْجُ هُوَ مَيْسِرُ الْأَعَاجِمِ". هَذَا مُرْسَلٌ، وَلَكِنَّ لَهُ شَوَاهِدَ.
جعفر بن محمد، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ شطرنج عجمیوں کا جوا ہے۔
یہ روایت مرسل ہے لیکن اس کے شواہد موجود ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20928]
یہ روایت مرسل ہے لیکن اس کے شواہد موجود ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20928]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20929
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، قَالَ: مَرَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى قَوْمٍ يَلْعَبُونَ بِالشِّطْرَنْجِ فَقَالَ:" {مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ} [الأنبياء: ٥٢] ؟".
میسرہ بن حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک قوم سے گزر ہوا، وہ شطرنج کھیل رہے تھے، آپ نے فرمایا: ﴿مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ﴾ [سورة الأنبياء: 52] ”یہ کیسی صورتیں ہیں جن پر تم ٹھہرے ہوئے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20929]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20930
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، ثنا الْحُسَيْنُ، ثنا عَبْدُ اللهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا سَعْدُ بْنُ طَرِيفٍ، عَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ يَلْعَبُونَ الشِّطْرَنْجَ فَقَالَ:" {مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ} [الأنبياء: ٥٢] ؟ لَأَنْ يَمَسَّ جَمْرًا حَتَّى يُطْفَأَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمَسَّهَا".
اصبغ بن نباتہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک قوم کے پاس سے گزر ہوا، وہ شطرنج کھیل رہے تھے۔ فرمانے لگے: ﴿مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ﴾ [سورة الأنبياء: 52] یہ کیسی صورتیں ہیں جن کے اوپر تم ٹھہرے ہوتے ہو۔
وہ کوئلے کو پکڑ لیں اور ان کے ہاتھ میں بجھ جائے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شطرنج کو ہاتھ لگائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20930]
وہ کوئلے کو پکڑ لیں اور ان کے ہاتھ میں بجھ جائے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شطرنج کو ہاتھ لگائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20930]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف