🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

4125. -- باب:: ما جاء في اللعب بالبنات
-- باب: گڑیوں کے ساتھ کھیلنے کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20981
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا ⦗٣٧١⦘ قَالَتْ:" كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يَأْتِينِي صَوَاحِبِي، فَكُنَّ يَنْقَمِعْنَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَرِّبُهُنَّ إِلِيَّ، فَيَلْعَبْنَ مَعِي". قَالَ أَنَسٌ: يَنْقَمِعْنَ: يَفْرُرْنَ، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ.
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گڑیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی۔ میری سہیلیاں آتیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے وقت وہ چھپ جاتیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کو میرے پاس روانہ کرتے تاکہ وہ میرے ساتھ کھیلیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20981]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20982
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ وَقَدْ نَصَبْتُ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي عَبَاءَةً، وَعَلَى عُرْضِ بَيْتِي سِتْرًا أَرْمِنِيًّا، فَدَخَلَ الْبَيْتَ فَلَمَّا رَآهُ قَالَ:" مَا لِي يَا عَائِشَةُ وَالدُّنْيَا؟"، فَهَتَكَ السِّتْرَ حَتَّى وَقَعَ بِالْأَرْضِ، وَفِي سَهْوَتِهَا سِتْرٌ، فَهَبَّتْ رِيحٌ فَكَشَفَ نَاحِيَةَ السِّتْرِ عَنْ بَنَاتٍ لِعَائِشَةَ لُعَبٍ، فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟"، قَالَتْ: بَنَاتِي، قَالَتْ: وَرَأَى بَيْنَ طُوبِهَا فَرَسًا لَهُ جَنَاحَانِ مِنْ رُقَعٍ، قَالَ:" فَمَا هَذَا الَّذِي أَرَى فِي وَسَطِهِنَّ؟"، قَالَتْ: فَرَسٌ، قَالَ:" مَا هَذَا الَّذِي عَلَيْهِ؟"، قَالَتْ: جَنَاحَانِ، قَالَ:" فَرَسٌ لَهُ جَنَاحَانِ؟"، قَالَتْ: أَوَمَا سَمِعْتَ أَنَّ لِسُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ خَيْلًا لَهُ أَجْنِحَةٌ؟ قَالَتْ: فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ" رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ أَوْ خَيْبَرَ، وَقَدْ ثَبَتَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّهْيُ عَنِ التَّصَاوِيرِ وَالتَّمَاثِيلِ مِنْ أَوْجُهٍ كَثِيرَةٍ عَنْهُ، فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمَحْفُوظُ فِي رِوَايَةِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قُدُومَهُ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ، وَأَنَّ ذَلِكَ كَانَ قَبْلَ تَحْرِيمِ الصُّوَرِ وَالتَّمَاثِيلِ، ثُمَّ كَانَ تَحْرِيمُهَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَمِنْ جُمْلَةِ مَنْ رَوَى النَّهْيَ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَإِسْلَامُهُ كَانَ زَمَنَ خَيْبَرَ، فَيَكُونُ السَّمَاعُ بَعْدَهُ. وَفِي حَدِيثِ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ زَمَنَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ أَنْ يَأْتِيَ الْكَعْبَةَ فَيَمْحُوَ كُلَّ صُورَةٍ فِيهَا، فَلَمْ يَدْخُلْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مُحِيَتْ كُلُّ صُورَةٍ فِيهَا" قَالَ الشَّيْخُ:" زَمَنُ الْفَتْحِ كَانَ بَعْدَ خَيْبَرَ، وَأَيْضًا فَإِنَّهَا كَانَتْ صَغِيرَةً فِي الْوَقْتِ الَّذِي زُفَّتْ فِيهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهَا اللُّعَبُ، ثَبَتَ:.
ابوسلمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس آئے اور میں نے اپنے حجرہ کے دروازے پر چادر تان رکھی تھی۔ میرے گھر کی چوڑائی کی جانب پردہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے، پردہ دیکھا اور فرمایا: ”اے عائشہ! میرا دنیا سے کیا واسطہ؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ پھاڑ دیا اور زمین پر گرا دیا۔ اس طاق کے اندر میری گڑیاں تھیں۔ ہوا کے چلنے کی وجہ سے وہ نظر آنے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے عائشہ! یہ کیا ہے؟“ عرض کیا: ”میرے کھلونے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ان کے درمیان ایک گھوڑا تھا جس کے کپڑے کے پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ درمیان میں کیا ہے؟“ کہنے لگی: ”گھوڑا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس کے اوپر کیا ہے؟“ کہتی ہیں: ”اس کے دو پر۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا گھوڑے کے پر ہوتے ہیں؟“ کہنے لگیں: ”کیا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس گھوڑا تھا، اس کے پر تھے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں۔
(ب) ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک یا خیبر سے واپس ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تصاویر کی حرمت ثابت ہے، ممکن ہے یہ واقعہ حرمت سے پہلے کا ہو۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ممانعت والی حدیث کے راوی ہیں۔ یہ غزوہ خیبر کے زمانہ میں مسلمان ہوئے ہیں۔ ممکن ہے ان کا سماع بعد میں ہو۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فتح مکہ کے زمانہ میں جب وہ بطحا مقام پر تھے، حکم دیا کہ کعبہ سے تمام تصاویر ختم کر دی جائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے جب تمام صورتیں ختم کر دی گئی تھیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: فتح کا زمانہ خیبر کے بعد کا ہے۔ اس وقت وہ چھوٹی تھیں، جب ان کی رخصتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کی گئی۔ ان کے ساتھ کھلونے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20982]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20983
عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِيَ ابْنَةُ سَبْعِ سِنِينَ، وَزُفَّتْ إِلَيْهِ وَهِيَ ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ وَلُعَبُهَا مَعَهَا، وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ ابْنَةُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ⦗٣٧٢⦘ فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فَذَكَرَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الرِّوَايَاتِ أَنَّهَا كَانَتْ بَلَغَتْ مَبْلَغَ النِّسَاءِ بِغَيْرِ السِّنِّ فِي وَقْتِ زِفَافِهَا، فَيُحْتَمَلُ إِنْ كَانَ انْشِغَالُهَا بِلُعِبِهَا وَتَقْرِيرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهَا عَلَى ذَلِكَ إِلَى وَقْتِ بُلُوغِهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَعَلَى هَذَا حَمَلَهُ أَبُو عُبَيْدٍ فَقَالَ:" وَلَيْسَ وَجْهُ ذَلِكَ عِنْدَنَا إِلَّا مِنْ أَجْلِ أَنَّهَا لَهْوٌ لِلصِّبْيَانِ، فَلَوْ كَانَ لِلْكِبَارِ لَكَانَ مَكْرُوهًا" وَذَكَرَ الْحَلِيمِيُّ أَنَّهُ: إِنْ عُمِلَ مِنْ خَشَبٍ أَوْ حَجَرٍ أَوْ صُفْرٍ أَوْ نُحَاسٍ شَبَهَ آدَمَيٍّ تَامِّ الْأَطْرَافِ كَالْوَثَنِ وَجَبَ كَسْرُهُ، وَلَمْ يَجُزْ إِطْلَاقُ إِمْسَاكِهِ لَهُنَّ، فَأَمَّا إِذَا كَانَتِ الْوَاحِدَةُ مِنْهُنَّ تَأْخُذُ خِرْقَةً فَتَلُفُّهَا ثُمَّ تُشَكِّلُهَا بِشَكْلٍ مِنْ أَشْكَالِ الصَّبَايَا وَتُسَمِّيهَا بِنْتًا أَوْ أُمَّا، وَتَلْعَبُ بِهَا فَلَا تُمْنَعُ مِنْهَا"، وَذَكَرَ مَا فِي ذَلِكَ مِنَ انْبِسَاطِ قَلْبِهَا وَحُسْنِ نَشْوِهَا، وَمُمَارَسِتِهَا مُعَالَجَةَ الصِّبْيَانِ".
عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی شادی 7 سال کی عمر میں ہوئی اور رخصتی 9 سال کی عمر میں ہوئی۔ ان کے کھلونے ان کے ساتھ تھے اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو ان کی عمر 18 برس کی تھی۔
(ب) کسی بھی روایت میں یہ نہیں ہے کہ رخصتی کے وقت وہ عمر کے علاوہ (کسی اور علامت سے) عورتوں کی حد (بلوغت) کو پہنچ چکی تھیں، لہٰذا ممکن ہے کہ ان کا کھلونوں میں مشغول رہنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انہیں اس پر برقرار رکھنا ان کے بالغ ہونے کے وقت تک ہو، واللہ اعلم۔ ابوعبید نے بھی اسے اسی پر محمول کیا اور فرمایا: ”ہمارے نزدیک اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ بچوں کا کھیل ہے، اگر یہ بڑوں کے لیے ہوتا تو مکروہ ہوتا۔“ حلیمی نے بیان کیا کہ اگر لکڑی، پتھر، پیتل یا تانبے سے مکمل اعضاء والے انسان کی شکل بت کی طرح بنائی جائے تو اس کا توڑنا واجب ہے اور ان (بچیوں) کو اسے رکھنے کی اجازت نہیں، البتہ اگر ان میں سے کوئی کپڑے کا ٹکڑا لے کر اسے لپیٹے، پھر اسے بچیوں کی شکل دے اور اس کا نام بیٹی یا ماں رکھ کر اس سے کھیلے تو اسے منع نہیں کیا جائے گا۔ اور انہوں نے اس میں بچی کے دل کی خوشی، اچھی نشوونما اور بچوں کی دیکھ بھال کی مشق (کے فوائد) کا ذکر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20983]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں